Banner
Daily Sahafat Quetta
October 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواببھرم باقی رہنے دیں2300 ارب کے ٹیکس بریک دیے، نجی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کرے، وزیراعظمسنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواببھرم باقی رہنے دیں2300 ارب کے ٹیکس بریک دیے، نجی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کرے، وزیراعظم

ملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواب

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال کوئی مخصوص قانون موجود نہیں، اس لیے اتھارٹی اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عمر کی تصدیق کا نظام نافذ نہیں کرسکتی۔

پی ٹی اے نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواست پر عدالت میں تفصیلی جواب جمع کرایا۔ اتھارٹی کے مطابق بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے نئے قانونی اور پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے۔

پی ٹی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون کے تحت غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے اختیارات محدود اور مخصوص نوعیت کے ہیں، جبکہ 16 سال سے کم عمر افراد کیلئے سوشل میڈیا کی کم از کم عمر مقرر کرنے یا تمام پلیٹ فارمز پر لازمی عمر کی تصدیق نافذ کرنے کا اختیار موجود نہیں۔

اتھارٹی کے مطابق ایسا نظام متعارف کرانے کیلئے قانون سازی ضروری ہوگی، جس میں عمر کی تصدیق، صارفین کے ڈیٹا اور رازداری کے تحفظ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور خلاف ورزی پر کارروائی جیسے معاملات کا تعین کیا جائے۔

پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ آن لائن مواد کی نگرانی اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے اختیارات بھی قانونی فریم ورک کے مطابق تقسیم کیے گئے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ریگولیشن کیلئے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی قانونی گنجائش موجود ہے۔

اتھارٹی کے مطابق اب تک 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد آن لائن لنکس اور یو آر ایل کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 15 لاکھ 77 ہزار سے زائد کو بلاک کیا جاچکا ہے۔ مجموعی طور پر بلاک کیے گئے لنکس کی شرح 88.20 فیصد بتائی گئی ہے۔

پی ٹی اے نے بتایا کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کیلئے یونیسیف، ٹک ٹاک، میٹا اور جی ایس ایم اے سمیت مختلف اداروں کے ساتھ آگاہی مہمات بھی جاری ہیں۔ بچوں سے متعلق آن لائن استحصال اور مظالم کی رپورٹس کیلئے ٹول فری ہیلپ لائن 1121 بھی فعال ہے۔

پی ٹی اے نے عدالت سے استدعا کی کہ ایسے معاملات میں جس ریلیف کا مطالبہ اس کے قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہے، اس حد تک درخواست خارج کی جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس معاملے پر متعلقہ حکومتی اداروں سے جوابات طلب کیے تھے۔ عدالت میں وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ اور نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ کی جانب سے بھی جوابات جمع کرائے گئے ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *