Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا اسلام آباد سبزی و فروٹ منڈی کا دورہذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسیسردار نثار علی خان ہزارہ کا انتقال بلوچستان کے لیے بڑا نقصان ہے، کاشف حیدریخواتین کی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیبلوچستان پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 ہفتوں میں 50 اشتہاری اور 279 مفرور گرفتارچشمہ پل دسمبر تک ہر صورت مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں ہوگا، میر سلیم احمد کھوسہقلعہ عبداللہ میں منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دوبندی میں تین روز سے چھاپے جاریبازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا اسلام آباد سبزی و فروٹ منڈی کا دورہذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسیسردار نثار علی خان ہزارہ کا انتقال بلوچستان کے لیے بڑا نقصان ہے، کاشف حیدریخواتین کی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیبلوچستان پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 ہفتوں میں 50 اشتہاری اور 279 مفرور گرفتارچشمہ پل دسمبر تک ہر صورت مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں ہوگا، میر سلیم احمد کھوسہقلعہ عبداللہ میں منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دوبندی میں تین روز سے چھاپے جاری

کیا نشہ واقعی ایک بیماری ہے؟

کیا نشہ واقعی ایک بیماری ہے؟
انسانی نفسیات، قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک اہم سماجی مسئلہ
تحریر: ماھر نفسیات نبیلہ شاھد

کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ایک ذہین طالب علم اچانک پڑھائی سے کیوں دور ہو جاتا ہے؟ ایک محبت کرنے والا بیٹا اپنے والدین سے جھوٹ کیوں بولنے لگتا ہے؟ ایک ذمہ دار شخص اپنی جمع پونجی کیوں ضائع کر دیتا ہے؟ اور ایک انسان یہ جانتے ہوئے بھی کہ نشہ اس کی صحت، عزت، خاندان اور مستقبل کو تباہ کر رہا ہے، اسے چھوڑنے میں ناکام کیوں رہتا ہے؟

ہم عموماً ایسے لوگوں کے بارے میں ایک ہی فیصلہ سناتے ہیں: ’’اس میں قوتِ ارادی نہیں‘‘، ’’یہ بگڑ گیا ہے‘‘ یا ’’اسے اپنے گھر والوں کی عزت کا خیال نہیں۔‘‘ لیکن کیا حقیقت صرف اتنی ہی ہے؟ کیا ہر نشے کے عادی شخص کو محض ایک برا انسان سمجھ کر نظر انداز کر دینا درست ہے؟

جدید طبی علم کے مطابق، نشے کی ایسی لت جس میں انسان نقصان کے باوجود بار بار نشہ استعمال کرے اور اسے چھوڑنے یا قابو میں رکھنے میں دشواری محسوس کرے، ایک قابلِ علاج طبی و نفسیاتی مسئلہ ہو سکتی ہے۔ اسے طب میں Substance Use Disorder کہا جاتا ہے۔ تاہم ہر قسم کی عادت یا ہر مرتبہ نشہ استعمال کرنا لازماً اس بیماری کی تشخیص نہیں بنتا۔ اس کے لیے علامات، شدت اور روزمرہ زندگی پر اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ مسئلہ صرف منشیات تک محدود نہیں۔ بعض افراد شراب، ہیروئن، آئس، چرس، افیون یا غیر تجویز شدہ ادویات کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جوئے اور بعض ڈیجیٹل سرگرمیوں کی بے قابو عادت بھی انسان کی زندگی متاثر کر سکتی ہے، اگرچہ ہر عادت کی طبی درجہ بندی ایک جیسی نہیں ہوتی۔

نشہ بیماری کیسے بن جاتا ہے؟

انسانی دماغ میں خوشی، انعام، تحریک اور سیکھنے سے متعلق ایک نظام موجود ہے۔ نشہ آور مادے اس نظام کو غیر معمولی انداز میں متاثر کر سکتے ہیں۔ ابتدا میں کوئی شخص محض تجسس، دوستوں کے دباؤ، ذہنی پریشانی یا وقتی خوشی کے لیے نشہ آزما سکتا ہے۔ لیکن بار بار استعمال سے دماغ میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو طلب، خود پر قابو اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔

رفتہ رفتہ نشہ وقتی خوشی کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ بعض افراد کے لیے زندگی کے مسائل سے فرار، ذہنی بے چینی کو دبانے یا جسمانی تکلیف سے بچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان نقصان جاننے کے باوجود اس رویے کو دہراتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ نشے کا عادی شخص اپنے اعمال کی تمام ذمہ داری سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اصلاح کے لیے صرف ڈانٹ ڈپٹ اور سزا کافی نہیں؛ اسے ذمہ داری، علاج، تربیت اور مسلسل مدد کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔

چند حقیقی زندگی سے ملتی جلتی مثالیں

پہلی مثال: دوستوں کی صحبت میں نشہ شروع کرنے والا طالب علم

ایک طالب علم اپنے دوستوں کے ساتھ رہتے ہوئے پہلی مرتبہ نشہ آزماتا ہے۔ دوست اسے یقین دلاتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ابتدا میں وہ کبھی کبھار استعمال کرتا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد اس کی پڑھائی متاثر ہونے لگتی ہے، حاضری کم ہو جاتی ہے اور گھر والوں سے جھوٹ بولنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب والدین کو حقیقت معلوم ہوتی ہے تو وہ اسے گھر سے نکالنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

اس موقع پر صرف سزا دینے کے بجائے یہ جاننا ضروری ہے کہ نشے کا استعمال کس حد تک بڑھ چکا ہے، اس کے دوستوں اور ماحول کا کیا کردار ہے اور کیا اسے کسی ذہنی دباؤ یا دوسری مشکل کا سامنا ہے۔ مناسب طبی معائنہ، نشے کے علاج کے ماہر کی مدد، محفوظ ماحول اور مثبت صحبت اس کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دوسری مثال: ذہنی صدمے سے بچنے کے لیے نشہ کرنے والا شخص

ایک شخص کاروباری نقصان یا کسی عزیز کی وفات کے بعد شدید پریشانی محسوس کرتا ہے۔ وہ نیند لانے یا غم بھلانے کے لیے نشہ استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وقتی سکون ملتا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد نیند، صحت، تعلقات اور مالی حالات مزید خراب ہونے لگتے ہیں۔

ایسے شخص کو صرف یہ کہنا کہ ’’مضبوط بنو‘‘ کافی نہیں۔ اسے غم سے نمٹنے، ذہنی صحت کی مدد حاصل کرنے اور نشے کے متبادل صحت مند طریقے اپنانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اگر افسردگی، اضطراب یا کسی صدمے کا مسئلہ موجود ہو تو اس کا علاج بھی ضروری ہے۔

تیسری مثال: نشے کی لت میں مبتلا گھر کا فرد

ایک گھر میں بیٹا نشہ کرنے لگتا ہے۔ والدین اس کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں، بہن بھائی اس سے دور رہتے ہیں اور گھر میں مسلسل جھگڑے ہوتے ہیں۔ کبھی اسے مارا پیٹا جاتا ہے اور کبھی گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

خاندان کو چاہیے کہ نشے کے استعمال کے بارے میں واضح حدود قائم کرے، غیر محفوظ رویوں کو برداشت نہ کرے، لیکن مریض کی تذلیل بھی نہ کرے۔ علاج میں تعاون، مالی معاملات کی مناسب نگرانی اور ضرورت پڑنے پر خاندانی مشاورت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ مثالیں عمومی نوعیت کی ہیں؛ ان کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ نشے کے پیچھے مختلف عوامل ہو سکتے ہیں اور ہر شخص کے علاج کی ضروریات الگ ہو سکتی ہیں۔

قرآنِ مجید نشے کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے؟

اسلام انسان کی جان، عقل، مال اور معاشرتی زندگی کی حفاظت کو اہمیت دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں نشہ آور شراب اور جوئے کے نقصانات کے بارے میں واضح رہنمائی موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں، سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

حوالہ: سورۃ المائدہ، آیت 90۔

اگلی آیت میں شراب اور جوئے کے ذریعے دشمنی، بغض اور اللہ کی یاد اور نماز سے غفلت پیدا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

حوالہ: سورۃ المائدہ، آیت 91۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نشے اور اس کے تباہ کن معاشرتی اثرات سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نشہ انسان کی عقل، خاندان، معاشی حالت اور معاشرتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہے:

ترجمہ: ’’اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘

حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 195۔

یہ آیت عمومی طور پر انسان کو اپنے آپ کو نقصان اور ہلاکت میں ڈالنے سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اسے نشے کے نقصانات سے بچنے کے اصول کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، اگرچہ آیت کا اصل سیاق بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے: قرآن کی ان تعلیمات کا مقصد انسان کو نقصان دہ کام سے روکنا ہے، نہ کہ کسی بیمار یا کمزور انسان کو ہمیشہ کے لیے حقیر قرار دینا۔ اصلاح، توبہ، ہمدردی اور ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

رسول اللہ ﷺ نے نشہ آور اشیا کے بارے میں واضح تعلیم دی۔

1۔ ہر نشہ آور چیز کی ممانعت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘

حوالہ: صحیح مسلم، حدیث 2003۔

اس حدیث سے نشہ آور اشیا سے اجتناب کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ مختلف منشیات کے طبی اثرات الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن نشہ آور چیزوں سے متعلق شرعی رہنمائی اپنی جگہ واضح ہے۔

2۔ علاج کروانے کی ترغیب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے۔‘‘

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 5678۔

یہ حدیث بیماری کے علاج اور شفا کی امید کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اسے نشے کے علاج کے لیے طبی مدد لینے کی عمومی ترغیب کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بیماری کا علاج آسان، فوری یا ہر شخص کے لیے یکساں ہوتا ہے۔

3۔ رحم اور نرمی کی اہمیت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 6013؛ صحیح مسلم، حدیث 2319۔

نشے میں مبتلا فرد کے ساتھ رحم کرنے کا مطلب اس کے نقصان دہ رویے کی حمایت کرنا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسے گالی دینے، ذلیل کرنے یا مایوسی میں دھکیلنے کے بجائے اصلاح اور علاج کا راستہ دکھائیں۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم نشے سے بچنے کی ترغیب دے سکتے ہیں، گناہ سے توبہ کی دعوت دے سکتے ہیں اور ساتھ ہی ایک متاثرہ انسان کو علاج اور بہتری کا موقع بھی دے سکتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ بیماری کا طبی ہونا اور کسی عمل کا شرعی طور پر ممنوع ہونا دو الگ سوال ہیں؛ ایک کی وضاحت دوسرے کی نفی نہیں کرتی۔

کیا نشے کا عادی شخص صرف اپنی کمزوری کی وجہ سے ایسا کرتا ہے؟

یہ سوال بہت اہم ہے۔ نشے کی لت کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں، مثلاً:

– نفسیاتی عوامل: ذہنی دباؤ، اضطراب، افسردگی، صدمہ یا تنہائی۔
– معاشرتی عوامل: دوستوں کا دباؤ، گھر کا ناموافق ماحول، بے روزگاری یا منشیات کی آسان دستیابی۔
– حیاتیاتی عوامل: جینیاتی رجحان، دماغ کے انعامی نظام میں تبدیلیاں اور نشے کے اثرات۔
– ذاتی عوامل: تجسس، خطرات سے ناواقفیت، مسائل سے فرار کی کوشش یا بار بار نشہ استعمال کرنا۔

ان عوامل میں سے کوئی ایک لازماً ہر شخص میں موجود نہیں ہوتا۔ اسی لیے کسی کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ صرف بری صحبت کا شکار ہے یا صرف اپنی مرضی سے ایسا کر رہا ہے۔

بعض افراد نشے کے استعمال کو قابو میں رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جبکہ دوسروں کو باقاعدہ علاج اور مسلسل معاونت درکار ہوتی ہے۔ یہی فرق اس بات کی ضرورت واضح کرتا ہے کہ ہم مسئلے کو سمجھیں اور بروقت مدد حاصل کریں۔

نشے سے نجات کے عملی طریقے

نشے سے نجات ممکن ہے، لیکن اس کے لیے عموماً سنجیدہ کوشش، مناسب علاج اور مستقل تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

1۔ مسئلے کو تسلیم کرنا

بحالی کی ابتدا اس وقت ہوتی ہے جب انسان یہ تسلیم کرے کہ نشہ اس کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ اگر وہ انکار کر رہا ہو تو الزام تراشی کے بجائے پرسکون گفتگو، واضح مثالوں اور ہمدردانہ رویے سے بات شروع کی جا سکتی ہے۔

2۔ ماہرِ صحت سے رابطہ

ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات یا نشے کے علاج کے تربیت یافتہ ماہر سے مشورہ لینا چاہیے۔ علاج کا انتخاب نشے کی قسم، استعمال کی مدت، جسمانی حالت اور ذہنی صحت کے مطابق ہونا چاہیے۔ بعض صورتوں میں ادویات، نفسیاتی مشاورت اور بحالی کے پروگرام مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

3۔ اچانک نشہ چھوڑنے کے خطرات کو سمجھنا

شراب یا بعض سکون آور ادویات، خصوصاً بینزودیازپینز، کا مسلسل استعمال کرنے والے افراد کے لیے اچانک چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ شدید جسمانی انحصار کی صورت میں دورے، شدید بے چینی یا دوسری پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر کی نگرانی میں محفوظ طریقے سے نشہ چھوڑنے کا منصوبہ بنانا ضروری ہے۔

4۔ محرکات سے بچنا

ان دوستوں، جگہوں، حالات اور جذبات کی نشاندہی کریں جو نشہ کرنے کی خواہش بڑھاتے ہیں۔ ایسے ماحول سے فاصلہ رکھنا، صحت مند سرگرمیاں اپنانا اور ضرورت پڑنے پر دوستوں کا حلقہ تبدیل کرنا مددگار ہو سکتا ہے۔

5۔ متبادل صحت مند معمول بنانا

ورزش، مناسب نیند، متوازن غذا، مطالعہ، مثبت صحبت، خاندانی وقت اور بامقصد سرگرمیاں بحالی میں مدد دے سکتی ہیں۔ نماز، دعا، ذکر اور قرآن کی تلاوت بہت سے افراد کے لیے روحانی سہارا بن سکتے ہیں۔ تاہم یہ طبی علاج کا متبادل نہیں، بلکہ اس کے ساتھ معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔

6۔ خاندان کا مثبت کردار

خاندان کو چاہیے کہ مریض کو تنہا نہ چھوڑے، لیکن اس کے نقصان دہ رویوں کے نتائج بھی نظر انداز نہ کرے۔ رقم دینے، جھوٹ چھپانے یا نشے کے لیے سہولت پیدا کرنے کے بجائے علاج کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ضرورت ہو تو خاندان خود بھی مشاورت حاصل کرے۔

7۔ دوبارہ نشہ شروع ہونے پر ہمت نہ ہارنا

علاج کے دوران دوبارہ نشہ استعمال ہو جانا بعض افراد میں پیش آ سکتا ہے۔ اسے مکمل ناکامی سمجھ کر علاج چھوڑ دینا درست نہیں۔ اس واقعے کی وجوہات سمجھ کر علاج کے منصوبے میں تبدیلی اور مزید مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر نشہ دوبارہ استعمال کرنے کے بعد بے ہوشی، سانس میں کمی یا دوسری خطرناک علامات ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کی جائے۔

نوجوان نسل اور معاشرے کی ذمہ داری

نشے کی روک تھام صرف حکومت، ہسپتالوں یا پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور ذرائع ابلاغ سب کا اس میں کردار ہے۔

اسکولوں اور کالجوں میں نشے کے نقصانات کے بارے میں حقیقت پر مبنی آگاہی دی جانی چاہیے۔ نوجوانوں کو انکار کرنے کی مہارت، ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے اور مدد حاصل کرنے کے راستے بتائے جائیں۔ ایسے افراد کے لیے رازداری کا احترام کرتے ہوئے مشاورت اور علاج تک رسائی آسان بنائی جائے۔

میڈیا کو بھی چاہیے کہ نشے کے عادی افراد کو صرف مجرم، ناکام یا معاشرے پر بوجھ بنا کر پیش نہ کرے۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہو سکتی ہے، لیکن نشے کی بیماری کے علاج کو نظر انداز کرنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔

ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ منشیات کی غیر قانونی تجارت، تشدد اور دوسروں کو نقصان پہنچانا الگ قانونی و اخلاقی مسائل ہیں، جبکہ نشے کی لت میں مبتلا فرد کو طبی مدد کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ مؤثر معاشرتی حکمتِ عملی میں قانون، علاج، تعلیم اور بحالی سب شامل ہوتے ہیں۔

نتیجہ: سزا نہیں، اصلاح؛ انکار نہیں، علاج

کیا نشہ واقعی ایک بیماری ہے؟ جواب یہ ہے کہ نشے کی لت بہت سے افراد میں ایک تسلیم شدہ طبی و نفسیاتی عارضہ بن سکتی ہے، لیکن ہر شخص اور ہر قسم کے استعمال کا معاملہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس کی تشخیص علامات اور ماہر کے جائزے سے کی جاتی ہے۔

اسلام نشہ آور اشیا سے بچنے، عقل و جان کی حفاظت اور نقصان دہ کاموں سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم لوگوں کو نشے سے دور رہنے کی نصیحت کر سکتے ہیں، لیکن نصیحت کے ساتھ ہمدردی، علاج کی ترغیب اور اصلاح کا موقع دینا بھی ضروری ہے۔

اگر ہمارے گھر، خاندان یا محلے میں کوئی شخص نشے کی لت میں مبتلا ہے تو اسے محض طعنوں، نفرت یا شرمندگی کے حوالے نہ کریں۔ اس سے بات کریں، اس کی بات سنیں، مناسب طبی مدد تک پہنچنے میں تعاون کریں اور اس کی بحالی کے سفر میں ثابت قدمی سے ساتھ دیں۔

یاد رکھیے، کسی انسان کی غلطی اس کی پوری زندگی کا تعارف نہیں ہوتی۔ نشے سے متاثرہ شخص کو اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے، لیکن معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ایک محفوظ ماحول، بروقت علاج، روحانی سہارا اور مسلسل مدد کسی ٹوٹتے ہوئے انسان کو دوبارہ زندگی کی طرف لا سکتے ہیں۔

آئیے، ہم ایسا معاشرہ بنائیں جہاں نشے سے بچنے کی تعلیم بھی ہو، نشے میں مبتلا افراد کے علاج کا انتظام بھی، اور انسان کی عزت و بحالی کے لیے امید کا دروازہ بھی کھلا رہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *