Banner

ہم پروفیسر غمخوار حیات کی بے وقت کا نوحہ لکھیں یا ڈاکٹر رزاق صابر کی گمشدگی کا رونا روئیں؟

Share

Share This Post

or copy the link


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا ڈاکٹر رزاق صابر کی گمشدگی کا رونا روئیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادبی حلقوں کی تشویش پر احکامِ بالا کی خاموشی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئٹہ اداس ہے ، ادبی منظر میں اداسی کی لہر نے اہلِ قلم کی سوچ کو مفلوج کر دیا ہے ۔ اہلِ دانش کی فکر پر خوف کا پرندہ پھڑپھڑا رہا ہے ۔
تشویش کا آسیب ہر نکتہء نظر پر چھا گیا ہے ۔ ایک ڈر ہے جو سرایت کر رہا ہے ۔ ایک گھناؤنا سایہ ہے جو پھیل رہا ہے ۔
نا اُمیدی ، مایوسی اور کرب کی کیفیت نے اہلِ علم و ہنر کو تفکرات سے دوچار کر رکھا ہے ۔
ہر ذی الشعور انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ اسٹینٹ پروفیسر کی بے وقت موت پر نوحہ کہے ۔ اُن کی شہادت پر آہ و زاری کرے ، اُن کے قتلِ ناحق پر بین کرے یا پروفیسر ڈاکٹر عبد الرزاق صابر کی گمشدگی کا رونا روئے ۔۔ آسمان خاموش ہے ۔اور زمین سکتے کے عالم میں ہے ۔
اُن کا بیٹا اختر دھائی دے رہا ہے کہ اُسکا بابا کہاں ہے ؟
اُس کے بابا شوگر کے مریض ہیں ۔ اُن کے پاس ادویات بھی نہیں ہیں ۔
اُنھوں نے کھانا بھی نہیں کھایا ہوگا ۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔اختر کو اپنے بابا جانی سے متعلق کچھ معلومات نہیں ۔
جہاں ہیں ؟ کس حال میں ہیں ؟
ایک فکر لاحق ہے ، ایک دلگیر تشویش ہے جو سب کو پریشان کیئے جا رہی ہے ۔
تربت ، گوادر ، نوشکی اور کوئٹہ میں احتجاج ہو رہا ہے ۔ ریلیاں نکالی جا رہی ہیں ۔ مختلف مکتبہ فکر کے اہلِ خرد ، دانشور اور مفکرین اِن اندوہناک واقعات کی پُر زور مذمت کر رہے ہیں ۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہر قوم کیلئے اس کا وطن اس کی پناہ گاہ ہوتی ہے ، بلوچستان صدیوں سے ہماری پناہ ، عزت ننگ و ناموس کا دفا ع کرتا آرہاہے اس کی بنیادوں میں ہمارے قیمتی اکابرین ، قبائلی رہنماء، محنت کشوں اور چرواہوں کا خون شامل ہے تاکہ آئندہ نسلیں باعزت زندگی گزارئیں مگر افسوس آج بلوچستان خون سے لت پت ہے اور لوگ اپنے ہی مادر وطن میں عدم تحفظ کا شکار ہیں ، اساتذہ سے چرواہے تک کوئی محفوظ نہیں، انہوں نے پروفیسر غمخوار حیات کے بہیمانہ قتل کی مذمت اور ان کے خاندان سے دلی تعزیت وہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کرکے ان کو منظر عام پر لاکر انصاف کے تقاضے پورے کرے تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود پروفیسر غمخوار حیات کے قاتل پکڑے نہیں جاسکے ہیں، انہوں نے قبائلی عمائدین سے مطالبہ کیاکہ وہ پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کو قبائلی طریقے سے منظر عام پر لائیں، انہوں نے پروفیسر عبدالرزاق صابر، پروفیسر ڈاکٹر منظور ، پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمداور ڈرائیور حاتم کی عدم بازیابی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر عبدالرزاق صابر اور ان کے ساتھی پروفیسر اپنے فرائض سرانجام دینے کے بعد گھر آتے ہوئے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں، اساتذہ کا بہیمانہ قتل اور پراسرار گمشدگی لمحہ فکریہ ہے باشعور لوگ ، طالب علم اساتذہ اوراپنے سماج،آئندہ نسلوں اور تاریخ سے محبت کرنے والے لوگ اس بات پر سوچیں کہ بلوچستان کو درپیش بحرانوں سے کیسے باہر نکالیں تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسلیں باعزت زندگی گزارئیں،، انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں والدین سے مطالبہ کیاکہ وہ اس بحران زدہ سرزمین کو علم کی روشنی سے روشن کرنے کیلئے اپنے بچوں کو اسکول، کالجز اور جامعات بھیجیں ، انہوں نے طلباء سے مطالبہ کیاکہ وہ صوبے کو درپیش بحرانوں میں کمی لانے کیلئے تعلیمی ا داروں میں علم ، قومی شعور اور پرامن جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں ۔
نوشکی کا مینگل محلہ اداس ہے ۔
لوگوں میں اداسی کی لہر نے شہر بھول رکھا ہے ۔ غمخوار سب کو غم زدہ کر گئے ۔ وہ براہوی زبان کے بہت بڑے ادیب اور شاعر تھے
۔غمخوار حیات نے بیس سے زائد کتب لکھیں ، ترجمہ کیں۔ ان میں سے سترہ چھپ چکی ہیں، دو زیراشاعت ہیں، دو چار مسودے زیرترتیب تھیں ۔ غمخوار زبان کی بنیاد پر قومی تقسیم کے خلاف تھے ، کیوں کہ وہ لسانی عصبیت کے حق میں نہیں تھے ۔
وہ سچے اور بے لوث اہلِ قلم کی صف میں سرِ فہرست تھے ۔
غمخوار جیسے لکھاری قوموں کی حیات کا سرچشمہ ہوتے ہیں ۔
اُن کا خونِ ناحق کس کے سر ہے ؟
زبانیں گنگ ہیں ، آنکھیں سوال کرتی ہیں ۔
مگر ۔۔۔۔ کسی کے پاس سوال کا جواب نہیں ۔
کہیں سے تشفی کے دو بول سنے کیلیے سماعتیں منتظر ہیں ۔
ڈاکٹر رزاق صابر کب آئیں گے ؟
غمخوار حیات کے قاتل کب کفرکردار کو پہنچیں گے ۔
وہ مشعل بن کے روشن ہو گیا ہے
ڈرے ہو تم , جس کی آگہی سے
کوئٹہ کے ادبی حلقے اداس ہیں ۔
ادباء ، شعراء ، اساتذہ اور ہر ذی الشعور شخص پر خوف کے سائے ہیں ۔
سوالات ہیں ، ابہام ہیں ، تشویش ہے اور تفکرات کا ہجوم ہے ۔اور قلم خاموش ہے ۔
ہم سب خاموش ہیں ۔ڈر ہے یہ خاموشیاں ہمیں نگل نہ لیں ۔

ہم پروفیسر غمخوار حیات کی بے وقت کا نوحہ لکھیں یا ڈاکٹر رزاق صابر کی گمشدگی کا رونا روئیں؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us