Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں ایک سال کے دوران 60 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، حمزہ شفقاتبواسیر کا لیزر علاج، کم تکلیف اور جلد صحت یابی ممکن ہے، ڈاکٹر نور خان وزیرکان کن مزدوروں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہزمینداروں کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں آنے دیں گے، محمد یار مگسیخبر: فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم دورے پر تہران پہنچ گئے، ایران امریکا کشیدگی پر بات چیت متوقعمینا مجید کے بھائی اورنگزیب مجید کو اغوا کر لیا گیاسونا عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت مستحکمکراچی میں گرمی کی شدت برقرار؛ پارہ 40 ڈگری چھونے کا امکانایف بی آر نے اسٹیل یونٹس کی بجلی پر 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس کا اطلاق کر دیاسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضلبلوچستان میں ایک سال کے دوران 60 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، حمزہ شفقاتبواسیر کا لیزر علاج، کم تکلیف اور جلد صحت یابی ممکن ہے، ڈاکٹر نور خان وزیرکان کن مزدوروں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہزمینداروں کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں آنے دیں گے، محمد یار مگسیخبر: فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم دورے پر تہران پہنچ گئے، ایران امریکا کشیدگی پر بات چیت متوقعمینا مجید کے بھائی اورنگزیب مجید کو اغوا کر لیا گیاسونا عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت مستحکمکراچی میں گرمی کی شدت برقرار؛ پارہ 40 ڈگری چھونے کا امکانایف بی آر نے اسٹیل یونٹس کی بجلی پر 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس کا اطلاق کر دیاسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضل

کان کن مزدوروں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ

کان کن مزدوروں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ
کان کنوں اور ان کے خاندانوں کو ویلفیئر فنڈ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔مزدور تنظیمیں
ریٹائرڈ کان کنوں کے بچوں کے لیے تعلیمی وظائف،شادی گرانٹ اور وفات گرانٹ کی شرائط آسان کی جائیں۔پیر محمد کاکڑ
کوئٹہ: بلوچستان کی مختلف کانوں کی مزدور یونینوں اور فیڈریشنز کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ کان مالکان کی جانب سے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے لیے جمع کرائے جانے والے دو فیصد مالی تعاون کے ثمرات حقیقی مستحق کان کنوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچائے جائیں، مزدوروں کو فلاحی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور تعلیمی وظائف، شادی گرانٹ، وفات گرانٹ اور علاج معالجے کی سہولیات کے حصول کے لیے شرائط اور دستاویزی کارروائی آسان بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کان کن ملکی معیشت اور صنعتوں کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی محنت، قربانیوں اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اور ان کے خاندانوں کو قانونی حقوق اور فلاحی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔اس سلسلے میں بلوچستان کی مختلف کانوں کی مزدور یونینوں اور فیڈریشنز کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ورکرز ویلفیئر بورڈ بلوچستان کے دفتر میں پاکستان مائن ورکر فیڈریشن کے سینئر نائب صدر ملک بخت نظر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ورکرز ویلفیئر فنڈ اسلام آباد کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن پیر محمد کاکڑ نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں میر قادر بخش کول کمپنی یونین کے صدر خدائے داد، یو ایم سی یونین کے صدر حاجی سیف اللہ یوسفی، پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن کے چیف آرگنائزر حاجی عثمان علی، پی ایم ڈی سی یونین کے صدر حبیب اللہ ترین، دکی کول مائنز کے جمعہ خان ناصر، یونائیٹڈ مائنز ورکرز یونین کے نمائندوں، پی ایم ڈی سی سورینج کے صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری امیر خان، حبیب اللہ کول مائنز کے چمن گل سمیت دیگر مزدور رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس میں کان کنوں کو درپیش مسائل، ورکرز ویلفیئر فنڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ریٹائرڈ کان کنوں کے بچوں کو بھی تعلیمی وظائف فراہم کیے جائیں، مستحق خاندانوں کے لیے شادی گرانٹ کی سہولت یقینی بنائی جائے اور وفات گرانٹ کے حصول کے لیے مقررہ مدت کی پابندی میں نرمی یا اسے ختم کیا جائے، تاکہ محض تاخیر کی وجہ سے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین اپنے جائز مالی حقوق سے محروم نہ ہوں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ دورانِ ملازمت حادثات میں 60 سال سے زائد عمر کے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کو بھی وفات گرانٹ فراہم کی جائے، جبکہ 18 سال سے کم عمر مزدوروں کی حادثاتی اموات کی صورت میں بھی متعلقہ قانون اور پالیسی کے مطابق ان کے خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے۔ مزدور رہنماؤں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کان مالکان اور متعلقہ کمپنیوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ کم عمر بچوں کو کان کنی جیسے خطرناک کام پر نہ رکھیں۔سرکاری ادارے مؤثر نگرانی اور معائنے کے ذریعے بچوں سے مشقت کے خاتمے اور کان کنوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کے شعبے میں مزدوروں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد، علاج معالجے کی سہولیات اور سماجی تحفظ کے انتظامات ناگزیر ہیں۔ اجلاس کے شرکاء نے ورکرز ویلفیئر فنڈ اسلام آباد کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن پیر محمد کاکڑ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت کے بعد فنڈ کی کارکردگی میں بہتری اور مزدوروں کو فلاحی مراعات کی فراہمی میں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیر محمد کاکڑ کی کوششوں سے بلوچستان کے کان کنوں اور ان کے اہل خانہ کو مزید سہولیات میسر آئیں گی اور مستحق مزدور اپنے جائز حقوق سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکیں گے۔ مزدور رہنماؤں نے متعلقہ سرکاری اداروں پر زور دیا کہ کان کنوں کے علاج معالجے، بچوں کی تعلیم، سماجی تحفظ اور دیگر قانونی و فلاحی حقوق کی فراہمی کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے کان کنوں کے مسائل کے حل، حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے تمام مزدور تنظیمیں اتحاد، اتفاق اور باہمی تعاون کے ساتھ مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *