Banner
Daily Sahafat Quetta
October 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواببھرم باقی رہنے دیں2300 ارب کے ٹیکس بریک دیے، نجی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کرے، وزیراعظمسنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواببھرم باقی رہنے دیں2300 ارب کے ٹیکس بریک دیے، نجی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کرے، وزیراعظم

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقع

خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں آج کا دن اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سمیت مختلف آئینی آپشنز پر مشاورت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر امیر مقام کو مشاورت کے لیے وزیراعظم ہاؤس طلب کیا ہے، جہاں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور آئینی و قانونی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی صدر مملکت آصف علی زرداری اور دیگر اتحادی رہنماؤں سے بھی مشاورت متوقع ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے امکانات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

مشاورت میں صوبے کی سیاسی صورتحال، امن و امان اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سمیت دیگر اہم معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی حکام کی جانب سے آئینی حدود میں رہتے ہوئے دستیاب آپشنز پر غور کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔

ادھر خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان کو برقرار رکھا ہے، جس کے باعث وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

حتمی فیصلہ وزیراعظم کی اعلیٰ قیادت اور متعلقہ سیاسی و آئینی حلقوں سے مشاورت کے بعد متوقع ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *