Banner
Daily Sahafat Quetta
September 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جی او سی گوادر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گواتری کا دورہ، طلبہ میں نئے جوتے اور نمایاں کارکردگی پر انعامات تقسیمپی این ایس ہنگور کی کامیاب فائرنگ ملکی دفاعی صلاحیت کی عکاس ہے، میر سرفراز بگٹیبلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جعفر مندوخیلسیاحت کے فروغ سے معیشت مضبوط ہوگی، فیصل جمالیرحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر میں مریضوں کی نگہداشت کا جائزہ، زاہدہ بٹ کا دورہگورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن حقیقی نصیرآباد کی نئی کابینہ کا اعلان کردیا گیاڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن اوستہ محمد،محمد جمن پہنور کا گورنمنٹ مڈل سکول بھاگیہ خان بلیدی کا تفصیلی دورہمانچسٹر میں ڈاکٹر ممتاز حسین کی رہائش گاہ پر علمی و ادبی نشست، فریحہ کمال کی خصوصی شرکتبشپ ڈاکٹر ایم ایم وقاص سے پروفیسر ڈاکٹر پرویز جیفرری اور بشپ ایڈون مل کی ملاقاتموجودہ حالات میں نئے صوبوں کا قیام غیر آئینی اور قوم پر جبر ہوگا، مولانا عبدالقادر لونیجی او سی گوادر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گواتری کا دورہ، طلبہ میں نئے جوتے اور نمایاں کارکردگی پر انعامات تقسیمپی این ایس ہنگور کی کامیاب فائرنگ ملکی دفاعی صلاحیت کی عکاس ہے، میر سرفراز بگٹیبلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جعفر مندوخیلسیاحت کے فروغ سے معیشت مضبوط ہوگی، فیصل جمالیرحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر میں مریضوں کی نگہداشت کا جائزہ، زاہدہ بٹ کا دورہگورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن حقیقی نصیرآباد کی نئی کابینہ کا اعلان کردیا گیاڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن اوستہ محمد،محمد جمن پہنور کا گورنمنٹ مڈل سکول بھاگیہ خان بلیدی کا تفصیلی دورہمانچسٹر میں ڈاکٹر ممتاز حسین کی رہائش گاہ پر علمی و ادبی نشست، فریحہ کمال کی خصوصی شرکتبشپ ڈاکٹر ایم ایم وقاص سے پروفیسر ڈاکٹر پرویز جیفرری اور بشپ ایڈون مل کی ملاقاتموجودہ حالات میں نئے صوبوں کا قیام غیر آئینی اور قوم پر جبر ہوگا، مولانا عبدالقادر لونی

موجودہ حالات میں نئے صوبوں کا قیام غیر آئینی اور قوم پر جبر ہوگا، مولانا عبدالقادر لونی

نئے صوبوں کا قیام موجودہ حالات میں ایک غیر آئینی، غیر انتظامی اور قوم پر جبر کا فیصلہ ہوگا

جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر حضرت مولانا عبد القادر لونی صاحب نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی جاری بحث پر جماعت کا واضح، دوٹوک اور حتمی پالیسی مؤقف پیش کرتے ہوئے فرمایا:

صوبے دنیا بھر میں بنتے رہتے ہیں، تمام ممالک میں نئے انتظامی یونٹ بنے ہیں، یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ لیکن ہر فیصلے کا ایک وقت، ایک ماحول اور ایک تیاری ہوتی ہے۔ آج پاکستان میں نہ وہ ماحول موجود ہے، نہ کوئی آئینی، انتظامی اور عوامی تیاری ہے۔ یہ محض چند لوگوں کی ذاتی خواہش ہے جسے جبراً پوری قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نئے صوبوں کی آڑ میں اصل مقاصد کیا ہیں؟ جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے نزدیک اس کے دو بڑے محرکات ہیں:

1- اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنا:
اٹھارویں آئینی ترمیم میں یہ طے ہوا تھا کہ قومی محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ تو کیا جا سکے گا، کمی نہیں کی جا سکے گی۔ جب یہ طے ہوا تھا تو صوبوں کا حصہ تقریباً 49 فیصد تھا، جو بڑھتے بڑھتے آج 56 سے 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مرکز میں بیٹھی قوتیں اس آئینی تحفظ کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ صوبوں کو توڑ کر ازسرِ نو نیا این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینا چاہتی ہیں تاکہ صوبوں کو مالی طور پر کمزور اور مرکز کو مزید طاقتور بنایا جا سکے۔

2- صوبائی معدنی وسائل پر قبضہ:
اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کے اندر موجود تمام معدنی ذخائر صوبوں کی ملکیت ہیں اور ان پر وہاں کے عوام کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر مقتدر قوتیں ہمارے قبائل، ہمارے بلوچ، پشتون اور دیگر صوبوں کے عوام کو ان وسائل کا مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ ان وسائل کو اپنے براہِ راست قبضے میں لینا چاہتی ہیں، اور اسی لیے صوبوں کی تقسیم ان کے لیے ناگزیر ہو گئی ہے۔

لہٰذا جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان اس طرح کے کسی بھی غیر آئینی اور جابرانہ فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتی۔ یہ آپ کے بس میں نہیں کہ آپ قوم پر جبراً فیصلے مسلط کرتے رہیں اور قوم اسے قبول کرتی رہے۔

موجودہ ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے:

کیا آپ کو بلوچستان کی صورتحال نظر نہیں آتی؟ وہاں آپ کی گرفت کمزور ہو چکی ہے۔ ہنہ اوڑک جیسا علاقہ جو چھاؤنی کے بالکل اوپر واقع ہے، وہاں مسلح افراد چڑھ کر وارداتیں کر رہے ہیں۔ زیارت میں یہی صورتحال ہے۔

کراچی تا کوئٹہ قومی شاہراہ غیر محفوظ ہے، کوئٹہ تا ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ تا ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ تا جیکب آباد ہر شاہراہ پر گھنٹوں گھنٹوں ناکے لگے رہتے ہیں۔ عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔

ہم پوچھتے ہیں، ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔

آج بلوچ بیلٹ میں خونریزی ہے، پشتون بیلٹ میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں بدامنی ہے۔ دوسری طرف آزاد کشمیر کے راولاکوٹ میں کئی ماہ سے عوام دھرنے پر بیٹھے ہیں اور کوئی ان سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ اس غفلت کی وجہ سے وہاں ایسے عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں اور عوامی جذبات میں خطرناک تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا اس ملک کو مزید توڑنا مقصود ہے؟

حتمی مؤقف:

ان تمام حقائق کی روشنی میں جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کا واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ:

موجودہ بدامنی، معاشی بحران اور سیاسی افراتفری کے ماحول میں نئے صوبوں کا قیام ملک و قوم کے لیے تباہ کن اور وفاق کے لیے خطرناک ہوگا۔ اس فیصلے کے لیے نہ کوئی انتظامی ہوم ورک کیا گیا ہے، نہ آئینی تیاری ہے، نہ قومی اتفاق رائے اور نہ ہی عوام کا اعتماد حاصل ہے۔

ہم حکومت اور مقتدر اداروں کو خیرخواہانہ مشورہ دیتے ہیں کہ نئے صوبوں کے غیر ضروری تجربے کی بجائے پہلے ملک میں امن و امان بحال کریں، عوام کو تحفظ دیں، شاہراہوں کو محفوظ بنائیں اور عوامی مسائل حل کریں۔ جب ملک میں استحکام آ جائے تو ایسے بڑے قومی فیصلے قومی مشاورت اور پارلیمانی اتفاق رائے سے کیے جا سکتے ہیں۔

جاری کردہ:
مرکزی شعبہ نشرواشاعت
جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *