Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہپاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہ

محمود اللہ فروغ کی NCCIA تعیناتی کا فیصلہ واپس لیا جائے، کامران مرتضیٰ

قادیانی محمود اللہ فروغ کی NCCIA میں تعیناتی ناقابلِ قبول، حکومت فوری فیصلہ واپس لے: سینیٹر کامران مرتضیٰ

اسلام آباد: جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے محمود اللہ فروغ کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں بطور ایم عہدے پر تعیناتی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم حکومت کی اس تعیناتی پر شدید احتجاج کرتے ہیں اور اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ حساس نوعیت کے قومی ادارے میں تعیناتی کے حوالے سے آئینی، قانونی اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہیں کہ مذکورہ تعیناتی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورتِ دیگر ہم آئینی و قانونی فورمز سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اس معاملے کو محض ایک انتظامی تعیناتی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو عوام اور متعلقہ حلقوں کے تحفظات کا جواب دینا ہوگا اور تعیناتی کے تمام قانونی و آئینی پہلو واضح کرنے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو جمعیت وکلاء فورم پاکستان اس معاملے پر بھرپور قانونی جنگ لڑے گا اور ہر دستیاب آئینی و قانونی فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس تعیناتی کا نوٹس لے، فیصلے پر نظرثانی کرے اور پیدا ہونے والے تحفظات کو دور کیا جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *