Banner
Daily Sahafat Quetta
October 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان اسمبلی اجلاس،سرداری نظام کی قرارداد پر اپوزیشن ارکان میں نوک جھونکپسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے،کوہیار ڈومکیاین ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی قبول نہیں ،بلوچستان اسمبلیامن، بھائی چارے، قومی برابری اور باہمی احترام کے فروغ میں طلبہ اور تعلیمی ادارے بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں‘خوشحال خان کاکڑخواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس، دنیا بھر سے حقوقِ نسواں کی آوازیں ایک پلیٹ فارم پراکٹھی ہوئیںایف ایف سی کی آئی کیپ-آئی سی ایم اے بہترین کارپوریٹ اور سسٹین ایبلٹی رپورٹس ایوارڈز 2025 میں شاندار کامیابیجنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی قومی و عسکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، میر ظہور بلیدیعوامی مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، حاجی نور محمد خان دومڑدرگزر کرنا سیکھیںلاہور میں جدید تعمیراتی منصوبہ آئیرس ٹاور توجہ کا مرکز، سید زوار شاہ کی قیادت میں پیش رفتبلوچستان اسمبلی اجلاس،سرداری نظام کی قرارداد پر اپوزیشن ارکان میں نوک جھونکپسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے،کوہیار ڈومکیاین ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی قبول نہیں ،بلوچستان اسمبلیامن، بھائی چارے، قومی برابری اور باہمی احترام کے فروغ میں طلبہ اور تعلیمی ادارے بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں‘خوشحال خان کاکڑخواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس، دنیا بھر سے حقوقِ نسواں کی آوازیں ایک پلیٹ فارم پراکٹھی ہوئیںایف ایف سی کی آئی کیپ-آئی سی ایم اے بہترین کارپوریٹ اور سسٹین ایبلٹی رپورٹس ایوارڈز 2025 میں شاندار کامیابیجنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی قومی و عسکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، میر ظہور بلیدیعوامی مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، حاجی نور محمد خان دومڑدرگزر کرنا سیکھیںلاہور میں جدید تعمیراتی منصوبہ آئیرس ٹاور توجہ کا مرکز، سید زوار شاہ کی قیادت میں پیش رفت

این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی قبول نہیں ،بلوچستان اسمبلی

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے کو درپیش مالی مسائل، این ایف سی ایوارڈ، قومی شاہراہوں پر حادثات، ترقیاتی منصوبوں، سرداری نظام کے خاتمے اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ سمیت مختلف امور زیر بحث آئے۔ اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں کٹوتی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مالی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں ایف ڈبلیو او کی کارکردگی پر تنقید کی۔ ایوان نے پشین میں بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے سے متعلق قرارداد اور میر غلام قادر بگٹی اسکول آف ایکسیلینس نارتھ ڈیرہ بگٹی کا مسودہ قانون منظور کر لیا۔اجلاس کے آغاز پر سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ایک طرف حکومت کے پاس سرکاری دفاتر چلانے کے لیے وسائل کی کمی ہے اور دوسری جانب نئے صوبے بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں کٹوتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا۔ اگر صوبے کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ مو¿قف اختیار نہ کیا گیا تو مستقبل میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہو سکتی ہے اور ہر ماہ وسائل کے حصول کے لیے اسلام آباد جانا پڑے گا۔اجلاس میں رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے ضلع پنجگور کو سرد علاقوں کی فہرست سے نکال کر گرم علاقوں کی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کیا، جسے وزیراعلیٰ بلوچستان کی یقین دہانی پر نمٹا دیا گیا۔مولانا ہدایت الرحمن نے قومی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات، زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی اور میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کو مزید فعال بنانے سے متعلق توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کیا۔ اس پر جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ بلوچستان کی آٹھ قومی شاہراہوں پر 39 میڈیکل ایمرجنسی سینٹرز فعال ہیں، جہاں حادثات کی صورت میں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں ہسپتالوں تک منتقل کرنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں ایف ڈبلیو او کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کو منصوبے اس توقع کے ساتھ دیے جاتے ہیں کہ وہ معیاری اور بہتر کام کرے گا، تاہم صوبے میں اس حوالے سے تجربہ اچھا نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے علاقے میں تعمیر کی گئی سڑکوں کی حالت بھی خراب ہوئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض منصوبے حاصل کرنے کے بعد پیٹی ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں، جس سے تعمیراتی کام کے معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی حقیقی صورتحال سامنے آ سکے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جو عناصر بلوچ قوم پرستی کے نام پر پل گراتے، سڑکیں تباہ کرتے، شاہراہیں بند کرتے اور تعمیراتی مشینری کو آگ لگاتے ہیں، وہ بلوچ قوم کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے ایسے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوامی سہولیات کے تحفظ کے لیے امن و امان برقرار رکھنا ضروری ہے۔بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق معاملے پر اپوزیشن ارکان کے درمیان اختلافات سامنے آئے اور ایوان میں شور شرابا بھی ہوا۔ مولانا ہدایت الرحمن نے سرداری نظام کے خاتمے اور سردار و نواب کے القابات کے استعمال سے متعلق قرارداد پیش کرنا چاہی، تاہم اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے بتایا کہ اس معاملے پر حکومتی اور عدالتی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے اور سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد 1976 میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ہے۔اسپیکر نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کی قرارداد کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا، جس پر عمل کیا گیا، تاہم سابقہ قرارداد کی موجودگی کے باعث موجودہ قرارداد کو ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے رولنگ دیتے ہوئے قرارداد نمٹا دی۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ وہ سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق پہلے سے موجود قانون پر عمل درآمد کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے قرارداد ایجنڈے میں شامل کی تھی اور وہ اس میں تبدیلی کرکے دوبارہ پیش کریں گے۔معاملے پر اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور مولانا ہدایت الرحمن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ میر یونس زہری نے مو¿قف اختیار کیا کہ جب قرارداد نمٹا دی گئی ہے تو اس معاملے پر دوبارہ بحث مناسب نہیں۔ اس دوران ایوان میں شور شرابا بھی جاری رہا۔اجلاس میں رکن اسمبلی اصغر ترین نے ضلع پشین میں بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے سے متعلق قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ضلع پشین کی تقریباً دس لاکھ آبادی کے لیے مکمل یونیورسٹی موجود نہ ہونے کے باعث طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے خصوصاً غریب اور کم وسائل رکھنے والے خاندانوں کے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اصغر ترین نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس میں محدود وسائل کے باوجود ہزاروں طلبہ و طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لہٰذا اسے مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے سے علاقے میں تعلیمی مواقع بڑھیں گے اور طلبہ کو اپنے ضلع میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کی سہولت میسر آئے گی۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے پشین میں یونیورسٹی کے قیام کو تعلیمی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔ بعدازاں اسمبلی نے قرارداد منظور کر لی۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میر غلام قادر بگٹی اسکول آف ایکسیلینس نارتھ ڈیرہ بگٹی سے متعلق مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا، جسے بلوچستان اسمبلی نے منظور کر لیا۔اجلاس میں مختلف توجہ دلاو¿ نوٹسز، قراردادوں اور صوبے کے ترقیاتی و مالی معاملات پر بھی بحث کی گئی۔ ایوان میں پیش کیے گئے معاملات کے دوران ارکان نے صوبے کے مالی حقوق کے تحفظ، سڑکوں کے معیار، عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *