Banner
Daily Sahafat Quetta
September 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانیملک سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالغفور حیدریخصوصی بچے معاشرے پر بوجھ نہیں، قومی اثاثہ ہیں، میر سیف اللہ خان کھیترانماحول کا تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمان خان ملاخیلمشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جائے، ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاعچمن میں سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہریکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقپی ٹی آئی لانگ مارچ میں کچھ ہوا تو ذمے دار کال دینے والے ہونگے، شوکت یوسفزئیایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانیملک سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالغفور حیدریخصوصی بچے معاشرے پر بوجھ نہیں، قومی اثاثہ ہیں، میر سیف اللہ خان کھیترانماحول کا تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمان خان ملاخیلمشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جائے، ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاعچمن میں سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہریکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقپی ٹی آئی لانگ مارچ میں کچھ ہوا تو ذمے دار کال دینے والے ہونگے، شوکت یوسفزئی

غیر معیاری بوتل بند پانی کے خلاف بی ایف اے کا کریک ڈاؤن، 9 پلانٹس سیل

غیر معیاری بوتل بند پانی کے خلاف بی ایف اے کا گھیرا تنگ … کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن ۔۔۔ 9 غیر قانونی واٹر پلانٹس سیل
بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے غیر رجسٹرڈ اور ناقص بوتل بند پانی کی تیاری و فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرتے ہوئے کویٹہ کے مختلف علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کیں۔ سرکی روڈ، پٹیل روڈ، شاوکشاہ روڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن، نواں کلی، چشمہ اچوزئی، ویسٹرن بائی پاس، ہزارہ ٹاؤن اور علمدار روڈ سمیت متعدد مقامات پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے واٹر پلانٹس کی جامع انسپکشن کی۔کارروائیوں کے دوران 18 سے زائد یونٹس کا معائنہ کیا گیا جن میں 9 واٹر پلانٹس کو سیل کیا گیا جبکہ متعدد یونٹس سے پانی کے نمونے لے کر لیبارٹری تجزیے کیلئے بھجوا دیے گئے۔ انسپکشن کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی پلانٹس بغیر پروڈکٹ رجسٹریشن اور بی ایف اے لائسنس کے کام کر رہے تھے جبکہ بوتلوں پر تیاری و معیاد کی تاریخ واضح نہیں تھی اور مختلف برانڈز کے لیبلز کا غیر قانونی استعمال بھی کیا جا رہا تھا۔مزید برآں کئی یونٹس میں پانی کے ذخیرہ ٹینکس میں الجی، آلودہ ذرات کی موجودگی، ناقص فلٹریشن سسٹم، پیسٹ کنٹرول کا فقدان، ورکرز کیلئے حفاظتی کٹس (PPEs) نہ ہونا اور ویسٹ مینجمنٹ کے ناقص انتظامات بھی سامنے آئے۔بعض مقامات پر پانی کی تیاری اور پیکنگ کے عمل میں بنیادی حفظانِ صحت کے اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا تھا جس عوامی صحت کیلئے خطرناک قرار دیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق غیر قانونی واٹر پلانٹس میں غیر معیاری پانی کی تیاری عوامی صحت کیلئے سنگین خطرہ ہے اسی لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ صرف مستند اور رجسٹرڈ بوتل بند پانی استعمال کریں جبکہ گلی محلوں میں قائم غیر قانونی یونٹس اور کارخانوں سے متعلق فوری طور پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *