Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم باغ اور گردونواح میں بجلی کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، ماجد سلیمگنداخہ: مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم میں زمینداروں کا نہری پانی کی کمی اور بھل صفائی کے حوالے سے اہم اجلاسیومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، سردار بابا غلام رسول عمرانی27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، سینیٹر ثناء جمالیمتوسط طبقہ: نہ غربت کی فہرست میں، نہ آسودگی کی دنیا میںفرعونیت، درندگی اور ایک معصوم کی دردناک موتحبا فواد کاکڑ کی چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکتTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026مسلم باغ اور گردونواح میں بجلی کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، ماجد سلیمگنداخہ: مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم میں زمینداروں کا نہری پانی کی کمی اور بھل صفائی کے حوالے سے اہم اجلاسیومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، سردار بابا غلام رسول عمرانی27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، سینیٹر ثناء جمالیمتوسط طبقہ: نہ غربت کی فہرست میں، نہ آسودگی کی دنیا میںفرعونیت، درندگی اور ایک معصوم کی دردناک موتحبا فواد کاکڑ کی چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکتTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026

متوسط طبقہ: نہ غربت کی فہرست میں، نہ آسودگی کی دنیا میں

تحریر: میر احمد مینگل

پاکستان میں معاشی بحران کا ذکر ہو تو عموماً دو طبقات ہماری گفتگو کا حصہ بنتے ہیں. ایک وہ غریب جو دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، اور دوسرا وہ امیر جس کے لیے مہنگائی محض اخراجات میں معمولی اضافے کا نام ہے۔ مگر ان دونوں کے درمیان ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو بظاہر باعزت، خودمختار اور معاشی طور پر مستحکم دکھائی دیتا ہے، لیکن اندر ہی اندر ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کی آواز نہ ایوانِ اقتدار تک پہنچتی ہے، نہ پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کرتی ہے۔ یہ پاکستان کا متوسط طبقہ ہے، جو اپنی عزتِ نفس برقرار رکھنے کی کوشش میں مسلسل اپنی خواہشات، ضروریات اور مستقبل کی امیدوں کی قربانی دے رہا ہے۔

یہ وہ طبقہ ہے جو صبح گھر سے نکلتے وقت اپنی ذمہ داریوں کی فہرست ذہن میں رکھتا ہے۔ کسی نے بچوں کی اسکول فیس جمع کرانی ہے، کسی نے بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے ہیں، کسی نے گھر کا کرایہ دینا ہے، کسی نے والدین کی دوائی خریدنی ہے اور کسی نے مہینے کے آخری دنوں کے لیے کچھ رقم بچا کر رکھنی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ مہینے کی پہلی تاریخ کو ملنے والی تنخواہ اکثر اگلی تنخواہ آنے سے پہلے ہی اپنی منزلیں طے کر چکی ہوتی ہے۔ تنخواہ دار شخص پورا مہینہ کام کرتا ہے، لیکن مہینے کے اختتام پر جب وہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے زندگی گزارنے کے بجائے صرف اخراجات پورے کیے ہیں۔

پاکستان خاص طور پر بلوچستان کے متوسط طبقے کا المیہ یہ ہے کہ اس کی مشکلات اکثر سرکاری اعداد و شمار اور عوامی مباحث کے درمیان کہیں گم ہو جاتی ہیں۔ وہ اتنا غریب نہیں سمجھا جاتا کہ اسے فوری امداد کا مستحق قرار دیا جائے، اور اتنا امیر بھی نہیں کہ معاشی بحران کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھ سکے. ایک سرکاری ملازم، بینک کا اہلکار، اسکول کا استاد، نجی ادارے میں کام کرنے والا نوجوان، چھوٹا دکاندار یا محدود آمدنی والا پیشہ ور بظاہر معاشرے کا فعال شہری ہے۔ اس کے پاس ملازمت ہے، ماہانہ آمدنی ہے اور بظاہر ایک معمول کی زندگی بھی ہے۔ مگر اس معمول کے پیچھے کتنی محرومیاں، کتنے سمجھوتے اور کتنی بے یقینی چھپی ہوئی ہے، اس کا اندازہ صرف وہی شخص لگا سکتا ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ماہ حساب کتاب کی ایک نئی جنگ لڑتا ہے۔

اس طبقے کی سب سے بڑی محرومی صرف پیسوں کی کمی نہیں، بلکہ مستقبل کے بارے میں اعتماد کی کمی ہے۔ پہلے ایک نوجوان تعلیم حاصل کرتا تھا تو اسے امید ہوتی تھی کہ ملازمت ملے گی، گھر بنے گا، بچوں کی تعلیم بہتر ہوگی اور آنے والی نسل اس سے زیادہ آسودہ زندگی گزارے گی۔ آج بہت سے نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار کی تلاش میں ہیں، جبکہ ملازمت کرنے والے افراد بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کی موجودہ آمدنی مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے کافی ہوگی یا نہیں۔

ہم مہنگائی کو عموماً اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے طور پر بیان کرتے ہیں، جب بجلی کا بل بڑھتا ہے تو گھرانہ صرف بجلی کا خرچ نہیں بڑھاتا، بلکہ کسی دوسری ضرورت میں کمی کرتا ہے۔ جب بچوں کی فیس میں اضافہ ہوتا ہے تو والدین اپنے ذاتی اخراجات کم کرتے ہیں۔ جب علاج مہنگا ہوتا ہے تو مریض انتظار کرتا ہے۔ جب گھر کا کرایہ بڑھتا ہے تو اپنا مکان بنانے کا خواب مزید دور چلا جاتا ہے۔اور متوسط طبقے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات کے باوجود زندگی کو کسی نہ کسی طرح آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اضافی کام کرتا ہے، اخراجات کم کرتا ہے، بچوں کی ضروریات کو ترجیح دیتا ہے اور اپنی خواہشات کو مؤخر کر دیتا ہے۔ لیکن معاشرتی سطح پر اسی برداشت کو بعض اوقات اس طرح دیکھا جاتا ہے جیسے شہری ہر نئی مشکل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ کسی انسان کا مشکل حالات میں خود کو سنبھالنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ حالات مناسب ہیں.

اگر ہم بلوچستان، و دیگر دور دراز علاقوں کی مثالیں لیں تو متوسط طبقے کی مشکلات ایک الگ نوعیت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہاں معاشی دباؤ کے ساتھ بنیادی سہولیات تک محدود رسائی، روزگار کے کم مواقع، طویل سفری فاصلے اور تعلیمی و طبی اداروں کی استعداد جیسے مسائل بھی زندگی کو مشکل بناتے ہیں۔ ایک خاندان کو معیاری علاج کے لیے دوسرے شہر جانا پڑ سکتا ہے۔ بہتر تعلیم کے لیے بچوں کو گھر سے دور بھیجنے کا خرچ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمت حاصل نہیں کر پاتے۔ چھوٹے کاروبار بجلی، ٹرانسپورٹ، سرمایہ اور منڈی تک رسائی کے مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں متوسط طبقے کی آمدنی کا موازنہ صرف اس کی ماہانہ تنخواہ سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے اسے کتنے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں اور اس کے پاس ترقی کے کتنے حقیقی مواقع موجود ہیں۔

نوجوان آبادی کو قومی سرمایہ کہا جاتا ہے، لیکن نوجوان صرف آبادی کے اعداد و شمار سے سرمایہ نہیں بنتے۔ انہیں معیاری تعلیم، ہنر، پیداواری روزگار، کاروباری مواقع، میرٹ اور ادارہ جاتی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے. متوسط طبقے کو درپیش مسائل کا حل کسی ایک اعلان، عارضی سبسڈی یا وقتی ریلیف پیکیج میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو شہریوں کے اخراجات، ریاست کی ذمہ داریوں اور معاشی مواقع کے درمیان توازن پیدا کریں۔ سب سے پہلے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مضبوط بنانا ہوگا۔ بجلی، پانی، صحت، تعلیم اور پبلک ٹرانسپورٹ، دوسرا، ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ اور وسیع بنایا جائے اور تیسرا، روزگار کی ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو محض ملازمتوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے معیار، آمدنی، استحکام اور ترقی کے امکانات کو بھی اہمیت دیں.

پاکستان کے متوسط طبقے کی کہانی صرف مہنگائی، بجلی کے بلوں یا گھریلو بجٹ کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے معاشی وعدے کی کہانی ہے جس کے مطابق تعلیم، محنت، دیانت داری اور ذمہ داری سے ایک بہتر زندگی حاصل کی جا سکتی تھی۔ آج اسی طبقے کا ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، ملازمت کر رہا ہے، ٹیکس ادا کر رہا ہے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے مسلسل محنت کر رہا ہے، تو پھر بنیادی معاشی تحفظ اس کی پہنچ سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ کیونکہ جس معاشرے میں محنت کرنے والا شخص اپنے مستقبل سے خوف زدہ ہو، تعلیم یافتہ نوجوان اپنے ملک میں امکانات تلاش نہ کر سکے اور ایک ذمہ دار شہری اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل سمجھوتے کرتا رہے، وہاں بحران صرف معیشت کا نہیں رہتا وہ ریاست، سماج اور مستقبل کے درمیان قائم اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔ اور شاید آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت اسی اعتماد کو بحال کرنے کی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *