Banner
Daily Sahafat Quetta
September 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
صوبائی وزیر تعلیم کا گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کا دورہخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر، صوبائی حکومت کی گورننس پر سنگین سوالاتملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ؛ 86 لوڈر رکشوں میں 48 ہزار لیٹر پیٹرول کے استعمال کا انکشافوطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1گورنر راج لگانے کیلئے جتنے عناصر درکار ہوتے ہیں وہ کے پی حکومت مہیا کر چکی، اختیار ولیگیس صارفین کیلئے بڑی خبر، یکساں ٹیرف لانے کا فیصلہسول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کر دیاافغان سرزمین سے دہشتگردی کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی ملک کی خاطر حکومت اور ریاست کا ساتھ دے، سینئر رہنما کا پارٹی قیادت کو خطصوبائی وزیر تعلیم کا گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کا دورہخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر، صوبائی حکومت کی گورننس پر سنگین سوالاتملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ؛ 86 لوڈر رکشوں میں 48 ہزار لیٹر پیٹرول کے استعمال کا انکشافوطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے1945 کے بعد عالمی اثر و رسوخ: طاقت، قرض اور اداروں کا نظام۔قسط1گورنر راج لگانے کیلئے جتنے عناصر درکار ہوتے ہیں وہ کے پی حکومت مہیا کر چکی، اختیار ولیگیس صارفین کیلئے بڑی خبر، یکساں ٹیرف لانے کا فیصلہسول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کر دیاافغان سرزمین سے دہشتگردی کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی ملک کی خاطر حکومت اور ریاست کا ساتھ دے، سینئر رہنما کا پارٹی قیادت کو خط

سول اور فوجداری مقدمات بیک وقت چل سکتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کر دیا

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے اراضی سے متعلق مبینہ جعلسازی اور فراڈ کیس میں اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی سول مقدمے کے زیرِ سماعت ہونے کی بنیاد پر فوجداری کارروائی ختم یا معطل نہیں کی جاسکتی۔

جسٹس محمد امجد پرویز نے اللہ وسایا کی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سول اور فوجداری مقدمات بیک وقت جاری رہ سکتے ہیں، جبکہ محض سول تنازع کی موجودگی فوجداری کارروائی روکنے کے لیے کافی نہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اگر جعلسازی کا مبینہ جرم سول مقدمہ دائر ہونے سے پہلے ہوا ہو تو ایسی صورت میں دفعہ 195(1)(c) کا اطلاق نہیں ہوگا اور فوجداری مقدمہ قانون کے مطابق معمول کے طریقہ کار کے تحت آگے بڑھے گا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تفتیش کے مرحلے پر فوجداری مقدمات میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا بھی عمومی طور پر جواز نہیں بنتا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *