Banner
Daily Sahafat Quetta
September 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر حاجی صلاح الدین خان نورزئی جاں بحق ہوگئےتاترہ اچکزئی کی وارنٹ گرفتاری جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1181/2-9-2026سردار عطااللہ مینگل کی بلوچ قومی سیاست کیلئے جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے، نیشنل پارٹینوشکی، خاران کراس کے قریب گاڑی نہ روکنے پر مبینہ فائرنگمارچ 2027 میں بلوچستان کے 5 سینیٹرز سمیت بڑی تعداد میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گےمتحدہ عرب امارات میں رمضان کے پہلے روزے کی متوقع تاریخ سامنے آگئیخواتین اور ہنرمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری،50 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کا بڑا اعلانمہرگڑھ پر ڈرون حملہ قابلِ مذمت ہے، اسلم رئیسانینوڈیرو میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے نوجوان رحمان علی جاں بحقکوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر حاجی صلاح الدین خان نورزئی جاں بحق ہوگئےتاترہ اچکزئی کی وارنٹ گرفتاری جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1181/2-9-2026سردار عطااللہ مینگل کی بلوچ قومی سیاست کیلئے جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے، نیشنل پارٹینوشکی، خاران کراس کے قریب گاڑی نہ روکنے پر مبینہ فائرنگمارچ 2027 میں بلوچستان کے 5 سینیٹرز سمیت بڑی تعداد میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گےمتحدہ عرب امارات میں رمضان کے پہلے روزے کی متوقع تاریخ سامنے آگئیخواتین اور ہنرمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری،50 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کا بڑا اعلانمہرگڑھ پر ڈرون حملہ قابلِ مذمت ہے، اسلم رئیسانینوڈیرو میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے نوجوان رحمان علی جاں بحق

معلم انسانیت، نبوت، تعلیم اور نظام تربیت

احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، تاریخِ عالم میں انسانی معاشروں کی فکری، اخلاقی اور تمدنی اصلاح کے لیے بے شمار مفکرین، فلسفیوں اور اصلاح کاروں نے اپنے نظریات پیش کیے، لیکن جو ہمہ گیر انقلاب پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بپا کیا، اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات ایک عظیم الشان پیغمبر، عدل پرور قائد اور روشن دماغ حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی تاریخ کے سب سے کامل استاد اور مربیِ اعظم بھی تھی۔ درحقیقت، تعلیم و تربیت اور تزکیۂ نفس آپ ﷺ کی بعثتِ نبوت کا بنیادی اور محوری مقصد تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے منصب کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے خود ارشاد فرمایا کہ (مجھے صرف اور صرف ایک معلم و استاد بنا کر بھیجا گیا ہے)۔ یہ فرمان اس بات کی بین دلیل ہے کہ نبوت کا عظیم الشان منصب دراصل تعلیم و ہدایت کا ہی ایک الٰہی سلسلہ ہے جس کا مقصدِ وحید انسانی نفوس کو جہالت اورتاریکیوں سے نکال کر علم و حکمت کی روشنی سے منور کرنا تھا۔قرآنِ کریم نے بھی آپ ﷺ کے اس معلّمانہ اور تربیتی کردار کی توثیق نہایت جامع انداز میں فرمائی ہے۔ سورۃ الجمعہ کی دوسری آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے: “وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے”۔ اس آیۂ مبارکہ کی روشنی میں باری تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کی تین بنیادی اور کلیدی ذمہ داریاں متعین فرمائی ہیں: پہلی، آیاتِ الٰہی کی تلاوت کر کے بندوں کو خالق کے پیغام سے روشناس کرانا؛ دوسری، انسانوں کے قلوب و اذہان کو شرک، اخلاقی رذائل اور باطنی بیماریوں سے پاک کر کے ان کا تزکیہ کرنا؛ اور تیسری، انہیں کتاب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکمت و دانا کی بصیرت عطا کرنا۔ چنانچہ آپ ﷺ کا طرزِ معلمی محض خشک معلومات کی منتقلی کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ روح اور کردار کی مکمل کایا پلٹ دینے والا ایک حیاتیاتی اور انقلابی عمل تھا۔آپ ﷺ کا اسلوبِ تدریس اتنا فکر انگیز، دلنشین اور اثر آفرین تھا کہ وہ ہر طبقاتی و فکری سطح کے انسان کو اپنے اندر جذب کر لیتا تھا۔ آپ ﷺ نے بنیادی طور پر چار نبوی تدریسی حکمتِ عملیوں کو رواج دیا۔ پہلی حکمتِ عملی اپنے عمل کے ذریعے تعلیم دینا تھی، کیونکہ عمل کا اثر الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے عبادات و معاملات کو پہلے خود عملی طور پر برت کر دکھایا، جیسے نماز کے باب میں صریح حکم دیا کہ “نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو”۔ دوسری حکمتِ عملی سوال و جواب اور تفہیم کا طریقہ کار تھی، تاکہ مخاطب کی توجہ مکمل طور پر مرکوز رہے؛ جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کا عام انسان کے روپ میں مجلسِ نبوی میں آ کر سوالات پوچھنا اور آپ ﷺ کا جواب دینا دراصل صحابہ کرام کو دین کے بنیادی ارکان سکھانے کا ایک تعلیمی طریقہ تھا۔ تیسری حکمتِ عملی تکرار یعنی اہم باتوں کو بار بار دہرانا تھی؛ آپ ﷺ اہم ترین فکری و اخلاقی نکات کو تین مرتبہ دہرایا کرتے تھے تاکہ تمام حاضرین اسے اچھی طرح ذہن نشین کر سکیں۔ چوتھی اور سب سے نمایاں حکمتِ عملی نرمی، شفقت اور حلم کا مظاہرہ تھی؛ جب ایک بدوی نے مسجدِ نبوی میں پیشاب کر دیا اور صحابہ کرام غصے میں آ گئے تو آپ ﷺ نے صحابہ کو روکا، نہایت تحمل سے معاملے کو سنبھالا، مسجد کو پانی سے صاف کروایا اور اس اعرابی کو پیار سے سکھایا کہ مساجد اللہ کے ذکر کے لیے ہوتی ہیں۔
اگر آپ ﷺ کے نصابِ تعلیم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عقیدہ، عبادت، قانون اور اخلاقیات کا ایک متوازن اور کامل امتزاج موجود تھا۔ مکی دور کے 13 سالوں میں آپ ﷺ کی تعلیم کا بنیادی محور “عقیدہ” تھا، جس میں اللہ کی وحدانیت، قیامت کے دن کی جوابدہی، فرشتوں کا وجود اور جزا و سزا کے تصور کو روح میں اتارا گیا۔ اس کے بعد مدنی دور میں عبادات کے ساتھ ساتھ “قانون اور معاشرت” کے بنیادی اصول وضع کیے گئے، جن میں نکاح، طلاق، تجارت، وراثت، معاشرتی حقوق اور جنگ کے اخلاقی ضوابط شامل تھے۔ ان تمام تر احکامات کے ساتھ آپ ﷺ نے “حسنِ اخلاق” کو انسانی شخصیت کا زیور بنایا اور فرمایا کہ “مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی بھیجا گیا ہے”۔ یوں آپ ﷺ نے فکر، عمل اور رویے کی متوازی تربیت کا ایک مکمل نظام مرتب کیا۔سیرتِ طیبہ کا ایک سنہری باب دنیا کے پہلے باقاعدہ اسلامی اقامتی مدرسے یعنی “صفہ” کا قیام ہے، جو مسجدِ نبوی کی چھت تلے قائم کیا گیا۔ یہ وہ ادارہ تھا جہاں حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو ذر غفاری اور حضرت سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے 70 سے زائد اصحابہ کرام ہمہ وقت مقیم رہتے تھے اور دنیاوی مال و متاع سے بے نیاز ہو کر صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست قرآن و حدیث اور حکمت کا علم حاصل کرتے تھے۔ یہی نہیں، بلکہ آپ ﷺ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے ان کے لیے ہفتے میں ایک خاص دن مقرر فرمایا تھا تاکہ وہ بغیر کسی جھجھک کے اپنے مخصوص دینی و دنیوی مسائل دریافت کر سکیں۔ نبوت آپ ﷺ کا عظیم الشان الٰہی منصب تھا اور تعلیم و تربیت اس پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچانے کا اصل عملی طریقہ کار تھا۔ آپ ﷺ نے صرف 23 سال کی قلیل ترین مدت میں ایک پڑھنا لکھنا نہ جاننے والے، بکھرے ہوئے اور قبیلہ پرستی میں ڈوبے ہوئے عرب معاشرے کو دنیا کے اعلیٰ ترین علماء، عادل حکمرانوں، فلاسفہ اور اساتذہ کی جماعت میں تبدیل کر دیا۔ آپ ﷺ کے اسی تدریسی و تربیتی اعجاز اور عالمی انقلاب کی وجہ سے تاریخِ عالم انہیں ابدی طور پر “معلمِ انسانیت” کے مقدس اور لافانی لقب سے یاد کرتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *