Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضلیکم جنوری 2027 سے بجلی کا نیا ٹیرف 27.31 روپے فی یونٹ ہونے کا امکانبڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفتوزیراعظم بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچکوئٹہ میں زور دار دھماکہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 3 زخمینئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضلیکم جنوری 2027 سے بجلی کا نیا ٹیرف 27.31 روپے فی یونٹ ہونے کا امکانبڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفتوزیراعظم بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچکوئٹہ میں زور دار دھماکہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 3 زخمینئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاری

سہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضل

اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے، جس کے باعث مذاکراتی عمل آگے بڑھانے میں مشکلات پیش آئیں۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا اور حکومت کو امید تھی کہ یہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران چوتھا ڈرافٹ تیار کیا گیا تھا، جس کی منظوری خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے لینا تھی، تاہم ان کے بقول اطلاعات تھیں کہ سہیل آفریدی اس ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے حاصل کر رہے تھے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کے حوالے سے بھی میڈیا پر خبریں سامنے آئی تھیں۔ ان کے مطابق محمود اچکزئی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکتی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مذاکرات میں ملاقات کے لیے ایک ٹائم فریم اور مستند حل موجود تھا۔ ان کے مطابق اگر اس وقت معاملات حل ہوجاتے تو صورت حال آج مختلف ہوسکتی تھی۔

طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اگر تحریک انصاف اسمبلیوں سے استعفے دیتی ہے تو اس کے 40 ارکان استعفے نہیں دیں گے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *