Banner
Daily Sahafat Quetta
November 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
’پاکستان کی ہندو برادری قومی زندگی کا لازمی حصہ ہے‘، دیوالی کے موقع پر صدر اور وزیر اعظم کاخصوصی پیغامپاکستان کے انتظامی نقشے میں تبدیلی کی تجویز زیر غور، 12 صوبے اور ملک گیر ریفرنڈم کرانے پر غورغیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کو پنشن سے محروم کرنے کے احکامات کالعدم قرارمولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ چپ کا روزہ رکھتے، گورنر کے پیپنجاب کے 2 صوبائی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاریحوثیوں کا سعودی عرب میں یکے بعد دیگرے چھ فوجی حملوں کا دعویٰدیا میر بھاشا ڈیم منصوبہ، ٹھیکیدار کو کروڑوں کا فائدہ پہنچایا گیا، آڈیٹر جنرلخضدار: زیرو پوائنٹ کے قریب ٹریفک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحقسردار منظور کاکڑ کی آغا عبداللہ جان احمدزئی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیتیومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغام’پاکستان کی ہندو برادری قومی زندگی کا لازمی حصہ ہے‘، دیوالی کے موقع پر صدر اور وزیر اعظم کاخصوصی پیغامپاکستان کے انتظامی نقشے میں تبدیلی کی تجویز زیر غور، 12 صوبے اور ملک گیر ریفرنڈم کرانے پر غورغیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کو پنشن سے محروم کرنے کے احکامات کالعدم قرارمولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ چپ کا روزہ رکھتے، گورنر کے پیپنجاب کے 2 صوبائی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاریحوثیوں کا سعودی عرب میں یکے بعد دیگرے چھ فوجی حملوں کا دعویٰدیا میر بھاشا ڈیم منصوبہ، ٹھیکیدار کو کروڑوں کا فائدہ پہنچایا گیا، آڈیٹر جنرلخضدار: زیرو پوائنٹ کے قریب ٹریفک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحقسردار منظور کاکڑ کی آغا عبداللہ جان احمدزئی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیتیومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغام

دیا میر بھاشا ڈیم منصوبہ، ٹھیکیدار کو کروڑوں کا فائدہ پہنچایا گیا، آڈیٹر جنرل

اسلام آباد: دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں ٹھیکوں کے قواعد کی خلاف ورزیوں، غیر مجاز ادائیگیوں اور انتظامی غفلت کے متعدد واقعات سامنے آگئے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2025-26 میں ٹھیکیدار کو ادائیگی کا طریقہ تبدیل کرکے 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جون 2025 تک ڈیم کی تعمیراتی پیشرفت 19.95 فیصد جبکہ مالی پیشرفت 39.67 فیصد رہی، جس سے مالی اخراجات اور تعمیراتی کام کی رفتار میں نمایاں فرق سامنے آیا۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ پاور چائنا اور ایف ڈبلیو او کے مشترکہ منصوبے کو 442 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد میں دیا گیا، تاہم ٹھیکیدار کی اہلیت کے معیار پر مکمل عملدرآمد نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی۔ کنسلٹنسی خدمات کے 27 ارب 18 کروڑ روپے کے معاہدے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق آر سی سی کنکریٹ کی تنصیب سے متعلق کام کیے بغیر ادائیگی کا طریقہ تبدیل کیا گیا اور بل آف کوانٹٹیز کی رقم کو دو ادائیگیوں میں تقسیم کرکے ٹھیکیدار کو 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد ادا کیے گئے۔

آڈٹ میں موبلائزیشن ایڈوانس کی 1 ارب 92 کروڑ روپے کی واجب الادا اقساط کی بروقت کٹوتی نہ کرنے، مزید 1 ارب 12 کروڑ روپے کی وصولی 50 اقساط میں کرنے اور ٹھیکیدار کو 67 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد اضافی ادائیگی پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں کنسلٹنٹس کے دفاتر اور رہائشی سہولیات کے نام پر 53 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد، سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے دعوے پر 10 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد اور تعمیراتی کاموں میں غیر معمولی نرخوں کے باعث 8 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد اضافی ادائیگی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری کے لیے اکتوبر 2010 سے جون 2021 تک 73 ارب 31 کروڑ روپے سے زائد رقم ڈپٹی کمشنر اور لینڈ ایکوزیشن کلکٹر چلاس کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس رقم میں سے 4 ارب 96 کروڑ روپے سے زائد 24 نجی بینکوں میں منتقل کیے گئے، جسے آڈٹ نے ٹریژری رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کی سفارش کی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں منصوبے کی لاگت میں 91 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد اضافے اور تکمیل میں تاخیر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر جون 2027 تکمیل کی تاریخ مقرر تھی، جو معاہدے کے مطابق فروری 2029 اور توسیع شدہ شیڈول کے تحت 2030 تک جا پہنچی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیم کے 4 ہزار 500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے پاور ہاؤس کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی آڈٹ کی مدت ختم ہونے تک نہیں دیا گیا تھا، حالانکہ اس کا پی سی ون اپریل 2023 میں منظور ہوچکا تھا۔

آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ زمین کے حصول اور ٹھیکیداروں سے متعلق تمام مالی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، غیر مجاز ادائیگیوں کا تعین کیا جائے اور واجب الادا رقوم کی وصولی یقینی بنائی جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *