Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں نئے صوبوں اور چھوٹے اضلاع کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے امن کو سبوتاڑ کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہو گا، دشمنوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے، شاہد رندسرکاری نرخوں سے زائد آٹا بیچنے والے 8 بڑے ڈیلرز گرفتار، جیل منتقلوزیراعظم نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی ہدایت کردیہم کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں آئے، علاقے کیلئے کام کرینگے: گورنر کے پیپی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہلسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے درمیان خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمیگوادر: سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاکپنجاب میں ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں 145 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشافتبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذبلوچستان میں نئے صوبوں اور چھوٹے اضلاع کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے امن کو سبوتاڑ کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہو گا، دشمنوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے، شاہد رندسرکاری نرخوں سے زائد آٹا بیچنے والے 8 بڑے ڈیلرز گرفتار، جیل منتقلوزیراعظم نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی ہدایت کردیہم کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں آئے، علاقے کیلئے کام کرینگے: گورنر کے پیپی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہلسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے درمیان خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمیگوادر: سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاکپنجاب میں ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں 145 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشافتبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذ

محترمہ صفیہ اسحاق ، علم و قلم، نظریاتی وابستگی اور سماجی خدمت کا روشن استعارہ

محترمہ صفیہ اسحاق ، علم و قلم، نظریاتی وابستگی اور سماجی خدمت کا روشن استعارہ
منشا قاضی
حسبِ منشا
چار دہائیوں پر محیط جدوجہد، فکری بصیرت، قومی تشخص سے وابستگی اور خواتین کی فلاح و ترقی کے لیئے مسلسل کردار ادا کرنے والی ایک ہمہ جہت شخصیت

بعض شخصیات اپنی زندگی کو محض ذاتی کامیابیوں تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اپنے علم، تجربے، نظریات اور عملی جدوجہد سے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر باب کسی نہ کسی فکری تحریک، سماجی خدمت یا قومی مقصد سے جڑا ہوتا ہے۔ کاسمو گروپ الیکشن 2026 کے امیدوار برائے صدر قمر الزماں بابر کی قیادت اور بیرسٹر حمود الرحمٰن امیدوار برائے سیکرٹری کی مقناطیسی شخصیت کی معیت میں محترمہ صفیہ اسحاق امیدوار برائے ممبر مینجنگ کمیٹی کی حیثیت سے انتخابی مہم میں پیش پیش ہیں ۔ صفیہ اسحاق ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے علم و ادب، تدریس، تصنیف و تالیف، کالم نگاری، نظریاتی وابستگی، سیاسی و سماجی شعور اور خواتین کی تنظیمی و فلاحی سرگرمیوں کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ ان کی شخصیت میں قلم کی قوت، فکر کی گہرائی، کردار کی استقامت اور خدمتِ خلق کا جذبہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
محترمہ صفیہ اسحاق کا تعارف کسی ایک شعبے یا منصب تک محدود نہیں۔ وہ ایک مصنفہ، مؤلفہ، معلمہ، ادیبہ، کالم نگار اور نظریاتی و سماجی شعور رکھنے والی خاتون ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے طویل سفر میں علم و آگہی کو اپنی فکری شناخت اور قومی و سماجی خدمت کو اپنی عملی ترجیح بنایا۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ جب علم کے ساتھ مقصدیت، نظریے کے ساتھ عمل اور صلاحیت کے ساتھ احساسِ ذمہ داری شامل ہو جائے تو انسان کی جدوجہد انفرادی دائرے سے نکل کر اجتماعی افادیت اختیار کر لیتی ہے۔

چار دہائیوں پر محیط جدوجہد کا سفر

محترمہ صفیہ اسحاق کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے تقریباً چالیس برس سعودی عرب اور پاکستان کے حوالے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دیں۔ یہ طویل عرصہ تجربات، مشاہدات، سیکھنے کے عمل اور عملی جدوجہد سے عبارت ہے۔ دو مختلف معاشرتی ماحول سے وابستگی نے انہیں انسانی رویّوں، تہذیبی اقدار، سماجی ضروریات اور قومی شناخت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
سعودی عرب اور پاکستان سے وابستہ ان کا یہ طویل تجرباتی سفر ان کی شخصیت میں وسعتِ نظر، فکری پختگی اور سماجی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت کا اہم حوالہ ہے۔ کسی بھی انسان کی زندگی میں چار دہائیوں کا عرصہ معمولی نہیں ہوتا۔ یہ وہ مدت ہے جس میں تجربات نظریات کو نکھارتے ہیں، مشاہدات فکر کو گہرائی عطا کرتے ہیں اور مسلسل عمل شخصیت کو ایک پہچان دیتا ہے۔
ان کے سفر کی اہمیت اس پہلو سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو کسی ایک محدود دائرے میں مقید نہیں رکھا، بلکہ علم و ادب سے لے کر تنظیمی ذمہ داریوں اور سماجی سرگرمیوں تک مختلف میدانوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔
سال 2017 سے لے کر حالیہ عرصے تک ان کی سرگرمیوں اور مختلف اداروں میں کردار کا تسلسل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک خدمت کا سفر کسی خاص عمر، منصب یا مرحلے پر رک جانے کا نام نہیں۔ ان کے لیے زندگی ایک مسلسل جدوجہد، سیکھنے اور معاشرے سے اپنے تعلق کو بامعنی بنانے کا نام ہے۔

علم و ادب سے رشتہ: قلم، فکر اور شعور کی ترجمانی

محترمہ صفیہ اسحاق کی شخصیت کا بنیادی حوالہ ان کی علمی و ادبی وابستگی ہے۔ مصنفہ، مؤلفہ، معلمہ، ادیبہ اور کالم نگار کی حیثیت سے ان کی شناخت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ لفظ کی اہمیت، فکر کی قوت اور علم کی افادیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔
قلم محض خیالات کے اظہار کا وسیلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ معاشرے کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے، انسانی مسائل کو اجاگر کرنے، فکری الجھنوں کو سلجھانے اور نئی نسل کے لیے رہنمائی کے امکانات پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک ادیب جب معاشرتی زندگی کو اپنی تحریروں کا موضوع بناتا ہے تو وہ اپنے عہد کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ آنے والے وقت کے لیے بھی فکری سرمایہ چھوڑتا ہے۔
اسی طرح معلمہ کا کردار محض معلومات کی منتقلی تک محدود نہیں رہتا۔ معلمہ اپنے شاگردوں میں سوال کرنے، غور و فکر کرنے، درست اور غلط میں تمیز پیدا کرنے اور زندگی کو ذمہ داری کے ساتھ گزارنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ علم کی حقیقی معنویت اسی وقت سامنے آتی ہے جب وہ کردار سازی اور شعور کی بیداری کا ذریعہ بنے۔
محترمہ صفیہ اسحاق کی علمی و ادبی شناخت کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلو اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ معاشرے کی تعمیر صرف بڑے منصوبوں اور ادارہ جاتی سرگرمیوں سے نہیں ہوتی، بلکہ فکر، تحریر، تعلیم اور انسانی شعور کی آبیاری بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہے۔

نظریۂ پاکستان سے وابستگی: قومی شناخت اور فکری ذمہ داری

محترمہ صفیہ اسحاق کی سماجی و نظریاتی شناخت کا ایک اہم پہلو ادارہ نظریۂ پاکستان سے ان کی وابستگی ہے، جہاں وہ شعبۂ خواتین کی کنوینر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔
نظریۂ پاکستان سے متعلق سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت محض کسی تنظیمی ذمہ داری کی ادائیگی نہیں، بلکہ قومی تاریخ، فکری ورثے، تہذیبی اقدار اور اجتماعی شناخت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے سامنے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ نئی نسل کو تاریخ کے بنیادی حقائق سے روشناس کرائیں، قومی تشخص کے مختلف پہلوؤں پر مکالمے کو فروغ دیں اور خواتین کو معاشرتی و قومی معاملات میں بامقصد شرکت کی طرف راغب کریں۔
محترمہ صفیہ اسحاق کی بطور کنوینر شعبۂ خواتین وابستگی ان کی نظریاتی دلچسپی اور تنظیمی کردار کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس نوعیت کی ذمہ داری میں فکری ہم آہنگی، رابطہ کاری، منصوبہ بندی اور مختلف طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے گرد جمع کرنے کی صلاحیت اہم ہوتی ہے۔
قومی تاریخ کا مطالعہ اس وقت زیادہ بامعنی ہو جاتا ہے جب اسے محض ماضی کے واقعات کی یاد دہانی کے بجائے حال کی ذمہ داریوں اور مستقبل کے امکانات سے جوڑا جائے۔ خواتین کی سطح پر ایسی فکری و تعلیمی سرگرمیاں اس شعور کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

پاکستان گرلز گائیڈ: خواتین کی تربیت اور کردار سازی
محترمہ صفیہ اسحاق پاکستان گرلز گائیڈ کی ایگزیکٹو ممبر پنجاب بھی ہیں۔ یہ وابستگی ان کی شخصیت کے اس پہلو کو نمایاں کرتی ہے جو خواتین اور بچیوں کی تربیت، کردار سازی، خود اعتمادی اور عملی زندگی میں مثبت شرکت سے تعلق رکھتا ہے۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ خواتین کو تعلیم، تربیت، نظم و ضبط، قیادت، باہمی تعاون اور سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا دراصل معاشرے کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے مترادف ہے۔ ایک تربیت یافتہ اور باشعور خاتون اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ اپنے گرد و پیش کے ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
گرلز گائیڈ جیسی تنظیموں میں ایگزیکٹو سطح پر ذمہ داری کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ تنظیمی مقاصد، تربیتی سرگرمیوں اور اجتماعی نظم کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ محترمہ صفیہ اسحاق کی اس ادارے سے وابستگی ان کی تنظیمی دلچسپی اور خواتین کی تربیت کے شعبے میں کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کا عمل صرف نعروں سے مکمل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے تعلیم، تربیت، عملی مواقع، فیصلہ سازی میں شرکت اور خود اعتمادی کی مسلسل آبیاری ضروری ہے۔ خواتین کی ترقی سے وابستہ اداروں میں تجربہ کار خواتین کی شمولیت اسی سفر کو تقویت دے سکتی ہے۔

بلائنڈ پروفیشنل ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن: شمولیت اور انسانی وقار کا تصور

محترمہ صفیہ اسحاق کی سماجی وابستگیوں میں بلائنڈ پروفیشنل ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ان کا کردار بھی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ یہ ذمہ داری ایک ایسے سماجی پہلو سے تعلق رکھتی ہے جس کا بنیادی مرکز بصارت سے محروم افراد کی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ شناخت، خود مختاری اور معاشرتی شمولیت کا تصور ہے۔
کسی مہذب معاشرے کی پہچان صرف اس کی معاشی ترقی یا عمارتوں کی بلندی سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ان شہریوں کو کس قدر عزت، مواقع اور سہولتیں فراہم کرتا ہے جنہیں زندگی کے مختلف مراحل میں اضافی معاونت کی ضرورت پیش آتی ہے۔
بصارت سے محروم افراد کو ہمدردی کا موضوع سمجھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں، تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت اور خود مختار زندگی کے حق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ معاشرے میں ان کی مؤثر شمولیت کے لیے قابلِ رسائی ماحول، مناسب تربیت، روزگار کے مواقع اور مساوی شہری حقوق کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس تناظر میں محترمہ صفیہ اسحاق کی بطور چیئرپرسن وابستگی ایک اہم سماجی ذمہ داری کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایسے اداروں کی قیادت میں انسانی وقار، مساوی مواقع اور معاشرتی شرکت جیسے تصورات کو عملی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
یہاں اصل پیغام یہی ہے کہ انسان کی قدر و منزلت کو کسی جسمانی کمی یا مجبوری سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ہر انسان اپنی صلاحیتوں، خوابوں اور عزائم کے ساتھ معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے، اور ایک منصفانہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر فرد کے لیے آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرے۔

قومی امن کمیٹی سپریم کونسل کی چیئرپرسن: امن، برداشت اور مکالمے کی ضرورت

محترمہ صفیہ اسحاق پاکستان قومی امن کمیٹی سپریم کونسل کی چیئرپرسن بھی ہیں۔ یہ منصب ان کی شخصیت کے اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے جو امن، سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی ذمہ داری کے تصورات سے وابستہ ہے۔
آج کی دنیا میں امن محض جنگ یا تصادم کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا معاشرتی ماحول ہے جس میں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، انسانی وقار کا احترام ہو، مکالمے کے دروازے کھلے رہیں اور افراد و طبقات کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے مناسب مواقع میسر ہوں۔
پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے باہمی احترام، برداشت، قانون کی پاسداری اور سماجی ذمہ داری کا شعور نہایت اہم ہے۔ اختلافات کو نفرت میں تبدیل ہونے سے روکنا اور مسائل کے حل کے لیے مکالمے کو ترجیح دینا معاشرتی استحکام کی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے۔
امن کا پیغام اس وقت زیادہ مؤثر بنتا ہے جب وہ تقریروں سے نکل کر روزمرہ کے رویّوں میں شامل ہو جائے۔ خاندان، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور شہری حلقے سب اس عمل میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ خواتین کی شرکت بھی اس حوالے سے اہم ہے، کیونکہ وہ تعلیم، تربیت، سماجی رابطوں اور کمیونٹی سرگرمیوں کے ذریعے برداشت اور احترام کی اقدار کو فروغ دینے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
محترمہ صفیہ اسحاق کی اس شعبے سے وابستگی ان کی سماجی دلچسپیوں کے وسیع دائرے کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں قومی و اجتماعی معاملات کے ساتھ انسانی تعلقات کی بہتری اور معاشرتی ہم آہنگی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔

کاسموپولیٹن کلب لاہور: سماجی روابط اور تنظیمی سرگرمیاں

محترمہ صفیہ اسحاق کاسموپولیٹن کلب لاہور کے کاسمو گروپ کی کور کمیٹی کی رکن بھی ہیں۔ سماجی و ثقافتی ادارے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان روابط، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایسے اداروں کی افادیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ان کے پلیٹ فارم کو محض ملاقاتوں اور تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے علمی، ادبی، ثقافتی اور سماجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک جگہ جمع ہونا نئے خیالات، باہمی تعاون اور اجتماعی منصوبہ بندی کے امکانات پیدا کرتا ہے۔
کور کمیٹی کی رکنیت اپنی نوعیت میں مشاورت، رابطہ کاری اور تنظیمی معاملات میں شرکت کی ذمہ داری بھی رکھتی ہے۔ محترمہ صفیہ اسحاق کی اس کمیٹی سے وابستگی ان کے وسیع سماجی حلقۂ روابط اور مختلف اداروں میں سرگرم شرکت کی عکاسی کرتی ہے۔

لاہور لیڈیز کلب کی چیف آرگنائزر: خواتین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کردار

محترمہ صفیہ اسحاق لاہور لیڈیز کلب کی چیف آرگنائزر کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ کسی بھی سماجی تنظیم میں چیف آرگنائزر کا کردار اہم ہوتا ہے، کیونکہ پروگراموں کی منصوبہ بندی، انتظامی امور، باہمی رابطوں اور سرگرمیوں کی ترتیب و تنظیم میں اس عہدے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
خواتین کے کلب اور سماجی پلیٹ فارم انہیں ایک دوسرے سے ملنے، اپنے تجربات بانٹنے، نئے خیالات سے روشناس ہونے اور اجتماعی دلچسپیوں کے فروغ کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ایسے فورمز خواتین کی سماجی شرکت، باہمی تعاون اور تنظیمی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک کامیاب منتظم کے لیے صرف انتظامی صلاحیت کافی نہیں ہوتی، بلکہ اسے لوگوں کے مزاج کو سمجھنے، مختلف آرا میں توازن پیدا کرنے، وقت اور وسائل کو مناسب انداز میں استعمال کرنے اور مشترکہ مقصد کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر بھی درکار ہوتا ہے۔
محترمہ صفیہ اسحاق کی مختلف اداروں میں ذمہ داریوں کا تنوع اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ ان کی مصروفیات علمی و ادبی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر عملی تنظیم کاری اور سماجی روابط تک پھیلی ہوئی ہیں۔
محترمہ صفیہ اسحاق کی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے مختلف کردار ایک دوسرے سے الگ تھلگ دکھائی دینے کے بجائے ایک وسیع تر فکری اور سماجی دائرے میں باہم مربوط نظر آتے ہیں۔
ان کی علمی و ادبی شناخت فکر و شعور کی نمائندگی کرتی ہے۔ ادارہ نظریۂ پاکستان سے وابستگی قومی تاریخ اور نظریاتی مباحث کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان گرلز گائیڈ میں کردار خواتین کی تربیت اور تنظیمی سرگرمیوں سے وابستگی کو نمایاں کرتا ہے۔ بلائنڈ پروفیشنل ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ذمہ داری انسانی وقار اور شمولیت کے اہم تصور کی طرف توجہ دلاتی ہے، جبکہ قومی امن کمیٹی سے وابستگی امن و ہم آہنگی جیسے اجتماعی موضوعات سے ان کی دلچسپی کو سامنے لاتی ہے۔
اسی طرح کاسموپولیٹن کلب لاہور اور لاہور لیڈیز کلب میں ان کی ذمہ داریاں سماجی رابطوں، تنظیمی صلاحیتوں اور خواتین کے اجتماعی پلیٹ فارمز میں شرکت کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان تمام ذمہ داریوں کے درمیان ایک مشترکہ قدر تلاش کی جائے تو وہ معاشرے سے وابستگی اور اجتماعی زندگی میں مثبت کردار ادا کرنے کی خواہش ہے۔ بلاشبہ کسی بھی منصب کی حقیقی معنویت اس سے وابستہ نام میں نہیں، بلکہ اس کے ذریعے انجام پانے والے کام، پیدا ہونے والے مواقع اور معاشرے کو پہنچنے والے فائدے میں ہوتی ہے۔

خواتین کی قیادت اور بدلتے ہوئے سماجی تقاضے
پاکستانی معاشرے میں خواتین کی تعلیم، خود اعتمادی، سماجی شرکت اور قیادت کے مواقع پر گفتگو مسلسل اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ خواتین نے علم، ادب، تعلیم، صحت، سماجی بہبود، انتظامی امور اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ان کی مؤثر شرکت کے لیے مزید مواقع، بہتر سہولتوں اور مثبت سماجی رویّوں کی ضرورت برقرار ہے۔
محترمہ صفیہ اسحاق کی متعدد اداروں سے وابستگی اس موضوع کے حوالے سے ایک قابلِ ذکر مثال فراہم کرتی ہے کاسمو گروپ الیکشن 2026 کے لیئے صفیہ اسحاق جتنی سرگرم ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ قمر الزماں بابر جن کی شخصیت سے ہر انسان محبت کرتا ہے اور وہ سب سے محبت کرتے ہیں ۔ محبت گو اندھی ہوتی ہے مگر اس کی آنکھیں بڑی حسین ہوتیں ہیں ۔ قمرالزماں بابر کو اپنی ذات سے لیکر پوری کائنات خوبصورت لگتی ہے اور کاسمو گروپ کے انتخابات میں آپ کی بحثیت صدر کامیابی یقینی ہے کیونکہ

عمر درکار ہے ذرے کو قمر ہونے تک

حمودالرحمٰن بیرسٹر بھی ہیں اور بے شمار محاسن کا مجموعہ بھی وہ بہت ہی دلفریب شخصیت کے مالک ہیں ایک مدت سے ان کی راہ کاسمو کلب کا سبزہ زار خوبصورت ماحول تک رہا ہے آپ سیکرٹری کے امید وار ہیں اور انسانیت کے دلدار ہیں ۔ملک شفاعت حسین جیسےعظیم انسان آپ جیسے انسان اس گئے گزرے دور میں خال خال نظر آئیں گے آپ نائب صدر کے امیدوار اور فلاح کی راہ کے راہی ہیں ۔ اے ڈی نسیم صمیم القلب اور تالیف قلب کے نباض ہیں اور ہم ان کے خاکسار میں افتخار تلاش کرتے ہیں وہ بھی گیم سیکرٹری کے امیدوار ہیں ۔ ڈاکٹر عاصم فاروقی امیدوار برائے جوائنٹ سیکرٹری ہیں اور کرنے کے درخت ہیں جس سے خوشبو آتی ہے ۔ کہنے کے نہیں ، مینجنگ کمیٹی نابغہ ء روزگار شخصیات کا وجود کاسمو کلب کے وقار اور افتخار کا حسین امتزاج ثابت ہو گا ۔ لیاقت علی قریشی ، فاروق احمد ملک ، شہزادہ علی ذوالقرنین ، ملک عمران ، مقبول احمد چوھان، آصف صادق بھٹی ، عباد احمد رانا ، محترمہ نازیہ بٹ اور محترمہ صفیہ اسحاق کی کامرانی شادمانی میں بدل جائے گی اور 18 اکتوبر کا سورج قمر الزماں بابر کی قیادت اور بیرسٹر حمودالرحمٰن کی معیت میں فتح و نصرت کے ساتھ طلوع ہو گا اور دنیا جان لے گی کہ کاسمو کلب کے افق پر فلاح و بہبود کا سورج کیونکر طلوع ہوتا ہے ۔ صفیہ اسحاق بے شمار خوبیوں سے متصف ہیں وہ مختلف نوعیت کی تنظیمی، علمی اور سماجی ذمہ داریاں بیک وقت نبھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ ان کے تجربات سے یہ عمومی سبق اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خواتین کی قیادت کو مؤثر بنانے کے لیئے علم، عملی تجربے، رابطہ کاری اور مسلسل سرگرمیوں کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
خواتین کی کامیابی کا تصور بھی محض عہدوں یا اعزازات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ ان کی کوششوں سے کتنے افراد کو رہنمائی ملتی ہے، کتنے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، کتنے لوگوں کی آواز سنی جاتی ہے اور معاشرے میں احترام، انصاف اور شمولیت کی اقدار کس حد تک مضبوط ہوتی ہیں۔
یہی وہ پیمانہ ہے جس پر کسی بھی سماجی کردار کی حقیقی افادیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔

خدمت کا سفر اور کردار کی معنویت
محترمہ صفیہ اسحاق کی زندگی اور سرگرمیوں کا اجمالی جائزہ ہمیں ایک ایسی شخصیت سے متعارف کراتا ہے جس کی شناخت کئی مختلف شعبوں سے وابستہ ہے۔ مصنفہ، مؤلفہ، معلمہ، ادیبہ، کالم نگار اور نظریاتی و سماجی کارکن کی حیثیت سے ان کا تعارف ان کے تجربات اور دلچسپیوں کے وسیع دائرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان سے وابستہ تقریباً چار دہائیوں کا سفر، 2017 سے جاری سرگرمیوں کا تسلسل اور متعدد اداروں میں ان کی ذمہ داریاں ان کی زندگی کے نمایاں پہلو ہیں۔
زندگی کا اصل حسن صرف کامیابیوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس مقصد میں پوشیدہ ہوتا ہے جس کے لیے انسان اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتا ہے۔ علم جب شعور میں ڈھلتا ہے، شعور جب عمل کا راستہ اختیار کرتا ہے اور عمل جب اجتماعی بھلائی سے وابستہ ہو جاتا ہے تو شخصیت محض ایک نام نہیں رہتی، بلکہ ایک فکری اور سماجی حوالہ بننے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے۔
محترمہ صفیہ اسحاق کے لیئے بھی ان کے سفر کی حقیقی معنویت اسی میں مضمر ہے کہ ان کے تجربات، علمی و ادبی ذوق، تنظیمی ذمہ داریاں اور سماجی وابستگیاں آنے والے وقت میں مزید بامقصد سرگرمیوں، مثبت مکالمے اور معاشرتی بہتری کا ذریعہ بنیں۔
کیونکہ تاریخ میں وہی کردار دیرپا اہمیت حاصل کرتے ہیں جو اپنے عہد کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آنے والی نسلوں کے لیے امکانات کے دروازے کھولتے ہیں۔ خدمت کا سفر دراصل اسی وقت روشن رہتا ہے جب انسان اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے آسانی، امید اور آگہی کے چراغ جلانے کا عزم برقرار رکھے۔
محترمہ صفیہ اسحاق کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں میں یہی امکان نمایاں ہے کہ علم، فکر، نظریاتی وابستگی اور سماجی ذمہ داری کو یکجا کرکے معاشرے میں ایک مثبت اور بامعنی کردار ادا کیا جائے۔ ان کے لیے نیک تمنائیں کہ ان کا یہ سفر مزید کامیابیوں، فکری بالیدگی اور خدمتِ انسانیت کے نئے امکانات سے ہم کنار ہو۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، ہمت، استقامت اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ معاشرے کی بہتری کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *