Banner
Daily Sahafat Quetta
September 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانیملک سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالغفور حیدریخصوصی بچے معاشرے پر بوجھ نہیں، قومی اثاثہ ہیں، میر سیف اللہ خان کھیترانماحول کا تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمان خان ملاخیلمشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جائے، ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاعچمن میں سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہریکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقپی ٹی آئی لانگ مارچ میں کچھ ہوا تو ذمے دار کال دینے والے ہونگے، شوکت یوسفزئیایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانیملک سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالغفور حیدریخصوصی بچے معاشرے پر بوجھ نہیں، قومی اثاثہ ہیں، میر سیف اللہ خان کھیترانماحول کا تحفظ حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے، نسیم الرحمان خان ملاخیلمشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جائے، ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاعچمن میں سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہریکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، مولانا عبدالرحمن رفیقپی ٹی آئی لانگ مارچ میں کچھ ہوا تو ذمے دار کال دینے والے ہونگے، شوکت یوسفزئی

23 اپریل: عالمی یومِ کتاب بینی (World Book Day)

23 اپریل: عالمی یومِ کتاب بینی (World Book Day)
تحریر، عارفہ صدیق ایڈوکیٹ
ہر سال 23 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ کتاب بینی منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا، کتابوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور علم و ادب کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ دن UNESCO کے زیر اہتمام منایا جاتا ہے، جس نے 1995 میں اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف کتابوں کی ترویج بلکہ مصنفین، ناشرین اور قارئین کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانا بھی ہے۔
23 اپریل کی تاریخ ادب کی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اسی دن دو عظیم ادیبوں William Shakespeare اور Miguel de Cervantes کا انتقال ہوا۔ ان دونوں شخصیات نے ادب کو نئی جہتیں دیں اور آج بھی ان کی تخلیقات دنیا بھر میں پڑھی اور سراہیں جاتی ہیں۔ اس مناسبت سے اس دن کو کتاب اور ادب کے نام کیا گیا تاکہ نئی نسل کو بھی مطالعہ کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے۔
کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ انسان کی سوچ کو وسعت دیتی ہیں، اس کے خیالات کو نکھارتی ہیں اور اس کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کو مختلف معاشروں، ثقافتوں اور نظریات سے روشناس کرواتی ہے۔ مطالعہ انسان میں برداشت، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
کتاب بینی کی عادت انسان کو ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہے۔ جب انسان کتاب پڑھتا ہے تو وہ روزمرہ کی پریشانیوں سے کچھ دیر کے لیے دور ہو جاتا ہے اور ایک نئی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب افراد اپنی زندگی میں مطالعہ کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے رہنماؤں، سائنسدانوں اور مفکرین نے کتابوں سے ہی رہنمائی حاصل کی۔
تاہم موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ کتاب بینی کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل مصروفیات نے لوگوں کو کتابوں سے دور کر دیا ہے۔ نوجوان نسل خاص طور پر اس کا شکار ہے، جس کے باعث ان کی علمی اور فکری نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں عالمی یومِ کتاب بینی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کتابوں کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
اس دن کے موقع پر دنیا بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں کتاب میلے، ادبی نشستیں، مقابلہ جات اور مطالعہ کی مہمات شامل ہوتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو کتابوں کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے اور انہیں مطالعہ کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ کئی ممالک میں اس دن بچوں کو مفت کتابیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ وہ بچپن سے ہی کتابوں سے دوستی کر سکیں۔
ہمارے جیسے پسماندہ اور محکوم خطے میں کتاب بینی کو فروغ دینا بے حد ضروری ہے۔ یہاں شرح خواندگی میں اضافہ تو ہو رہا ہے لیکن مطالعہ کا رجحان اب بھی کمزور ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں، اسکولوں اور معاشرے میں کتابوں کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں، جبکہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو نصابی کتب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی مطالعہ کی بھی ترغیب دیں۔
ڈیجیٹل دور میں اگرچہ ای بکس اور آن لائن لائبریریاں موجود ہیں، لیکن روایتی کتاب کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے، جو ڈیجیٹل ذرائع میں کم محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں دونوں ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مطالعہ کو فروغ دینا چاہیے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کتابیں علم، شعور اور ترقی کی کنجی ہیں۔ اگر ہم ایک مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب بےوں سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ہوگا۔ عالمی یومِ کتاب بینی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم مطالعہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور علم کی روشنی کو عام کریں۔۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *