Banner
Daily Sahafat Quetta
September 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانیملک سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالغفور حیدریخصوصی بچے معاشرے پر بوجھ نہیں، قومی اثاثہ ہیں، میر سیف اللہ خان کھیترانماحول کا تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمان خان ملاخیلمشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جائے، ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاعچمن میں سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہریکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقپی ٹی آئی لانگ مارچ میں کچھ ہوا تو ذمے دار کال دینے والے ہونگے، شوکت یوسفزئیایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانیملک سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالغفور حیدریخصوصی بچے معاشرے پر بوجھ نہیں، قومی اثاثہ ہیں، میر سیف اللہ خان کھیترانماحول کا تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمان خان ملاخیلمشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جائے، ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاعچمن میں سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہریکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقپی ٹی آئی لانگ مارچ میں کچھ ہوا تو ذمے دار کال دینے والے ہونگے، شوکت یوسفزئی

غربت ایک خاموش جہنم

غربت ایک خاموش جہنم

تحریر: ابوبکر دانش میروانی بلوچ

غربت دنیا کے ان مسائل میں سے ایک ہے جو بظاہر خاموش دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتے ہیں۔ غربت صرف پیسوں کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ بھوک، بے روزگاری، محرومی، بے بسی اور بنیادی سہولیات سے محرومی کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو مسلسل مشکلات میں گھیرے رکھتا ہے۔ ایک غریب شخص کے لیے زندگی کا ہر دن اپنی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد بن جاتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ غربت دنیا میں جہنم کا عکس ہے۔
ایک صاحبِ حیثیت انسان کے لیے شاید یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو کہ کسی گھر میں بچوں کے درمیان ایک روٹی تقسیم کرنا کتنی بڑی آزمائش ہو سکتی ہے۔ مگر دنیا میں ایسے بے شمار خاندان موجود ہیں جہاں والدین اپنی اولاد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن محدود آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث پھر بھی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ کسی گھر میں فیس ادا نہ ہونے کے باعث بچہ اسکول چھوڑ دیتا ہے، کسی گھر میں بیماری علاج کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور کہیں چولہا جلانے کے لیے بھی وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔
غربت کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، مگر جب وہ غربت کے ہاتھوں تعلیم سے محروم ہو جائیں تو صرف ایک بچے کا مستقبل متاثر نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم کی ترقی رک جاتی ہے۔ بہت سے بچے کم عمری میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم کے بجائے محنت کے اوزار آ جاتے ہیں۔ وہ کھیلنے اور سیکھنے کی عمر میں اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے لگتے ہیں۔
غربت انسان کی عزتِ نفس کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ سفید پوش طبقہ اپنی ضروریات اور مشکلات دوسروں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض لوگ مدد مانگنے کے بجائے اپنی بھوک اور پریشانی برداشت کر لیتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی خودداری عزیز ہوتی ہے۔ ایسے افراد کی خاموشی کو سمجھنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہر ضرورت مند شخص ہاتھ پھیلانے والا نہیں ہوتا، کچھ لوگ حالات سے لڑتے ہوئے خاموشی سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں غربت کے کئی اسباب ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، کم اجرت، تعلیم کی کمی، ہنر کے مواقع کا فقدان، صحت کی ناکافی سہولیات اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم غریب خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ جب آمدنی محدود ہو اور روزمرہ زندگی کے اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں تو متوسط طبقہ بھی مالی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یوں غربت کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔
غربت کے خاتمے کے لیے صرف وقتی امداد کافی نہیں۔ راشن، کپڑے اور مالی مدد ضرورت کے وقت یقیناً اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن مستقل حل یہ ہے کہ لوگوں کو روزگار، ہنر، معیاری تعلیم اور باعزت آمدنی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ایک غریب نوجوان کو ہنر سکھا کر روزگار کے قابل بنا دینا محض ایک فرد کی مدد نہیں بلکہ پورے خاندان کو خود انحصاری کی طرف لے جانے کے برابر ہے۔
اسلام نے بھی ضرورت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور کمزور طبقات کی مدد کو بڑی اہمیت دی ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے معاشرے کے محروم افراد کا سہارا بننے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اگر صاحبِ حیثیت افراد اپنے اردگرد موجود مستحق خاندانوں کی ضروریات کا خیال رکھیں اور امداد کو عزت و احترام کے ساتھ منظم انداز میں پہنچایا جائے تو معاشرے میں بہت سی محرومیاں کم کی جا سکتی ہیں۔
حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کرے، تعلیم اور صحت کی سہولیات بہتر بنائے، مزدور کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملنے کو یقینی بنائے اور کم آمدنی والے طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ اسی طرح معاشرے کے صاحبِ ثروت افراد، کاروباری اداروں اور فلاحی تنظیموں کو بھی غربت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
حقیقی ترقی بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید منصوبوں سے آگے بڑھ کر اس وقت نظر آتی ہے جب معاشرے کا غریب ترین فرد بھی دو وقت کی روٹی، علاج، تعلیم اور باعزت روزگار کی سہولت حاصل کر سکے۔ اگر ایک طرف دولت کے انبار ہوں اور دوسری طرف انسان بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہا ہو تو ایسی ترقی پر سوال ضرور اٹھتا ہے۔
غربت کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد موجود ضرورت مند انسانوں کو تلاش کرنا ہوگا، ان کی مدد کرنی ہوگی اور انہیں محض وقتی سہارا دینے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ کیونکہ جہنم کا عکس صرف آگ اور عذاب میں نہیں، کبھی کبھی وہ بھوک سے بلکتے بچے، علاج کو ترستا مریض اور بے روزگاری سے پریشان باپ کی آنکھوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم اس عکس کو بدلنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *