Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کے روشن مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، وزیراعلیٰ بلوچستانپیپلز پارٹی سکھر کے نائب صدر میر دادن خان کلجی کی تعزیتی ملاقاتیں، غمزدہ خاندانوں سے اظہارِ افسوسجامعہ لورالائی کے دفتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی سرگرمیوں کو ایچ ای سی کی باضابطہ منظوری، جامعہ میں خوشی کی تقریب کا انعقادوہ شہر جہاں مرنا قانونی طور پر منع ہےپاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایفٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ دے دیااستنبول میں پاکستان سمیت 7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک، اسحاق ڈار شرکت کریں گےدالبندین اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈنامور ادیب و شاعر اور ‘سسٹم’ کے ایڈیٹر انچیف ناظم نواب سے بلوچستان رائٹرز گلڈ کے وفد کی اہم ملاقاتکمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ چمن، انتظامی امور میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور صحت عامہ کی سہولیات کا تفصیلی جائزہبلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کے روشن مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، وزیراعلیٰ بلوچستانپیپلز پارٹی سکھر کے نائب صدر میر دادن خان کلجی کی تعزیتی ملاقاتیں، غمزدہ خاندانوں سے اظہارِ افسوسجامعہ لورالائی کے دفتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی سرگرمیوں کو ایچ ای سی کی باضابطہ منظوری، جامعہ میں خوشی کی تقریب کا انعقادوہ شہر جہاں مرنا قانونی طور پر منع ہےپاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایفٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ دے دیااستنبول میں پاکستان سمیت 7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک، اسحاق ڈار شرکت کریں گےدالبندین اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈنامور ادیب و شاعر اور ‘سسٹم’ کے ایڈیٹر انچیف ناظم نواب سے بلوچستان رائٹرز گلڈ کے وفد کی اہم ملاقاتکمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ چمن، انتظامی امور میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور صحت عامہ کی سہولیات کا تفصیلی جائزہ

خواتین کی ڈیجیٹل زندگی کو درپیش سنگیں خطرات اور بلیک ہیکنگ اور سائبر کرائم

تحریر: یاسر دانیال صابری (منزلِ عقاب)

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے نئے خطرات بھی پیدا کر دیے ہیں جن کا چند برس پہلے تصور کرنا مشکل تھا۔ آج موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہماری ذاتی زندگی، یادوں، رشتوں، تصاویر، کاروبار اور شناخت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ ہماری نجی گفتگو، ای میلز، رابطہ نمبرز اور اہم معلومات چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے تک پہنچ سکتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ اپنے تحفظ کی اہمیت کو بھی سمجھ رہے ہیں؟ خصوصاً خواتین اور نوجوان طالبات کے لیے یہ سوال انتہائی اہم ہے، کیونکہ سائبر جرائم پیشہ افراد اب صرف روایتی طریقوں پر انحصار نہیں کرتے، بلکہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، جعلی Gmail اکاؤنٹس، فشنگ لنکس، ڈیپ فیک تصاویر اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے لوگوں کے اعتماد کو نشانہ بناتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت بذاتِ خود کوئی خطرہ نہیں، بلکہ یہ علم، تحقیق، تعلیم، صحافت اور کاروبار کے لیے ایک انقلابی سہولت ہے، تاہم جب اسی ٹیکنالوجی کو کسی کی نجی زندگی میں مداخلت، ذاتی معلومات کی چوری، جعلی تصاویر بنانے یا خواتین کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ترقی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کا مجرمانہ استعمال بن جاتا ہے۔ آج ایک خاتون کو کسی معروف ادارے، دوست یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نام سے جعلی ای میل موصول ہو سکتی ہے، جس میں اسے اکاؤنٹ بند ہونے، سکیورٹی کی خلاف ورزی یا فوری تصدیق کے نام پر کسی لنک پر جانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر وہ اعتماد کرتے ہوئے اپنی معلومات درج کر دے تو اس کا اکاؤنٹ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ سائبر مجرم بعض اوقات جعلی شناخت اختیار کرکے دوستی کا جھانسہ دیتے ہیں، جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں اور پھر اسی اعتماد کو ذاتی معلومات حاصل کرنے یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ اس کی مدد سے بظاہر حقیقی نظر آنے والے پیغامات، نقل شدہ آوازیں اور تبدیل شدہ تصاویر تیار کی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی خاتون کی اصل تصویر کو اس انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ دیکھنے والا اسے حقیقی سمجھ بیٹھے۔ بعض جرائم پیشہ افراد ایسے جعلی مواد کو سوشل میڈیا پر پھیلانے کی دھمکی دے کر رقم، مزید تصاویر یا دوسری ذاتی معلومات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی عزت، ذہنی سکون، نجی زندگی اور بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔ اس معاملے میں سب سے افسوس ناک رویہ یہ ہے کہ بعض لوگ حقیقت معلوم کیے بغیر متاثرہ خاتون کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ کسی کی تصویر کا انٹرنیٹ پر موجود ہونا اس کے حقیقی ہونے کی دلیل نہیں۔ ایک مہذب معاشرے میں متاثرہ شخص کو شرمندہ کرنے کے بجائے اس کا ساتھ دیا جاتا ہے اور جرم کرنے والے کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سائبر سکیورٹی کی دنیا میں بلیک ہیٹ ہیکنگ (Black Hat Hacking) سے مراد غیر قانونی یا غیر مجاز طریقے سے کسی اکاؤنٹ، کمپیوٹر سسٹم یا معلومات تک رسائی حاصل کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا ہے، جبکہ ایتھیکل ہیکنگ (Ethical Hacking) میں ماہرین باقاعدہ اجازت کے ساتھ سسٹم کی کمزوریاں تلاش کرتے ہیں تاکہ انہیں دور کرکے لوگوں اور اداروں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ بدقسمتی سے بعض نوجوان ہیکنگ کو محض دوسروں کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے یا اپنی تکنیکی طاقت دکھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقی مہارت کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کرنے میں نہیں بلکہ اسے محفوظ بنانے میں ہے۔ اسی طرح یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کسی کا ای میل یا موبائل ہیک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ذہن بھی ہیک کر لیا گیا ہے۔ عام سائبر ٹولز کے ذریعے کسی انسان کے خیالات براہِ راست پڑھنے یا اس کے دماغ کو کنٹرول کرنے کے دعووں کو سائنسی ثبوت کے بغیر تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ دھمکیوں، جھوٹی معلومات، جعلی شناختوں اور مسلسل بلیک میلنگ کے ذریعے کسی شخص کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا جا سکتا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جسے سائبر جرائم پیشہ افراد اکثر اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں خواتین کو خوف کے بجائے شعور، احتیاط اور درست معلومات سے اپنی حفاظت کرنا ہوگی۔ ہر اہم اکاؤنٹ کے لیے الگ اور مضبوط پاس ورڈ استعمال کرنا، دو مرحلوں پر مشتمل تصدیق (Two-Factor Authentication) فعال رکھنا، نامعلوم لنکس سے لاگ اِن نہ کرنا، مشکوک فائلیں نہ کھولنا اور اپنا تصدیقی کوڈ کسی دوسرے شخص کو نہ دینا بنیادی حفاظتی اقدامات ہیں۔ موبائل فون اور ایپس کو اپ ڈیٹ رکھنا، غیر ضروری اجازتیں ختم کرنا اور سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات محدود رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی خاتون کا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے یا اسے تصاویر کے ذریعے بلیک میل کیا جائے تو اسے خاموش رہنے یا خود کو قصوروار سمجھنے کے بجائے شواہد محفوظ کرنے، متعلقہ پلیٹ فارم پر شکایت درج کرنے اور پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے سرکاری شکایتی ذرائع سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ خاندانوں، تعلیمی اداروں، حکومت اور میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ والدین بچوں اور نوجوانوں کو محفوظ انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تربیت دیں، تعلیمی ادارے سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل اخلاقیات کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں اور میڈیا غیر مصدقہ تصاویر یا ویڈیوز پھیلا کر کسی متاثرہ فرد کی مشکلات میں اضافہ نہ کرے۔ ہمارے نوجوانوں کے لیے بھی یہ ایک اہم پیغام ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو غیر قانونی سرگرمیوں کے بجائے ایک باعزت پیشے کے طور پر اپنائیں۔ نیٹ ورکنگ، پروگرامنگ، ڈیجیٹل فارنزکس اور سائبر سکیورٹی میں مہارت حاصل کرکے وہ نہ صرف اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے کو ڈیجیٹل جرائم سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ اپنی سوچ، شعور اور ذمہ داری کو بھی آگے بڑھائیں، کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا چند لمحوں کا کام ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات برسوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔ خواتین کی ڈیجیٹل حفاظت صرف خواتین کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں کوئی خاتون جعلی ای میل، ہیکنگ، ڈیپ فیک یا بلیک میلنگ کے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو، جہاں متاثرہ فرد کو الزام دینے کے بجائے انصاف فراہم کیا جائے اور جہاں نوجوان ٹیکنالوجی کو جرم نہیں بلکہ علم، روزگار اور خدمت کا ذریعہ بنائیں۔ یاد رکھیے، کسی کا اکاؤنٹ ہیک کرنا ذہانت نہیں، کسی کی نجی تصاویر سے بلیک میل کرنا بہادری نہیں اور کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا کامیابی نہیں۔ حقیقی ذہانت وہ ہے جو علم کو تحفظ، ٹیکنالوجی کو خدمت اور طاقت کو ذمہ داری میں بدل دے۔

تحریر: یاسر دانیال صابری (منزلِ عقاب)

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *