Banner
Daily Sahafat Quetta
August 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کراچی: تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت، قتل یا مالی دباؤ؟ تحقیقات جاریسونے کی قیمت میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 28 ہزار روپے سے تجاوز کرگیاآزاد کشمیر انتخابات، ن لیگ نے 14 سیٹوں کے ساتھ میدان مار لیا، پیپلز پارٹی کی 5 نشستیںہنگو؛ نجی بینک پر مسلح نقاب پوش افراد کا حملہ، بینک منیجر اور کیشیئر اغواخیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد خوارج جہنم واصل، اسلحہ برآمدتاریخ کے گمشدہ اوراق، پشتون سیاست کا المیہ اور ستر سالہ فریب کا احوالاحساس، انسانیت کی اصل پہچانانتخابات میں کامیابی آزاد کشمیر کے عوام کا مسلم لیگ ن کی پالیسیوں پر اعتماد کا ثبوت ہے، وزیراعظمآزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کو سادہ اکثریت حاصل ہوگئی، رانا ثنامادرِ انسانیت ڈاکٹر صادقہ شریف شفقت، خدمت اور انسان دوستی کا ایک لازوال استعارہکراچی: تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت، قتل یا مالی دباؤ؟ تحقیقات جاریسونے کی قیمت میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 28 ہزار روپے سے تجاوز کرگیاآزاد کشمیر انتخابات، ن لیگ نے 14 سیٹوں کے ساتھ میدان مار لیا، پیپلز پارٹی کی 5 نشستیںہنگو؛ نجی بینک پر مسلح نقاب پوش افراد کا حملہ، بینک منیجر اور کیشیئر اغواخیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد خوارج جہنم واصل، اسلحہ برآمدتاریخ کے گمشدہ اوراق، پشتون سیاست کا المیہ اور ستر سالہ فریب کا احوالاحساس، انسانیت کی اصل پہچانانتخابات میں کامیابی آزاد کشمیر کے عوام کا مسلم لیگ ن کی پالیسیوں پر اعتماد کا ثبوت ہے، وزیراعظمآزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کو سادہ اکثریت حاصل ہوگئی، رانا ثنامادرِ انسانیت ڈاکٹر صادقہ شریف شفقت، خدمت اور انسان دوستی کا ایک لازوال استعارہ

مادرِ انسانیت ڈاکٹر صادقہ شریف شفقت، خدمت اور انسان دوستی کا ایک لازوال استعارہ

منشا قاضی
حسبِ منشا

بعض شخصیات اپنے پیشے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنی محبت، اپنے ایثار اور اپنے اخلاق کی بدولت تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ کے لیئے ثبت ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے عہد کی محض ایک فرد نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد کی تہذیب، ایک معاشرے کی اخلاقی روح اور انسانیت کی روشن علامت بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی درخشاں اور باوقار شخصیت مرحومہ ڈاکٹر صادقہ شریف کی تھی، جنہوں نے طب کے مقدس پیشے کو صرف روزگار یا شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے عبادت، خدمتِ خلق اور انسان دوستی کا وسیلہ سمجھا۔
ڈاکٹر صادقہ شریف کا نام آج بھی لاہور کے علمی، سماجی اور طبی حلقوں میں انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ پاکستان ٹائمز کے نامور چیف ایڈیٹر جناب مقبول شریف مرحوم کی شریکِ حیات تھیں۔ یہ ایسا گھرانہ تھا جہاں علم، صحافت، تہذیب اور خدمتِ خلق ایک دوسرے کے ساتھ سانس لیتے تھے۔ اسی علمی اور فکری ماحول نے ڈاکٹر صاحبہ کی شخصیت کو مزید نکھارا اور ان کے اندر انسان دوستی کے وہ اوصاف پیدا کیئے جو زندگی بھر ان کی شناخت بنے رہے۔
ڈاکٹر صادقہ شریف کی شخصیت میں وقار اور انکساری کا حسین امتزاج تھا۔ وہ خلیق تھیں، متین تھیں، شفیق تھیں اور بے حد ہمدرد تھیں۔ ان کی گفتگو میں نرمی، لہجے میں محبت اور رویّے میں خلوص کی ایسی مٹھاس تھی کہ ہر ملنے والا ان سے اپنا تعلق محسوس کرتا تھا۔ ان کے کلینک میں آنے والا مریض صرف ایک ڈاکٹر سے نہیں ملتا تھا بلکہ اسے ایک ماں کی ممتا، ایک بہن کی شفقت اور ایک مخلص انسان کی بے لوث محبت کا احساس ہوتا تھا۔ وہ مریضوں کے جسم ہی نہیں بلکہ ان کے دلوں کا بھی علاج کیا کرتی تھیں۔
ان کا قائم کردہ صادقہ شریف کلینک سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے پینل پر شامل تھا، مگر اس کلینک کی اصل شناخت جدید علاج یا سہولیات نہیں بلکہ اس کی انسان دوست فضا تھی۔ وہاں ہر مریض کو عزت، احترام اور توجہ ملتی تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ڈاکٹر صاحبہ اپنے پاس آنے والے ملازمین کے نام ذاتی طور پر یاد رکھتی تھیں۔ ہر فرد ان کے لیئے صرف ایک فائل یا رجسٹر کا نمبر نہیں بلکہ ایک زندہ انسان تھا، جس کی عزت، خوشی اور تکلیف ان کے دل سے وابستہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تمام مریضوں کو حرزِ جاں سمجھتی تھیں۔
خصوصاً پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ملازمین سے ان کی محبت مثالی تھی۔ وہ اکثر فرمایا کرتی تھیں:
“یہ محنت کش، جفا کش اور ہنر مند اور سعادت مند ہیں، ان کا خیال سب سے پہلے رکھا جانا چاہیے۔”
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کا منشور تھا۔ کارپوریشن کے ملازمین انہیں صرف ڈاکٹر نہیں بلکہ اپنی ماں سمجھتے تھے۔ وہ ان کی بیماریوں کا علاج کرتیں، مالی مشکلات میں ان کی مدد کرتیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتیں، آسانیاں تقسیم کرتیں اور اپنے قیمتی مشوروں سے ان کی زندگیوں میں امید کی نئی کرن پیدا کر دیتیں۔ ان کی شخصیت نے یہ ثابت کیا کہ اصل عظمت دولت، شہرت یا منصب میں نہیں بلکہ انسانوں کے دل جیتنے میں ہے۔
ڈاکٹر صادقہ شریف کی زندگی کا ایک نہایت خوبصورت پہلو ان کی حکمت بھری نصیحتیں تھیں۔ جو بھی ان کے کلینک میں حاضر ہوتا، وہ علاج کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کے سنہری اصول بھی عطا کرتیں۔ ان کے الفاظ صرف نصیحت نہیں ہوتے تھے بلکہ دلوں میں اتر جانے والی روشنی ہوتے تھے۔ وہ فرمایا کرتی تھیں:
“دوسروں کی مدد سے ہاتھ اٹھا لینا، اپنی مدد سے دست کش ہونے کے برابر ہے۔”
اور مزید فرماتیں:
“اگر مجھے اتنی اہلیت اور توانائی حاصل ہو جائے کہ میں پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا سکوں، لیکن میرے اندر انسانی ہمدردی نہ ہو، تو میں سب کچھ ہو سکتا ہوں، مگر انسان کی اولاد نہیں ہو سکتا۔”
یہ الفاظ آج بھی انسان دوستی کا ایسا منشور ہیں جو ہر دور میں زندہ رہیں گے ۔ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتی تھیں کہ انسان کی اصل طاقت اس کی صلاحیت نہیں بلکہ اس کی ہمدردی ہے۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ اگر آپ دوسروں کے ساتھ ہمدردانہ تعاون کریں گے تو ان کا رویہ بھی آپ کے ساتھ محبت اور خلوص پر مبنی ہوگا، اور زندگی کی جدوجہد میں جتنے زیادہ لوگوں کی دعائیں اور تعاون حاصل ہوں گے، کامیابی کے امکانات بھی اتنے ہی روشن ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صادقہ شریف آج اگرچہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی شخصیت، ان کی تعلیمات، ان کے اخلاق اور ان کی نصیحتیں آج بھی ہزاروں دلوں میں زندہ ہیں۔ لاہور کے بزرگ شہری، پرانے صحافی، سرکاری اداروں کے ملازمین اور خصوصاً پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے کارکن آج بھی ان کا ذکر نم آنکھوں اور محبت بھرے دل کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ کسی بھی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی لوگ اسے دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ہمارے دوست اذکارِ رفتہ افراد کے راہنما نجم الحسن شاکر نے بڑی معلومات دی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ
ڈاکٹر صادقہ شریف نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ڈاکٹری صرف دواؤں کے نسخے لکھنے کا نام نہیں بلکہ دکھ بانٹنے، آنسو پونچھنے، امید جگانے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا مقدس فریضہ ہے۔ وہ سفید کوٹ پہننے والی ایسی معالج تھیں جن کے دل میں محبت کا چراغ ہمیشہ روشن رہتا تھا۔
آج معاشرے کو ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے جو انسان کو مذہب، منصب، دولت یا طبقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف انسان ہونے کے ناتے عزت دیں۔ ڈاکٹر صادقہ شریف اسی فکر کی نمائندہ تھیں۔ زبیر شیخ نے کہا کہ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیئے ایک روشن مثال ہے کہ حقیقی کامیابی دوسروں کے لیئے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے، نہ کہ صرف اپنی آسائشیں بڑھانے میں۔ رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز نے کہا کہ
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس عظیم المرتبت خاتون کی خدمات کو محض یادوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے نام پر کوئی ہسپتال، ڈسپنسری، سکول، لائبریری یا فلاحی مرکز قائم کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ اس سرزمین پر ایک ایسی معالج بھی گزری تھی جس نے اپنے علم کو انسانیت کی خدمت اور اپنی زندگی کو محبت کی خوشبو بنا دیا تھا۔
ڈاکٹر صادقہ شریف کا نام ہمیشہ احترام، محبت اور عقیدت سے لیا جاتا رہے گا، کیونکہ بعض لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کی محبت، ان کی دعائیں، ان کی شفقت اور ان کی انسان دوستی وقت کی گرد میں کبھی گم نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے اعمال کے چراغوں سے آنے والی نسلوں کے راستے ہمیشہ روشن کرتے رہتے ہیں۔ یہی ڈاکٹر صادقہ شریفؒ کا حقیقی ورثہ ہے، اور یہی ان کی لازوال پہچان۔ اس ورثے کی حقیقی وارث ان کی بیٹی نہیں ، ہم ہیں ، اس وراثت کو ہم ان کی دخترِ نیک اختر کے سپرد کرتے ہیں ۔ وہ آگے بڑھے ہم اس کے ہاتھ ہی نہیں پاؤں بھی مضبوط کریں گے کیونکہ پاؤں کی مضبوطی کا تعلق ثبات قلب سے ہے ۔ ملک کی اتنی بڑی شخصیت کو گمنامی کے غاروں میں نہیں انہیں اپنے پیاروں کے دل کی دھڑکنوں میں رہنا ہے ۔ ملک کے نامور مصور و خطاط ھارون الرشید ڈاکٹر صادقہ شریف کا پورٹریٹ بنانے کے بھی آرزو مند ہیں ۔ میں زبیر شیخ صاحب کا ممنون ہوں جنہوں نے مرحومہ ایک تصویر فراہم کی اور آج آپ طویل عرصے کے بعد اپنی مسیحا کو دیکھ رہے ہیں

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *