Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہعابد بخاری کی صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، بلوچستان میڈیا فورمصوبے مادر پدر آزاد نہیں، سندھ چاہے بھی تو اپنی نیوی نہیں بنا سکتا، طلال چوہدرینادرا کا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار، بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکممسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے نئے صدر منتخبعدالت کے باہر فائرنگ، لاڑکانہ کا رہائشی شخص زخمیتحریکِ صیہونیت، بیلفور اعلامیہ، عرب دنیا، برطانوی وعدہ خلافی اورتاریخ کا ایک سیاہ بابدنیا کی موجودہ صورت حال اور ہمبلوچستان میں بڑا فیصلہ، 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذعوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہعابد بخاری کی صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، بلوچستان میڈیا فورمصوبے مادر پدر آزاد نہیں، سندھ چاہے بھی تو اپنی نیوی نہیں بنا سکتا، طلال چوہدرینادرا کا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار، بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکممسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے نئے صدر منتخبعدالت کے باہر فائرنگ، لاڑکانہ کا رہائشی شخص زخمیتحریکِ صیہونیت، بیلفور اعلامیہ، عرب دنیا، برطانوی وعدہ خلافی اورتاریخ کا ایک سیاہ بابدنیا کی موجودہ صورت حال اور ہمبلوچستان میں بڑا فیصلہ، 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ

صوبے مادر پدر آزاد نہیں، سندھ چاہے بھی تو اپنی نیوی نہیں بنا سکتا، طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا کے مجوزہ پولیس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے مادر پدر آزاد نہیں، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر قانون سازی کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کرسکتی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان پولیس سروس کے قواعد کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں مجوزہ قانون سے پولیس کے کمانڈ اور تقرریوں کے نظام پر صوبائی حکومت کا اثر بڑھ سکتا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پولیس دہشت گردی کے خلاف اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، اس لیے اس کے کمانڈ اسٹرکچر اور نظم و ضبط کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے اختیارات صوبائی حکومت کے پاس زیادہ آنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ سندھ اپنی نیوی یا پنجاب اپنی ریلوے نہیں بنا سکتا، اسی طرح صوبائی حکومتیں آئین اور وفاقی قوانین سے متصادم قانون سازی نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو وفاقی حکومت پارلیمنٹ میں جائے گی اور قانون سازی کرے گی۔

وزیر مملکت نے خیبر پختونخوا پولیس کے وسائل اور سہولیات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی پولیس کو مزید وسائل اور بہتر سہولیات کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دی تھی، جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی تقرری، تبادلوں اور پالیسی معاملات میں صوبائی حکومت کے کردار میں اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم یہ مسودہ صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہی قانون بن سکے گا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *