Banner
Daily Sahafat Quetta
August 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پیپلز پارٹی کشمیر میں جمہوریت کے استحکام اور کشمیریوں کے سیاسی و بنیادی حقوق کی ضامن ہے‘بخت محمد کاکڑکوئٹہ شدید گرمی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے عذاب میں مبتلا، شہری مشکلات کا شکارانجمن تاجران بلوچستان کا 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال کا اعلانآزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاریمکران کی سیاست: کارکردگی اور عوامی توقعاتہنہ اوڑک ولی تنگی میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق، احتجاج کے باعث شاہراہ بندخاران میں مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کے بعد کلیئرنس آپریشن جاریکوئٹہ: سیٹلائٹ ٹاؤن میں نوجوان قتل، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیںبلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیاقائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ، حلقے میں پیپلز پارٹی کارکن قتلپیپلز پارٹی کشمیر میں جمہوریت کے استحکام اور کشمیریوں کے سیاسی و بنیادی حقوق کی ضامن ہے‘بخت محمد کاکڑکوئٹہ شدید گرمی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے عذاب میں مبتلا، شہری مشکلات کا شکارانجمن تاجران بلوچستان کا 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال کا اعلانآزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاریمکران کی سیاست: کارکردگی اور عوامی توقعاتہنہ اوڑک ولی تنگی میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق، احتجاج کے باعث شاہراہ بندخاران میں مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کے بعد کلیئرنس آپریشن جاریکوئٹہ: سیٹلائٹ ٹاؤن میں نوجوان قتل، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیںبلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیاقائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ، حلقے میں پیپلز پارٹی کارکن قتل

تعلیم: شعورِ ذات اور فکری بیداری کا سفر


صحافت نامہ
تعلیم: شعورِ ذات اور فکری بیداری کا سفر

قارئین صحافت( رنزوریارسے)تعلیم محض چند درسی کتابوں کو حفظ کرنے یا امتحانی ہال میں ڈگری کے حصول کیلئے لکھی گئی چند لکیروں کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی روح کے اندر چھپے ہوئے امکانات کے لامتناہی جہانوں کو دریافت کرنے کی ایک سحر انگیز اور حیران کن فکری کلید ہے۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو حقیقی تعلیم وہ مائع نور ہے جو انسانی ذہن کی تاریک و بنجر زمین کو ایک زرخیز اور متحرک کائنات میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں سوال اٹھانے کی جرات اور سچائی کو پرکھنے کی سکت پیدا ہوتی ہے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے سفاک مادی تناظر میں جہاں معلومات کا سیلاب ہر طرف موجود ہے، وہاں اصل چیلنج محض معلومات کو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس معلومات کو تخلیقی شعور اور نفع بخش حکمت میں ڈھالنا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں تعلیمی نظاموں کو ایک ایسی فیکٹری بنا دیا گیا ہے جہاں صرف معاشی غلام تیار کیے جاتے ہیں، حالانکہ تعلیم کا بنیادی مقصد انسان کو ذہنی، فکری اور نفسیاتی طور پر مکمل آزاد بنانا ہے۔ ایک باشعور معاشرے کی تشکیل تبھی ممکن ہے جب تعلیم کو صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اخلاقی اقدار، معاشرتی انصاف اور سائنسی جمہوریت کا ضامن تسلیم کیا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی نوجوان نسل کو رٹے بازی کے روایتی اور فرسودہ حصار سے نکال کر تخلیقی تنقید، فلسفہ، اور آزادانہ تحقیق کے وسیع میدانوں میں اتارا، انہوں نے ہی دنیا کی امامت کا حق ادا کیا۔ تعلیم انسان کو اپنی ذات کے اندر چھپے ہوئے تعصبات، جہالت کی اندھی گلیوں اور فکری جمود سے نجات دلا کر کائنات کے سربستہ رازوں پر غور و فکر کرنے کا وہ انوکھا اور عجیب شعور بخشتی ہے جو اسے اشرف المخلوقات کے اصل مرتبے پر فائز کرتا ہے۔ تعلیمی آگاہی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ فرد اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض اور معاشرے کے مظلوم طبقات کے دکھ درد کو محسوس کر سکے، کیونکہ ایک بے حس دانشور سے ایک حساس ان پڑھ انسان ہزار گنا بہتر ہوتا ہے۔ دنیا کے مروجہ جدید علوم کے ساتھ ساتھ جب تک ہم اپنی تاریخ، اپنی خاندانی روایات اور اپنی مٹی کے فکری و تہذیبی اثاثوں سے جڑے نہیں رہیں گے، تب تک حاصل کی گئی ڈگریاں محض کاغذ کے بے جان ٹکڑے ہی رہیں گی جو الماریوں کی زینت تو بن سکتی ہیں لیکن معاشرے میں کوئی مثبت انقلاب برپا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی رویوں میں ایک بہت بڑی اور انقلابی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے صرف نمبروں کی دوڑ میں شامل نہ ہوں، بلکہ وہ ایسے مفکر، سائنسدان، ادیب اور مخلص رہنما بن کر ابھریں جو آنے والی نسلوں کیلئے روشنی کا مینار ثابت ہوں۔ کسی بھی ملک کی حقیقی سرحدوں کی حفاظت صرف اس کے فوجی دستے نہیں کرتے، بلکہ اس کے تعلیمی اداروں میں تیار ہونے والے وہ مضبوط اور پختہ اذہان کرتے ہیں جو نظریاتی اور فکری جنگوں میں اپنے وطن اور دین کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ چناچہ، تعلیمی بیداری کا یہ سفر اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک معاشرے کا آخری بچہ بھی اس نور سے محروم رہے گا، اس لیے علم کی شمع کو ہر گھر تک پہنچانا ہم سب کا اولین فریضہ ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *