Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعظم نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی ہدایت کردیہم کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں آئے، علاقے کیلئے کام کرینگے: گورنر کے پیپی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہلسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے درمیان خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمیگوادر: سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاکپنجاب میں ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں 145 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشافتبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذفورسز کے ساتھ نہ کھڑی ہونے والی ہر سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی، رانا ثنا اللہدہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا، فیلڈ مارشلبلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کے روشن مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعظم نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی ہدایت کردیہم کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں آئے، علاقے کیلئے کام کرینگے: گورنر کے پیپی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہلسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے درمیان خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمیگوادر: سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاکپنجاب میں ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں 145 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشافتبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذفورسز کے ساتھ نہ کھڑی ہونے والی ہر سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی، رانا ثنا اللہدہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا، فیلڈ مارشلبلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کے روشن مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، وزیراعلیٰ بلوچستان

مکہ سے تہران تک… اتحادِ امت کی ایک نئی صبح

مکہ سے تہران تک… اتحادِ امت کی ایک نئی صبح
تحریر: امجد اقبال امجد
تاریخ کبھی کبھی ایسے لمحے اپنے دامن میں محفوظ کر لیتی ہے جو بظاہر ایک معاہدہ ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک نئے دور کی بنیاد بن جاتے ہیں۔
7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ اس معاہدے میں یہ اصول سامنے آیا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مگر اس معاہدے کی اصل اہمیت صرف اس کے دفاعی پہلو میں نہیں۔ اس کی سب سے بڑی معنویت اس بات میں ہے کہ عالمِ اسلام کے تین اہم ممالک نے اپنی سلامتی کے معاملات میں ایک دوسرے پر اعتماد کا راستہ اختیار کیا ہے۔
اور پھر اس کہانی میں ایران کا مؤقف ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
ایران نے اس معاہدے کو اپنے خلاف محاذ تصور کرنے کے بجائے اسے خطے میں سلامتی کے لیے علاقائی ممالک کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں دیکھا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ تہران کو اس معاہدے سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ان کے مطابق اگر علاقائی ممالک اپنی سلامتی کے لیے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے تعاون کریں اور یہ تعاون جامع، شمولیتی اور خطے کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہو تو یہ امن و استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک دفاعی معاہدہ ایک سیاسی پیغام بن جاتا ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتیں برسوں سے مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کی سیاست میں اپنے مفادات کے مطابق اتحاد بناتی اور توڑتی رہی ہیں۔ کبھی اسلحہ کے نام پر، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر، کبھی جمہوریت کے نام پر اور کبھی سلامتی کے نام پر۔
لیکن اگر مسلم ممالک یہ فیصلہ کر لیں کہ اپنی سلامتی، اپنی معیشت، اپنی سفارت کاری اور اپنے مستقبل کے فیصلے وہ خود کریں گے تو شاید تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والا معاہدہ اسی امکان کی ایک جھلک ہے۔
پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت اور ایک تجربہ کار فوج ہے۔
ترکیہ کے پاس مضبوط دفاعی صنعت، جدید عسکری صلاحیت اور ایک اہم جغرافیائی مقام ہے۔
سعودی عرب کے پاس معاشی طاقت، اسلامی دنیا میں غیر معمولی مذہبی و سیاسی اہمیت اور عالمی سفارت کاری میں ایک منفرد مقام ہے۔
اور ایران کے پاس ایک طویل تاریخی تہذیب، مضبوط دفاعی صلاحیت، جغرافیائی اہمیت اور خطے میں وسیع سیاسی اثر و رسوخ ہے۔
اگر یہ چار ممالک ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شریکِ امن و استحکام سمجھنے لگیں تو یہ صرف چار ممالک کا اتحاد نہیں ہوگا؛ یہ پورے خطے کے لیے ایک نئے سکیورٹی ماڈل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہاں فرقہ وارانہ تقسیم بھی ایک بڑا سوال ہے۔
صدیوں سے مسلمانوں کو کبھی مسلک کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر، کبھی زبان کے نام پر اور کبھی سرحدوں کے نام پر تقسیم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان ممالک وسائل، افرادی قوت اور قدرتی دولت رکھنے کے باوجود اپنی اجتماعی قوت کو مؤثر انداز میں استعمال نہ کر سکے۔
اب وقت آگیا ہے کہ اختلافات کو ختم نہیں تو کم از کم اختلاف کے باوجود تعاون کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات میں بھی گزشتہ برسوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب اگر ایران بھی اس نئے علاقائی تصور کو دشمنی کے بجائے تعاون کی نظر سے دیکھتا ہے تو یہ ایک غیر معمولی سفارتی موقع ہے۔
مکہ مکرمہ سے تہران تک کا فاصلہ صرف جغرافیہ کا فاصلہ نہیں؛ یہ تاریخ، سیاست اور اعتماد کا فاصلہ بھی ہے۔
اگر یہ فاصلہ کم ہو جائے تو عالمِ اسلام کی سیاست میں ایک نئی صبح طلوع ہو سکتی ہے۔
لیکن اس خواب کی تکمیل کے لیے ایک بنیادی شرط ہے:
یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے امن کے لیے ہونا چاہیے۔
ترکیہ نے بھی واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔
یہ وضاحت انتہائی اہم ہے۔
کیونکہ اگر مسلم ممالک کا اتحاد کسی دوسرے مسلم ملک کے خلاف بنے گا تو وہ اتحاد نہیں بلکہ ایک نئی تقسیم ہوگی۔ لیکن اگر مقصد اجتماعی دفاع، خودمختاری، معاشی تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور بیرونی مداخلت سے آزادی ہو تو یہ واقعی اتحادِ امت کی طرف ایک تاریخی قدم بن سکتا ہے۔
دنیا کو ایک ایسے مسلم بلاک کی ضرورت ہے جو جنگ نہیں، امن کی ضمانت بنے۔
ایسا بلاک جو کسی ملک کو دھمکی نہ دے، مگر کسی مسلمان ملک کو تنہا بھی نہ چھوڑے۔
ایسا اتحاد جو فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے آواز بنے، شام، عراق، یمن، افغانستان اور دیگر خطوں میں امن کے لیے کردار ادا کرے، اور دنیا کو یہ پیغام دے کہ مسلمان اختلاف رکھتے ہیں مگر ایک دوسرے کے دشمن نہیں۔
آج مکہ مکرمہ سے ایک پیغام ابھرا ہے۔
تہران نے اس پیغام کو دشمنی کے بجائے نسبتاً مثبت نگاہ سے دیکھا ہے۔
اب اگلا قدم اسلام آباد، ریاض، انقرہ اور تہران کے پاس ہے۔
اگر یہ ممالک ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھ کر مستقبل کی ضرورتوں کو سمجھ لیں تو آنے والی نسلیں شاید آج کے دن کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دیں گی۔
مکہ صرف ایک شہر نہیں؛ مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے۔
اور اگر مکہ سے نکلنے والا اتحاد تہران تک پہنچ کر اعتماد میں بدل جائے، اسلام آباد میں حکمتِ عملی، انقرہ میں عزم اور ریاض میں قیادت حاصل کر لے تو شاید عالمِ اسلام پہلی بار اپنی اجتماعی قوت کو ایک نئی سمت میں استعمال کرتے ہوئے دکھائی دے۔
یہ خواب ابھی حقیقت نہیں بنا۔
مگر تاریخ کے بڑے سفر ہمیشہ ایک قدم سے شروع ہوتے ہیں۔
ممکن ہے مکہ کا یہ معاہدہ وہ پہلا قدم ہو۔
اور ممکن ہے آنے والے مورخین لکھیں:
2026ء میں مکہ مکرمہ سے ایک نئے مسلم سکیورٹی تصور نے جنم لیا تھا—جس کا مقصد کسی کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *