Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئےنئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئے

متعدد قتل پر عمر قید کی سزائیں الگ شمار ہوں گی یا ایک؟سپریم کورٹ لارجر بینچ کا غور جاری

اسلام آباد: متعدد افراد کے قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزائیں بیک وقت چلیں گی یا یکے بعد دیگرے، اس اہم قانونی معاملے پر سپریم کورٹ کے 7 رکنی لارجر بینچ کا غور جاری ہے۔ پنجاب حکومت نے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔

پنجاب پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں حالات کے مطابق سزائیں یکے بعد دیگرے چلانے کا حکم دیا جانا چاہیے، تاکہ ہر جرم کی سنگینی واضح ہو اور نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ متعدد قتل کے مجرم کو ایسا فائدہ نہیں ملنا چاہیے کہ ایک یا کئی افراد کے قتل کے باوجود سزاؤں کو بیک وقت شمار کرکے وہ نسبتاً کم مدت میں رہا ہو جائے۔ پراسیکیوشن کے مطابق سزاؤں کا مقصد جرائم کی روک تھام، مجرموں کی اصلاح اور عوام کا تحفظ بھی ہے۔

پنجاب حکومت نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ عدالت کو اپنے فیصلے میں واضح کرنا چاہیے کہ مختلف سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی یا یکے بعد دیگرے۔ جواب میں عمر قید کی قانونی مدت اور معافی یا تخفیف کے بعد قید کی عملی مدت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ اس بنیادی سوال کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ پاکستان میں عمر قید سے مراد کتنی مدت ہے اور متعدد قتل کے مقدمات میں ایک سے زیادہ عمر قید کی سزاؤں کا اطلاق کیسے ہوگا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *