Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دیوالی کا تہوار اندھیروں پر اجالے، نیکی کی بدی پر فتح اور امید کی علامت ہے، فیاض محمود شیخکیچ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، میر ظہور احمد بلیدی کی ہدایتمحمد زاہد کے بے روزگار دوست کو روزگار کے لیے رکشہ تحفے میں دے دیا، وزیراعلیٰ بلوچستان۔نوجوان نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سردار کوہیار خان ڈومکیسکول مکمل ہونے سے پہلے اساتذہ کی بھرتی کے اشتہارات جاری کیے جائیں، شکیل قادر خانبلوچستان میں گورنر راج کے نفاذکا علم نہیں، یہ اسلام آباد کے صاحب اختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہے، گورنر بلوچستانکوئٹہ: سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر دھاوا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کی مذمت، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، مولانا عبدالرحمن رفیققلعہ سیف اللہ: مولانا فضل الرحمان کے گھر کی غیر قانونی ویڈیو بنانے کے خلاف جمیعت علماء اسلام کا شدید احتجاج، مذمتی مظاہرہایران سے ایل پی جی کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو فی کلو ایک ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، کاشف حیدریقلات سنگداس چیک پوسٹ عذاب بن چکا ہے، سید صادق آغادیوالی کا تہوار اندھیروں پر اجالے، نیکی کی بدی پر فتح اور امید کی علامت ہے، فیاض محمود شیخکیچ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، میر ظہور احمد بلیدی کی ہدایتمحمد زاہد کے بے روزگار دوست کو روزگار کے لیے رکشہ تحفے میں دے دیا، وزیراعلیٰ بلوچستان۔نوجوان نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سردار کوہیار خان ڈومکیسکول مکمل ہونے سے پہلے اساتذہ کی بھرتی کے اشتہارات جاری کیے جائیں، شکیل قادر خانبلوچستان میں گورنر راج کے نفاذکا علم نہیں، یہ اسلام آباد کے صاحب اختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہے، گورنر بلوچستانکوئٹہ: سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر دھاوا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کی مذمت، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، مولانا عبدالرحمن رفیققلعہ سیف اللہ: مولانا فضل الرحمان کے گھر کی غیر قانونی ویڈیو بنانے کے خلاف جمیعت علماء اسلام کا شدید احتجاج، مذمتی مظاہرہایران سے ایل پی جی کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو فی کلو ایک ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، کاشف حیدریقلات سنگداس چیک پوسٹ عذاب بن چکا ہے، سید صادق آغا

تعارف متکلمین

تعارف متکلمین
تحریر، شکیل گوندل

پیارے قارئین اللہ رب العزت نے مجھے ماشاءاللہ چار ھونہار پڑھے لکھے اور نہایت ھی فرمانبردار بچوں سے نوازا ھوا ھے۔
ماشاءاللہ دو بیٹیاں اور دو ھی بیٹے ھیں۔شکر الحمد للہ چاروں ھی شادی شدہ اور صد شکر کہ چاروں ھی صاحب اولاد ھیں۔اللہ رب العزت کے خاص کرم اور ان کی والدہ کی تربیت سے چاروں ھی باھمت حوصلہ مند اور بڑوں سے دعائیں لینے کا وصف بھی اچھی طرح جانتے ھیں۔چونکہ دونوں بیٹے اس کتاب کے مرکزی کردار یعنی متکلمین ھونے کی وجہ سے اھم ھیں لہذا ان دونوں کا تعارف بھی تفصیل سے کراوں گا۔
بڑے بیٹے کا نام محمد علی شکیل ھے وہ ایم بی اے کئے ھوئے اور اج کل فوجی فاؤنڈیشن کے ذیلی ادارے ایسٹریج نامی ھسپتال کے بلنگ ڈیپارٹمنٹ کا انچارج ھے یہ جدید ہسپتال ضروری سازو سامان بہترین بلڈنگ اور تجربہ کار سٹاف سمیت تمام ضروری طبی سہولیات کا حامل ھے۔مجھے بھی پاوں میں چوٹ کی وجہ سے جانے کا اتفاق ھوا بہت ھی بہترین اور وی آئی پی ھسپتال ھے۔مجھے تو اس لئے بھی بے حد پسند آیا کہ رش بالکل نہیں کیونکہ اس سے متصل فوجی فاونڈیشن ھسپتال ھے جہاں سابقہ فوجیوں اور ان کے اھل خانہ کا فری علاج ھوتا ھے۔جبکہ ایسٹریج ھسپتال کا ذیادہ لوگوں کو علم بھی نہیں۔علاوہ ازیں یہ ھسپتال نسبتاً مہنگا بھی ھے۔
محمد علی شکیل کی اپنی بڑی خالہ جان کی پیاری بیٹی سے اس کی پسند کے مطابق شادی ھوئی ھے۔اس کے سسر خالو اور میرے پیارے بھائی فاروق احمد گوندل ریٹائرڈ کرنل اور بے حد نفیس ھنس مکھ ھر دلعزیز اور زیرک انسان ھیں۔محمد علی شکیل کی ایک بہت ھی پیاری معصوم اور نرم و نازک بیٹی مریم علی ھے۔
چھوٹا بیٹا محمد عمر شکیل کیمسٹری میں ایم فل کئیے ھوئیےھے اور اے پی ایس چکلالہ میں عرصہ چھ سال سے سائنس ٹیچر ھے۔لماشاءاللہ اس کا شمار اب ادارے کے سینئر اور قابل اساتذہ میں ھوتا ھے۔اس کی شادی بھی اس کی چھوٹی خالہ کی ھونہار قابل اور پڑھی لکھی بیٹی سے اس کی اپنی پسند سے ھوئی ھے۔اس کے سسر خالو میرے پیارے بھائی عظمت اللہ گوندل سینئر مدرس اور خوشحال زمین دار ھیں۔یہ بھی ماشاءاللہ سماجی طور پر اپنے علاقے بوسال ضلع منڈی بہاوالدین میں بے حد مقبول اور مخیر انسان ھیں۔ ماشاءاللہ محمد عمر شکیل کے دو پیارے پیارے اور ذھین بیٹے محمد عیسی عمر اور محمد موسی عمر ھیں۔
شکر الحمدللہ رات کو دونوں گھر آ جاتے ھیں ھمارے لئے یہ رب العالمین کا خصوصی فضل اور احسان ھے بنا بریں ایں کہ دونوں بھائیوں ان کی بیویوں اور بچوں میں بہت اتفاق ھے۔اج کے نفسا نفسی اور مادیت پرستی کے دور میں ایک دوسرے کا احساس اور محبت بہت انمول چیز ھے۔ان دونوں بلکہ ھمارے چاروں بچوں کے پاس یہ خوبی تربیت کے ساتھ ساتھ ھم والدین سے توارثی اثرات کے تحت ودیعت ھوئی ھے۔صد شکر کہ بچوں اور انکے اھل خانہ میں بھی اتفاق و احساس ھے۔ماشاءاللہ صرف یہ دونوں ھی نہیں بلکہ چاروں ھی بچے اپنے انداز سے ھم والدین کا بھی بے حد خیال رکھتے ھیں اور اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ ھمارے لباس و دیگر ضروریات پر بھی بھر پور توجہ کر کے ھمارے دلوں سے دعائیں اگلوا لیا کرتے ھیں۔یہ ھماری بھی خوش نصیبی ھے اور بچوں کی بھی خوش قسمتی ھے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *