Banner
Daily Sahafat Quetta
October 19, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئےنئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئے

پشاور کی تعلیمی ادارے یا نوحہ گاہیں

احمد جان صدیقی ۔۔۔ ۔ آرمی پبلک سکول پشاور پر 16،دسمبر 2014 بروز منگل ایک دہشتگردی کے حملہ کے نتیجے میں140 افراد شہید ہوبے تھے۔ جن میں 132 معصوم بچے / یعنی طلباء پرنسپل مرحومہ طاہرہ قاضی سمیت 9 افراد مذید سکول سٹاف سے تعلق رکھنے والوں نے بھی جام شہادت نوش فرماگئے تھے۔ پشاور کا نوحہ، زخموں کا مداوا، اور ریاست کی ذمہ داری : سربراہان مملکت صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف کو ایسے سانحات اور واقعات کا نوٹس لینا اور بروقت متاثرہ خاندانوں کے پاس جاکر بذات خود داد رسی کرنا اور ھمدردی دکھانا بحیثیت سربراہانِ مملکت ان کے فرائض منصبی میں خاصی طورپر شامل ہیں۔کیونکہ آپ ملک اور قوم کے بڑے ہیں۔اور خیبر پختونخوا میں گورنررولز اور ایمرجنسی لگانے سے ان کے فرائض میں شہری حقوق کی فراہمی اور پاسداری میں مذید اضافہ ہواکہ اب بذات خودشہریوں کے مشکلات اور تکالیف کا ارجنٹلی یعنی ایمرجنسی بنیادپر ان کے دہلیز پر پہنچایا جائے،اسی لئے کہ یہاں کے عوام کا منتخب شدہ سرکار جن کی ذمہ داری بنتی تھی،سربراہ مملکت یعنی صدر پاکستان کی ایک دستخط سے برطرف کردیاگیاہے۔اس تناظر میں بدقسمتی سے دیر کالونی نجی سکول سانحہ کے باعث
​آج ایک بار پھر پشاور سوگوار ہے اور خیبر پختونخوا کے ہر گھر میں غم و الم کا سماں اور ہر فرد کا چشمِ تر خون کے آنسو رو رہا ہے۔ دیر کالونی پشاور کے ایک نجی اسکول میں پیش آنے والےپشاور اے پی ایس سکول کے بعد یہ دوسرا المناک اور دل دہلادینے والا اندوہناک واقعہ ہے۔جس طرح APS پشاور کا واقعہ
​یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ اور دل دہلا دینے والا دن تھا، جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا تھا۔ اس دلخراش نجی سکول سانحے نے ایک بار پھر پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس المناک واقعے نے 2 اساتذہ سمیت 35 معصوم جانیں بے دردی سے نگل لی گئیں، جن میں 33 ننھے طلباء اور 2 اساتذہ شامل ہیں۔ اس اندوہناک سانحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے پھولوں جیسے بچے اور ان کے مستقبل کے معمار اس دھرتی پر ہر لحاظ سے کتنے غیر محفوظ ہیں۔
​ریاست کی فوری توجہ اور ہنگامی دورے کی ضرورت ہےکہ
​اس گھڑی جب ہر طرف ماتم برپا ہے اور والدین کے کلیجے منہ کو آ رہے ہیں، سوگوار اور متاثرہ خاندانوں کی فوری دادرسی اور دل جوئی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ایسے قومی سانحات میں محض مذمتی بیانات اور علامتی تعزیت کافی نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ
​اعلیٰ ترین سطح پر فوری موجودگی یعنی صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف پشاور کا فوری اور ہنگامی دورہ کریں۔ متاثرہ خاندانوں کے پاس جا کر ان کے آنسو پونچھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ دکھ کی اس گھڑی میں ریاست عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
​فوری مالی و اخلاقی امداد کی فراہمی کے لیے فی الفور ایک جامع اور شفاف امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے، تاکہ غم کے اس پہاڑ کے نیچے دبے خاندانوں کو فوری معاشی سہارا مل سکے،اور ساتھ ہی اس سانحہ کا غیرجانبدارانہ اور بروقت اعلی سطح شفاف عدالتی اور ادارتی
​ تحقیقات کرتے ہوے اسباب کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جوڈیشل انکوائری بٹھائی جائے اور غفلت کے ذمہ دار عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔تاہم اس سانحہ کو بہانہ بناکر اس کے آڑ میں بے جاء طور پر نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ شکنی نہ کیاجائے۔ اس کے بعد سرکاری اور نجی
​تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی ایک سنگین سوالیہ نشان بنا ہے، قدرتی سانحات تو پھر بھی قدرتی ہوتے ہیں ،لیکن بنیادی طورپر عمارت سمیت تمام لوازمات اور ایس او پیز پر عملداری کو یقینی بنایاجائے۔اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے دور دراز قبائلی اضلاع میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں کے بلڈنگزیعنی عمارات پرانی اور بوسیدہ ہوچکے ہیں،خدانخواستہ کل پھر ایسے سانحات رونما ہونے سے پہلے اب وقت ہے کہ ان کےلیے وفاق فوری فنڈز مختص کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھایا جائے اور قبائلی علاقوں کے تمام تعلیمی سرکاری پرائمری تاہائی اور کالجز کے بلڈنگز ،عمارات کی تعمیر نو کیاجائے۔
​یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خیبر پختونخوا کے کسی تعلیمی ادارے کو قدرتی سانحہ یا نشانہ بنایا گیا ہو یا اس قسم کا صدمہ برداشت کرنا پڑا ہو۔ پشاور اور اس سے ملحقہ قبائلی اضلاع نے ماضی میں بھی دہشت گردی اور ایسے دلخراش سانحات کے انمٹ زخم سمیٹے ہیں۔
​سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اتنے غیر محفوظ ہیں کہ معصوم بچے جو علم کی روشنی حاصل کرنے جاتے ہیں، اس طرح لقمۂ اجل بن جائیں؟ اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی مراکز کی سیفٹی اور سیکیورٹی کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے محض کاغذی کارروائی ثابت ہوتے ہیں ۔ حاصِل کلام / نتیجہ : ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی گورنر ایڈوائزری کونسل اور وفاقی حکومتیں باہم مل کر ایک ایسا فول پروف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی پلان تشکیل دیں جس پر بلا تاخیر عمل درآمد ہو، تاکہ تعلیمی ادارے درس و تدریس کے پُرامن گہوارے بن سکیں نہ کہ نوحہ گاہیں۔
​دعا اور عزمِ نو;
​اللہ تبارک و تعالیٰ اساتذہ سمیت تمام شہید بچوں کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہِ عظیم برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا کرے۔
​

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *