Banner
Daily Sahafat Quetta
October 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواببھرم باقی رہنے دیں2300 ارب کے ٹیکس بریک دیے، نجی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کرے، وزیراعظمسنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواببھرم باقی رہنے دیں2300 ارب کے ٹیکس بریک دیے، نجی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کرے، وزیراعظم

بھرم باقی رہنے دیں

بھرم باقی رہنے دیں
تحریر : محمد علی حسن زئی

دنیا کا اسٹیج بھی عجیب تماشا گاہ ہے۔ اس رنگ منچ پر ہر انسان ایک وقت میں نہ جانے کتنے الگ الگ کردار نبھا رہا ہوتا ہے۔ وہی ایک وجود، جو کسی کے لیے چھاؤں دار درخت ہے، کسی دوسرے کے در پر محتاجِ نوالہ ہوتا ہے۔ نسبتوں کے اس کھیل میں انسان کی قدر و منزلت بدلتی رہتی ہے۔ کہیں وہ ایک حاکم کی حیثیت سے فیصلوں کا مختار ہے، تو کہیں ایک ملازم کی صورت میں محض احکام کا پابند۔ کہیں وہ باپ بن کر کل کائنات کا مالک دکھائی دیتا ہے، تو کہیں مزدور بن کر چند ٹکوں کی خاطر اپنی خود داری کا سودا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
ہم انسان کو اکثر صرف اسی روپ میں دیکھتے ہیں جو ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ ایک سیٹھ کی نظر میں اس کا ملازم یا مزدور محض ایک “کام کرنے والی مشین” يا چند ہزار روپوں کا خریدا ہوا ایک محتاج وجود ہوتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ یہ شخص، جو اس کی ڈانٹ خاموشی سے سن رہا ہے، جو اس کی کڑوی کسیلی باتوں پر سر جھکائے کھڑا ہے، اس کے اس جھکے ہوئے سر کے پیچھے کتنا بڑا شملہ چھپا ہوا ہے۔
صاحبِ اقتدار اور صاحبِ ثروت کو کبھی یہ سوچنے کی توفیق نہیں ملتی کہ جس شخص کی وہ لمحوں میں تذلیل کر دیتے ہیں، وہ کسی گھر کا واحد مان ہے۔ وہ اپنی بوڑھی ماں کا لاڈلا ہے، جس کی لمبی عمر کی دعاؤں پر اس کا سانس چلتا ہے؛ وہ اپنی بہن کا وہ غرور ہے، جس کے سر پر بھائی کی موجودگی کا آفتاب چمکتا ہے؛ وہ اپنی بیوی کا وہ سائبان ہے، جس کے ہوتے ہوئے اسے زمانے کی گرم ہوا کا احساس نہیں ہوتا؛ اور سب سے بڑھ کر وہ اپنے معصوم بچوں کی نظر میں اس کائنات کا سب سے بڑا “ہیرو” ہے۔
ذرا اس لمحات کا تصور کیجیے، جب وہ مزدور، دن بھر کی بے عزتی اور مشقت کا معاوضہ جیب میں ڈال کر گھر کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے۔ دن بھر کی تحقیر کے داغ وہ دروازے کے باہر ہی چھوڑ آتا ہے، اور چہرے پر ایک مصنوعی لیکن مضبوط مسکراہٹ سجا لیتا ہے۔ بچے دوڑ کر اس سے لپٹتے ہیں، تو وہ ان کے سامنے ایک بادشاہ کی طرح سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ جھوٹی موٹی کہانیاں گھڑتا ہے، بچوں کے ننھے خوابوں کو سچ کرنے کا دلاسا دیتا ہے: جانِ پدر! تمہارا باپ بہت بڑا شخص ہے، تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دے گا۔
ان جھوٹے دلاسوں اور مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی ہوئی قربانی کو اگر کوئی ناپ سکے، تو معلوم ہو کہ دنیا کا سب سے بڑا دل اسی مزدور کے سینے میں دھڑکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا بھرم قائم رکھنے کے لیے، ان کے نان و نفقہ اور خوشیوں کی خاطر، روزانہ اپنی انا کا خون کرتا ہے۔
کاش! اقتدار، مال اور مرتبے کے زعم میں مبتلا لوگ یہ بات سمجھ سکیں کہ ان کے سامنے کھڑا انسان صرف ان کا ملازم نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کی کائنات ہے۔ کسی کی مجبوری اور ضرورت کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی فکر میں آپ کے تلخ جملے پی جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی خود داری مر چکی ہے اس کے سر پہ گھر ہے وہ آپ کے چند ٹکوں سے بڑا ہے اور آپ کے رویے کی وجہ سے روز ٹوٹتا اور روز جڑتا ہے۔
اگر ہم انسان کو اس کی محض ایک نسبت (ملازم یا مزدور) کے ترازو میں تولنے کے بجائے اس کی تمام نسبتوں کا احترام کرنا سیکھ لیں، ایک انسان کا بھرم باقی رہنے دیں تو یہ معاشرہ تحقیر اور ظلم کی بستی بننے سے بچ سکتا ہے۔ وگرنہ کسی کی مجبوری کا سہارا لے کر اس کا بھرم توڑنا میرے نزدیک کائنات کی سب سے بڑی ناانصافی ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *