Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوریبلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ غیر قانونی اقدام ہوگا، مولانا عبدالواسعآٹے کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینیترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ،سلیم کھوسہبلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر غور، رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت اجلاسنوجوانوں کی آواز چودھری نعیم کریممیر نادر علی ابڑو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر لیگل مقررامامیہ اسکاؤٹس اوپن گروپ پاکستانچمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوریبلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ غیر قانونی اقدام ہوگا، مولانا عبدالواسعآٹے کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینیترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ،سلیم کھوسہبلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر غور، رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت اجلاسنوجوانوں کی آواز چودھری نعیم کریممیر نادر علی ابڑو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر لیگل مقررامامیہ اسکاؤٹس اوپن گروپ پاکستان

دشمن کیخلاف طویل جنگ جاری رکھنے کیلئے ہمارے پاس اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے: ایران

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے اسلحہ تیار کرنے کی وافر صلاحیت موجود ہے، جبکہ جنگ کے دوران ہتھیاروں کی پیداوار میں پہلے کے مقابلے میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا پیداواری نظام طویل اور مسلسل جنگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق ایران نے پہلے ہی متبادل اور محفوظ پیداواری مقامات تیار کر رکھے تھے، جس کے باعث جنگ کے دوران فوجی سازوسامان کی تیاری ایک دن کے لیے بھی نہیں رکی۔

رضا طلائی نیک نے بتایا کہ جنگ کے دوران تقریباً 9 ہزار کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر فوجی سازوسامان کی تیاری میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کا عملہ میزائل اور ڈرون یونٹس سمیت بحری و فضائی افواج کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ میدانِ جنگ کے تجربات کی بنیاد پر ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق ملک کی پہلی ترجیح اپنی فوجی ضروریات پوری کرنا ہے، تاہم مستقبل میں اضافی دفاعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا بھی ارادہ ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *