Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئیرفیع اللہ کی ہمت اور حوصلہ پوری قوم کے نوجوانوں کے لیے مثال ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے ضلع تربت میں لرزہ خیز وقوعہ 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدلاہور میں گھر کی چھت گر گئی ، 9 افراد جاں بحق ، 3 زخمیبی آر سی لورالائی کے طلبہ کا یونیورسٹی آف لورالائی کا تعلیمی دورہسعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالی سہارا، 3 ارب ڈالر قرض رول اووربی ایم ڈبلیو کا بڑا فیصلہ، جرمنی میں 8 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئیرفیع اللہ کی ہمت اور حوصلہ پوری قوم کے نوجوانوں کے لیے مثال ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے ضلع تربت میں لرزہ خیز وقوعہ 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدلاہور میں گھر کی چھت گر گئی ، 9 افراد جاں بحق ، 3 زخمیبی آر سی لورالائی کے طلبہ کا یونیورسٹی آف لورالائی کا تعلیمی دورہسعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالی سہارا، 3 ارب ڈالر قرض رول اووربی ایم ڈبلیو کا بڑا فیصلہ، جرمنی میں 8 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاری

بی ایم ڈبلیو کا بڑا فیصلہ، جرمنی میں 8 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ

جرمن لگژری کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو (BMW) نے اخراجات میں کمی اور کاروباری دباؤ سے نمٹنے کے لیے 2027 کے اختتام تک جرمنی میں تقریباً 8 ہزار ملازمتیں کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمپنی تقریباً 40 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی (Voluntary Redundancy) کی پیشکش کرے گی، تاہم فیکٹریوں میں پروڈکشن لائن پر کام کرنے والے ملازمین اس اقدام سے متاثر نہیں ہوں گے۔

بی ایم ڈبلیو کے جرمنی میں تقریباً 85 ہزار مستقل ملازمین ہیں، جن میں دفتری امور سے وابستہ ملازمین کو اکتوبر سے رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش کی جائے گی۔

کمپنی کے اس فیصلے کی بڑی وجوہات میں الیکٹرک گاڑیوں پر کم منافع، چین کی کمپنیوں سے بڑھتی ہوئی مسابقت، امریکی درآمدی محصولات اور عالمی آٹو مارکیٹ کا دباؤ شامل ہیں۔

بی ایم ڈبلیو کے مطابق تنظیم نو کا مقصد اخراجات کم کرنا اور کمپنی کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے مضبوط بنانا ہے۔ کمپنی دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ 54 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین میں بی ایم ڈبلیو کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے، جہاں گزشتہ سال گاڑیوں کی فروخت 2017 کے بعد کم ترین سطح پر رہی جبکہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں فروخت میں تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

جرمنی کی آٹو انڈسٹری اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دیگر بڑی کمپنیاں بھی اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمتوں میں کمی اور تنظیم نو کے اقدامات کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بی ایم ڈبلیو کا یہ فیصلہ عالمی آٹو انڈسٹری میں جاری تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کمپنیاں الیکٹرک گاڑیوں، کم لاگت پیداوار اور بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *