Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایرانی تجاویز مل چکی ہیں مگر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں، ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور اب تک ایران نے اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ ڈیل کی تجاویز سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ جلد ان کی تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایران کی پیشکش قابل قبول ہو سکے گی۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کی ایران سے مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
دیا

ان کے بقول آبنائے ہرمز میں امریکی حکمت عملی ایک دوستانہ ناکابندی ہے جس کا مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا ہے۔

ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں قیادت میں واضح ہم آہنگی نظر نہیں آتی اور مختلف بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کا مرکز غیر واضح ہے۔

انہوں نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جرمنی سے 5 ہزار سے زائد فوجی اہلکار واپس بلانے جا رہا ہے، جسے دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرتے نہیں دیکھنا چاہتے اور اسی تناظر میں واشنگٹن کی پالیسی سخت دباؤ اور ممکنہ کارروائیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *