Banner
Daily Sahafat Quetta
October 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جن ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے، انہیں ہتھیار تھما دیے گئے بلوچ خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کا مکروہ دھندہطلبہ سیاست پشتون قومی تحریک کا اہم حصہ ہے ، خوشحال خان کاکڑحکمران غیروں کے ڈالرز کی خاطر عوام کو آپریشنز کی بھینٹ چڑھانا بند کریں،مولانا محمود الحسن قاسمیمدارس کی خودمختاری اور نصاب پر حملے کی صورت میں بھرپور مزاحمت کی جائے گی،مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ:سردار اور نواب کو ختم کرنے کے حوالے سے قرارداد لائی گئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ترہے،نواب محمد خان شاہوانیجمہوریت کے تسلسل سے ہی تمام چیلنجز کا پائیدار حل ممکن ہے ،حافظ حمد اللہعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے ،بخت محمد کاکڑغیر قانونی مقیم افراد کی واپسی سے بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، حمزہ شفقاتدہشت گرد کمانڈر کی ہلاکت موثر حکمت عملی کا ثبوت ہے، ضیاءاللہ لانگورفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام یَس 2026 ایکسپو اور ایوارڈز، نوجوان کاروباری شخصیات اور Innovators کے اعزاز میں تقریبجن ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے، انہیں ہتھیار تھما دیے گئے بلوچ خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کا مکروہ دھندہطلبہ سیاست پشتون قومی تحریک کا اہم حصہ ہے ، خوشحال خان کاکڑحکمران غیروں کے ڈالرز کی خاطر عوام کو آپریشنز کی بھینٹ چڑھانا بند کریں،مولانا محمود الحسن قاسمیمدارس کی خودمختاری اور نصاب پر حملے کی صورت میں بھرپور مزاحمت کی جائے گی،مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ:سردار اور نواب کو ختم کرنے کے حوالے سے قرارداد لائی گئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ترہے،نواب محمد خان شاہوانیجمہوریت کے تسلسل سے ہی تمام چیلنجز کا پائیدار حل ممکن ہے ،حافظ حمد اللہعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے ،بخت محمد کاکڑغیر قانونی مقیم افراد کی واپسی سے بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، حمزہ شفقاتدہشت گرد کمانڈر کی ہلاکت موثر حکمت عملی کا ثبوت ہے، ضیاءاللہ لانگورفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام یَس 2026 ایکسپو اور ایوارڈز، نوجوان کاروباری شخصیات اور Innovators کے اعزاز میں تقریب

ریاست مخالف مواد کا مقدمہ؛ اقرارالحسن کے جسمانی ریمانڈ کا حکم چیلنج

کراچی (کورٹ رپورٹر): عوام راج پارٹی کے سربراہ اور اینکر اقرار الحسن کے خلاف ریاست مخالف مواد کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ دینے کا حکم سیشن عدالت شرقی میں چیلنج کردیا گیا۔ عدالت نے درخواست پر تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے طلب کرلیا۔

اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے مجسٹریٹ کی جانب سے جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم میں جسمانی ریمانڈ دینے کے لیے ٹھوس اور غیر معمولی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، حالانکہ کسی ملزم کو جسمانی تحویل میں دینے کے لیے واضح جواز ضروری ہے۔

درخواست میں وکیل صفائی نے بتایا کہ اقرار الحسن کے چار موبائل فون اور ایک ٹیبلٹ پہلے ہی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحویل میں ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ آلات کا فرانزک تجزیہ کرنے کے لیے اقرار الحسن کو جسمانی ریمانڈ پر رکھنا ضروری نہیں، کیونکہ تفتیشی ادارہ ان آلات تک پہلے ہی رسائی رکھتا ہے۔

میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ جسمانی ریمانڈ کے بغیر بھی موبائل فونز اور ٹیبلٹ کا فرانزک تجزیہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے متعلقہ معلومات حاصل کرنے کا عمل بھی جاری رکھا جاسکتا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جسمانی ریمانڈ دینے کا حکم کالعدم قرار دے کر این سی سی آئی اے کو ملزم کی جسمانی تحویل کے بغیر تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ صحافی کو سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر جسمانی ریمانڈ پر دینے سے آزادی اظہار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم یہ مؤقف درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کے حتمی قانونی پہلوؤں کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے سیشن عدالت شرقی نے تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کردیا۔ جسمانی ریمانڈ کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر عدالت کی آئندہ کارروائی کا انتظار ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *