Banner
Daily Sahafat Quetta
October 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ریاست مخالف سوشل میڈیا پوسٹ؛ اقرار الحسن کی درخواستِ ضمانت مستردپختونخوا؛ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا مذاکرات میں علی امین گنڈاپور کی نمائندگی کا مطالبہسکینہ عبداللہ خان کی وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے ملاقات، بلوچستان کے مزدوروں کے مسائل پر گفتگواسسٹنٹ کمشنر وندر عارب وقار کا کنراج روڈ پر دورہ، دو غیر قانونی کریش پلانٹس سیلواشنگٹن مشرق وسطیٰ کے تحفظ کا ضامن نہیں، اپنی حفاظت خود کریں، امریکی سفیرایران سے مذاکرات نہیں ہو رہے، معاملہ جلد کسی نہ کسی صورت حل ہو جائے گا، امریکی صدر ٹرمپکراچی تباہ، 18 سال سے سندھ حکومت ناکام، نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، وسیم اختروزیراعظم کی پشاورآمد؛ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سمیت سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظاماتڈیجیٹل سراب اور ڈوبتی خاندانی اقدارخیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او اختیارات تفویضریاست مخالف سوشل میڈیا پوسٹ؛ اقرار الحسن کی درخواستِ ضمانت مستردپختونخوا؛ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا مذاکرات میں علی امین گنڈاپور کی نمائندگی کا مطالبہسکینہ عبداللہ خان کی وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے ملاقات، بلوچستان کے مزدوروں کے مسائل پر گفتگواسسٹنٹ کمشنر وندر عارب وقار کا کنراج روڈ پر دورہ، دو غیر قانونی کریش پلانٹس سیلواشنگٹن مشرق وسطیٰ کے تحفظ کا ضامن نہیں، اپنی حفاظت خود کریں، امریکی سفیرایران سے مذاکرات نہیں ہو رہے، معاملہ جلد کسی نہ کسی صورت حل ہو جائے گا، امریکی صدر ٹرمپکراچی تباہ، 18 سال سے سندھ حکومت ناکام، نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، وسیم اختروزیراعظم کی پشاورآمد؛ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سمیت سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظاماتڈیجیٹل سراب اور ڈوبتی خاندانی اقدارخیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او اختیارات تفویض

کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جن میں وفاقی حکومت، صدر، وزیراعظم، گورنر خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دہشتگردی کو بنیاد بنا کر منتخب صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی اور جانی نقصانات کے باوجود گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی منتخب حکومت کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

درخواستوں میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 2007 سے 2015 تک دہشتگردی کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا۔ درخواست گزاروں کے مطابق دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کا اختیار نہیں۔

درخواست گزاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے 2024 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی، اس لیے گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئین کے آرٹیکل 234 اور ایمرجنسی کے لیے آرٹیکل 232 سمیت متعلقہ آئینی تقاضوں پر عمل ضروری ہے۔

درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی اور جمہوری احتجاج کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر منتخب حکومت کو معطل کرنا قابلِ سوال ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیرقانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور حتمی فیصلے تک گورنر راج کے اعلامیے کو معطل کیا جائے۔

دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے معظم بٹ ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی، جس میں دونوں اقدامات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس موقع پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، سردار اختر مینگل اور اخونزادہ حسین احمد بھی پشاور ہائی کورٹ پہنچے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *