Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹیڈیرہ بگٹی ہسپتال میں بلڈ بینک فعال، عوام کو محفوظ خون کی فراہمی کی سہولت میسرسورینج کوئلہ کان حادثہ: جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے لیے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلانایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتیں یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظمپولیس کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑا ہوں گا، مورچے میں بھی ساتھ دوں گا،وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے دورہ زیارت پر شٹر ڈاؤن ہڑتال، آل پارٹیز کا احتجاجدہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، اب ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آرڈی جی آئی ایس پی آر آج دوپہر اہم پریس کانفرنس کریں گےسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہاگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاںبلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹیڈیرہ بگٹی ہسپتال میں بلڈ بینک فعال، عوام کو محفوظ خون کی فراہمی کی سہولت میسرسورینج کوئلہ کان حادثہ: جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے لیے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلانایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتیں یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظمپولیس کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑا ہوں گا، مورچے میں بھی ساتھ دوں گا،وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے دورہ زیارت پر شٹر ڈاؤن ہڑتال، آل پارٹیز کا احتجاجدہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، اب ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آرڈی جی آئی ایس پی آر آج دوپہر اہم پریس کانفرنس کریں گےسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہاگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاں

کورنگی اربوں روپے کے بجٹ مگر شہری سہولتیں اب بھی ناپید

کورنگی اربوں روپے کے بجٹ مگر شہری سہولتیں اب بھی ناپید

تحریر : محمد عُبيــــدالله میرانی

کراچی شہر کا صنعتی ضلع کورنگی کبھی اس شہر کی معاشی شہ رگ سمجھا جاتا تھا یہاں کی فیکٹریاں لاکھوں مزدوروں کے گھروں کے چولہے جلاتی ہیں اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں مگر افسوس کہ آج یہی ضلع بنیادی شہری سہولتوں کے شدید بحران کا شکار دکھائی دیتا ہے ٹوٹی سڑکیں ابلتے گٹر جگہ جگہ کھڑا گندا پانی کچرے کے ڈھیر اور پانی کی قلت اب یہاں کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں مالی سال 2026/27 کے لیے ضلع کورنگی کے چاروں ٹاؤنز کورنگی لانڈھی شاہ فیصل اور ماڈل کالونی اپنے بجٹ پیش کر چکے ہیں سندھ حکومت کی جانب سے مقامی کونسلوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہر سال اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں جبکہ ضلع کورنگی بھی ترقیاتی فنڈز میں نمایاں حصہ حاصل کرتا ہے بجٹ دستاویزات میں سڑکوں کی مرمت سیوریج صفائی اسٹریٹ لائٹس اور دیگر شہری سہولتوں کے لیے خطیر رقوم رکھی جاتی ہیں مگر زمینی صورتحال اب بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے بطور صحافی جب بھی کورنگی لانڈھی شاہ فیصل اور ماڈل کالونی کے مختلف علاقوں میں رپورٹنگ کے لیے جانا ہوتا ہے تو سرکاری دعوے اور عوامی حقیقت میں واضح فرق محسوس ہوتا ہے کورنگی نمبر 6 چکرا گوٹھ یونیورسل ٹاؤن مہران ٹاؤن بنگالی پاڑا ڈھائی نمبر پی این ٹی کالونی اور دیگر کئی علاقے آج بھی ٹوٹی سڑکوں خراب سیوریج لائنوں اور جمع پانی کے مسائل سے دوچار ہیں کئی مقامات پر معمولی بارش کے بعد دنوں تک پانی کھڑا رہتا ہے جس سے شہریوں کی آمد و رفت اور کاروبار شدید متاثر ہوتے ہیں چکرا گوٹھ میں ایک بزرگ شہری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم نے ووٹ بھی دیا ٹیکس بھی دیا مگر ہمارے حصے میں آج بھی ٹوٹی سڑکیں اور گندا پانی ہی آیا ہے یہ جملہ شاید ضلع کورنگی کے لاکھوں شہریوں کی مجموعی کیفیت بیان کرتا ہے ماڈل کالونی جو کبھی نسبتاً بہتر علاقہ سمجھا جاتا تھا اب سیوریج مسائل اور تجاوزات کی شکایات میں گھرا ہوا ہے شاہ فیصل ٹاؤن کے رہائشی ہوں یا کورنگی کازوے سے روزانہ گزرنے والے شہری اکثر لوگ خستہ حال سڑکوں اور ناقص ترقیاتی کاموں پر برہمی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کئی سڑکیں ایسی ہیں جو تعمیر یا مرمت کے چند ماہ بعد ہی دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں جس سے ترقیاتی کاموں کے معیار پر سوالات اٹھ رہے ہیں کورنگی جیسے بڑے صنعتی ضلع کے مسائل ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی فوری طور پر ختم ہو سکتے ہیں آبادی میں مسلسل اضافہ پرانا انفراسٹرکچر اور محدود وسائل اپنی جگہ اہم چیلنجز ہیں مگر عوام یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ اگر ہر سال بجٹ منظور ہو رہا ہے تو بنیادی مسائل بدستور کیوں موجود ہیں کورنگی کے چاروں ٹاؤن چیئرمینوں کو منتخب ہوئے تقریباً تین سال مکمل ہو چکے ہیں اور اب ان کی مدت اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اس دوران بعض علاقوں میں کچھ ترقیاتی کام ضرور ہوئے چند سڑکوں کی مرمت اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب بھی ہوئی مگر مجموعی صورتحال اب بھی عوامی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتی کورنگی کے چاروں ٹاؤنز میں منتخب چیئرمین بلدیاتی نظام کے تحت براہ راست شہری سہولتوں صفائی سڑکوں کی مرمت اسٹریٹ لائٹس نالوں کی صفائی اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کے ذمہ دار ہیں ان کی کارکردگی براہ راست عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے کورنگی ٹاؤن کے چیئرمین محمد نعیم شیخ ہیں کورنگی ٹاؤن ضلع کا سب سے بڑا اور صنعتی علاقہ ہے جہاں لاکھوں مزدور آبادی رہائش پذیر ہے ان کے دور میں کچھ علاقوں میں ترقیاتی کام اور سڑکوں کی مرمت کی کوششیں نظر آئیں تاہم شہری حلقوں کے مطابق مجموعی انفراسٹرکچر سیوریج اور صفائی کے مسائل اب بھی برقرار ہیں لانڈھی ٹاؤن کے چیئرمین عبدالجمیل خان ہیں لانڈھی ایک گنجان آباد صنعتی و رہائشی علاقہ ہے جہاں بعض مقامات پر صفائی اور اسٹریٹ لائٹس کے منصوبے سامنے آئے مگر بڑی آبادی والے علاقوں میں نکاسی آب کچرا اور سڑکوں کی خستہ حالی بدستور ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے شاہ فیصل ٹاؤن کے چیئرمین گوہر علی خٹک ہیں اس ٹاؤن میں محدود ترقیاتی سرگرمیاں دیکھی گئیں تاہم سیوریج سسٹم بارش کے بعد پانی کھڑا رہنے اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ جیسے مسائل عوامی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہیں ماڈل کالونی ٹاؤن کے چیئرمین ظفر احمد خان ہیں یہ علاقہ نسبتاً بہتر سمجھا جاتا تھا مگر اب سیوریج تجاوزات اور سڑکوں کی خرابی جیسے مسائل نمایاں ہیں بعض ترقیاتی کام کیے گئے مگر مجموعی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کورنگی جیسے بڑے صنعتی ضلع کے مسائل ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی فوری طور پر ختم ہو سکتے ہیں آبادی میں مسلسل اضافہ پرانا انفراسٹرکچر اور محدود وسائل اپنی جگہ اہم چیلنجز ہیں مگر عوام یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ اگر ہر سال بجٹ منظور ہو رہا ہے تو بنیادی مسائل بدستور کیوں موجود ہیں جب بھی ٹاؤن انتظامیہ سے سوال کیا جاتا ہے تو اکثر فنڈز اور اختیارات کی کمی کا مؤقف سامنے آتا ہے مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ کم از کم صفائی نکاسی آب گلیوں کی مرمت اور روزمرہ بلدیاتی مسائل پر توجہ زیادہ مؤثر انداز میں دی جا سکتی ہے عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ترقیاتی فنڈز منصوبوں اور اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے واٹر بورڈ سالڈ ویسٹ ٹاؤن انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی کمی بھی واضح محسوس ہوتی ہے سرکاری لائنوں میں پانی کم آتا ہے مگر ٹینکر دستیاب رہتے ہیں صفائی کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر کئی علاقوں میں آج بھی کچرے کے ڈھیر موجود ہیں رپورٹنگ کے دوران شہریوں سے گفتگو کرتا ہوں تو ان کے چہروں پر مایوسی واضح محسوس ہوتی ہے متعدد لوگ منتخب بلدیاتی نمائندوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے اب زمین پر دکھائی دینے چاہییں اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے کورنگی کراچی کا اہم صنعتی ضلع ہے اور یہاں کے مسائل اب صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہے اگر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی سخت کی جائے فنڈز کے استعمال میں شفافیت لائی جائے اور ٹاؤن سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جائے تو شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے یہ کالم کسی سیاسی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ بلدیاتی نمائندوں کی توجہ ان مسائل کی جانب دلانے کے لیے ہے جن کا سامنا روزانہ کورنگی کے شہری کر رہے ہیں اگر ٹاؤن انتظامیہ مستقل مزاجی شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرے تو کورنگی کو دوبارہ ایک بہتر اور منظم ضلع بنایا جا سکتا ہے

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *