Banner
Daily Sahafat Quetta
October 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے حملے کی کوشش ناکام، فورسز نے 5 ڈرون مار گرائے80 روپے فی لیٹر لیوی لے رہے ہیں، کمی نہیں ہو گی، بجٹ میں غور کریں گے، احسن اقبالپیپلزپارٹی وفد نے اپوزیشن لیڈر کو بلاول بھٹو کا پیغام پہنچا دیا‘سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا رہیں گے’ پی ٹی آئی کا اعلانترقیاتی خواب اور بدعنوانی کا عذابفتنۃ الہندوستان کے سہولت کاروں کا دہشت گرد عناصر سے لاتعلقی کا اعلان، اہم انکشافات سامنے آگئےامریکا ایران معاہدے کے قریب، امریکی نمائندے ٹام بیرک نے قطر اور پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرلیامکہ مکرمہ کی جانب حوثیوں کا ڈرون، سعودی اتحادی فوج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کردیادسمبر، جنوری اور فروری بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین مہینے ہونے کا خدشہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2129/29-10-2026بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے حملے کی کوشش ناکام، فورسز نے 5 ڈرون مار گرائے80 روپے فی لیٹر لیوی لے رہے ہیں، کمی نہیں ہو گی، بجٹ میں غور کریں گے، احسن اقبالپیپلزپارٹی وفد نے اپوزیشن لیڈر کو بلاول بھٹو کا پیغام پہنچا دیا‘سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا رہیں گے’ پی ٹی آئی کا اعلانترقیاتی خواب اور بدعنوانی کا عذابفتنۃ الہندوستان کے سہولت کاروں کا دہشت گرد عناصر سے لاتعلقی کا اعلان، اہم انکشافات سامنے آگئےامریکا ایران معاہدے کے قریب، امریکی نمائندے ٹام بیرک نے قطر اور پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرلیامکہ مکرمہ کی جانب حوثیوں کا ڈرون، سعودی اتحادی فوج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کردیادسمبر، جنوری اور فروری بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین مہینے ہونے کا خدشہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2129/29-10-2026

ترقیاتی خواب اور بدعنوانی کا عذاب

ہمارے ملک عزیز و عظیم پاکستان کا صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال صوبہ ہے، لیکن یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ یہاں کی اکثریت آج بھی بنیادی انسانی سہولیات اور ترقی کے ثمرات سے یکسر محروم چلی آ رہی ہے۔ اس تاریخی محرومی کا سبب فنڈز کی کمی یا وفاق کی بے رخی نہیں بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ عوام کے نام پر آنے والے وسائل عوام تک پہنچتے ہی نہیں۔ حالیہ مہینوں میں کروڑوں اور اربوں روپے کے جو مالیاتی اسکینڈلز منظر عام پر آئے ہیں، انہوں نے صوبے کے نگرانی، آڈٹ اور احتساب کے پورے نظام کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوامی خزانے کو کس بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔
سرکاری دستاویزات اور مصدقہ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ لوٹ مار کسی ایک محکمے تک محدود نہیں ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے محکمہ کھیل میں مالی سال دو ہزار چوبیس سے چھبیس کے دوران دو ارب پندرہ کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ غبن کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، یہ وہی خطیر رقم تھی جو صوبے کے پسماندہ نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع اور اسپورٹس کمپلیکسز کی صورت میں مستقبل دینے کے لیے مختص تھی۔ اسی طرح لسبیلہ اور حب کے صنعتی حلقوں کی جانب سے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منصوبوں میں تقریباً بارہ ارب روپے کی بے ضابطگیوں، فنڈز کے ضیاع اور فیکٹریوں سے کروڑوں روپے کی ماہانہ غیر قانونی وصولیوں کے الزامات نے صنعتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا ہے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، محکمہ آبپاشی میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیوں کے ساتھ سرکاری ہیوی مشینری کو اونے پونے داموں من پسند افراد میں بانٹنے کا انکشاف بھی ہوا ہے جس پر متعدد افسران کے خلاف مقدمات درج ہو چکے ہیں، جبکہ محکمہ اوقاف کی ستر ایکڑ قیمتی سرکاری زمین پر قبضہ اور اس سے جڑے کروڑوں کے ریونیو کا غبن اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کی اپنی زمین بھی محفوظ نہیں رہی۔
یہ اعداد و شمار محض فائلوں کا حصہ نہیں، یہ اس ناانصافی کی داستان ہیں جو بلوچستان کے عام آدمی کے دل میں مایوسی اور احساس محرومی کو جنم دیتی ہے اور یہی مایوسی پھر بدامنی کا ایندھن بنتی ہے۔ بلوچستان میں امن کا راستہ درحقیقت گڈ گورننس کی شاہراہ سے ہو کر گزرتا ہے اور جب تک عوامی فنڈز زمینی سطح پر ترقی کے بجائے چند طاقتور طبقات کی تجوریاں بھرتے رہیں گے، یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
اس دلدل سے نکلنے کے لیے اب روایتی بیانات، معطلیوں اور سست رفتار انکوائریوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ انقلابی اور ساختیاتی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ سب سے پہلا قدم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای گورننس کا مکمل نفاذ ہے۔ تمام محکموں خصوصاً بی ڈی اے، آبپاشی اور کھیل کے فنڈز کی منتقلی اور ٹینڈرز کے پورے نظام کو آن لائن کر کے وفاق اور صوبے سے ریلیز ہونے والے ایک ایک روپے کا ریکارڈ پبلک پورٹل پر لانا ہوگا تاکہ عوام اور صحافی خود اس کی نگرانی کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا آڈٹ صرف سرکاری آڈیٹرز تک محدود رکھنے کے بجائے معتبر نجی آڈٹ فرمز سے کروانا ضروری ہے تاکہ رپورٹ کسی سیاسی یا قبائلی دباؤ سے پاک ہو سکے۔ دوسرا اہم پہلو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہے، جب تک فنڈز کوئٹہ کے سول سیکرٹریٹ میں محصور رکھا جائے گا بیوروکریسی کی صوابدید پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا، اس لیے فنڈز کو بااختیار بلدیاتی نظام کے حوالے کرنا ہوگا۔ اور آخر میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور نیب کو سیاسی مداخلت سے پاک کر کے مکمل خودمختاری دینا ہوگی تاکہ وہ بااثر ترین افراد کے خلاف بھی بلا خوف کارروائی اور لوٹی گئی رقم کی واپسی ممکن بنا سکیں، جبکہ اندر سے کرپشن کی نشاندہی کرنے والے دیانتدار افسران اور شہریوں کے تحفظ کے لیے وہسل بلور پروٹیکشن جیسے سخت قوانین بھی لانا ہوں گے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل اب مزید فنڈز مانگنے یا نئے پیکجز کے اعلانات میں نہیں بلکہ پہلے سے موجود وسائل کے شفاف اور ایماندارانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ اگر آج بھی احتساب کا کڑا اور بے لاگ نظام نافذ نہ کیا گیا تو کرپشن کا یہ ناسور صوبے کی رہی سہی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دے گا۔ اس لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور تمام مقتدر قوتوں کو چاہیے کہ وہ ان حالیہ اسکینڈلز کو محض فائل سمجھ کر ردی کی ٹوکری کی نذر نہ کریں بلکہ ملوث کرداروں کو عبرت کا نشان بنا کر گڈ گورننس کی ایک نئی تاریخ رقم کریں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *