Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2213/02-11-2026بلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کا نعصب العین ہے،میر عبید گورگیجممبر سازی مہم سے حقیقی آزادی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی،صادق آغاگیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، نصیر لہڑیتاج، نازیانہ اورقضاءچینی پاکستانی شادیجمعیت علماء اسلام کے کارکنان منفی پروپیگنڈے کا دلیل اور اخلاقیات سے مقابلہ کریں، مولانا عبدالواسع عبدالرحمن رفیقامن و امان، سرمایہ کاروں کا تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، آئی جی ایف سیچوہدری مقدر حسین عمرہ کی سعادت حاصل کرکے پتوکی واپس پہنچ گئےایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثالTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2213/02-11-2026بلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کا نعصب العین ہے،میر عبید گورگیجممبر سازی مہم سے حقیقی آزادی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی،صادق آغاگیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، نصیر لہڑیتاج، نازیانہ اورقضاءچینی پاکستانی شادیجمعیت علماء اسلام کے کارکنان منفی پروپیگنڈے کا دلیل اور اخلاقیات سے مقابلہ کریں، مولانا عبدالواسع عبدالرحمن رفیقامن و امان، سرمایہ کاروں کا تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، آئی جی ایف سیچوہدری مقدر حسین عمرہ کی سعادت حاصل کرکے پتوکی واپس پہنچ گئےایس ایچ او تھانہ مدرسہ ، شہروز اقبال فرض شناسی، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کی روشن مثال

پاکستان اسٹیل ملز میں اربوں کی منظم چوری کا اسکینڈل بے نقاب

پاکستان اسٹیل ملز میں اربوں کی منظم چوری کا اسکینڈل بے نقاب

کراچی: پاکستان اسٹیل ملز میں اربوں کی منظم چوری کا اسکینڈل بے نقاب ہو گیا۔

وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت پر ایف آئی اے نے فوری انکوائری کا آغاز کیا اور ابتدائی تحقیقات میں اہم شواہد حاصل کرلیے۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اسٹیل ملز سے قیمتی مشینری، کیبلز، اسکریپ مواد اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کو بغیر کسی گیٹ پاس کے مسلسل باہر نکالا جاتا رہا تھا جو سکیورٹی اور ڈی ایس ایف اہلکاروں کی غفلت یا ممکنہ ملی بھگت کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

مزید برآں 36 ٹن سرکاری مٹیریل سے لدے 22 وہیلر ٹریلر کی برآمدگی نے اس منظم نیٹ ورک کی وسعت کو بے نقاب کردیا۔

شواہد کے مطابق یہ کارروائیاں ایک مربوط گروہ کے ذریعے کی جا رہی تھیں جس میں اندرونی ملازمین، سکیورٹی اسٹاف اور اسکریپ ڈیلرز کے مابین گٹھ جوڑ شامل تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق معاملے سے متعلق ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود اسے فوری طور پر سی کلاس میں تبدیل کردیا گیا جس سے کیس کو دبانے کی کوشش کا پہلو بھی سامنے آیا۔

ایف آئی اے نے اس پہلو کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا اور اس کیس میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کردیا جب کہ مرکزی کرداروں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *