Banner
Daily Sahafat Quetta
September 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان کی پہلی ماس ٹرانزٹ ٹرین جناح پیپلز ٹرین عوام کی خدمت کے لیے تیارلنک شاہوانی روڈ پر ون ویلنگ کے خلاف کارروائی کی ہدایتڈیرہ بگٹی عنایت شاہ دربار پل پر مسلح افراد کی فائرنگ، 6 ایف سی اہلکار اور ڈرائیور شہیدگوٹھ محمد پناہ محمد حسنی میں بلیک ٹاپ روڈ مکمل گنداخہ: اہم ترقیاتی منصوبہ مکمل، اہل علاقہ میں خوشیکچھی، بھاگ سے کوئٹہ جانے والی مسافر ویگن دن دھاڑے گاوں حامد بستی کے مقام پر لٹ گئی9 مئی حملہ کیس: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 5 افراد نامزدشہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں،مولانا عبدالرحمن رفیقسکھر پولیس کی منشیات کے خلاف کارروائیاں، چرس اور شراب برآمد، 2 ملزمان گرفتاربچت سکیم BISP اور ہماری خواتیندریجی میں مبینہ بینک ڈکیتی، پولیس اور مسلح افراد میں فائرنگبلوچستان کی پہلی ماس ٹرانزٹ ٹرین جناح پیپلز ٹرین عوام کی خدمت کے لیے تیارلنک شاہوانی روڈ پر ون ویلنگ کے خلاف کارروائی کی ہدایتڈیرہ بگٹی عنایت شاہ دربار پل پر مسلح افراد کی فائرنگ، 6 ایف سی اہلکار اور ڈرائیور شہیدگوٹھ محمد پناہ محمد حسنی میں بلیک ٹاپ روڈ مکمل گنداخہ: اہم ترقیاتی منصوبہ مکمل، اہل علاقہ میں خوشیکچھی، بھاگ سے کوئٹہ جانے والی مسافر ویگن دن دھاڑے گاوں حامد بستی کے مقام پر لٹ گئی9 مئی حملہ کیس: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 5 افراد نامزدشہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں،مولانا عبدالرحمن رفیقسکھر پولیس کی منشیات کے خلاف کارروائیاں، چرس اور شراب برآمد، 2 ملزمان گرفتاربچت سکیم BISP اور ہماری خواتیندریجی میں مبینہ بینک ڈکیتی، پولیس اور مسلح افراد میں فائرنگ

نبوت اور قیادت کی حکمت چرواہے سے حکمران تک

محمد نسیم رنزوریار

نبوت اور قیادت کی حکمت چرواہے سے حکمران تک

قارئین کرام! تاریخِ انسانیت کے مطالعے سے یہ روشن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے بکریاں چروائیں اور انہیں چرواہے کی زندگی سے گزارا۔ اس الٰہی فیصلے کے پیچھے ایسی گہری حکمتیں اور فلسفے پوشیدہ ہیں جو قیادت اور حکمرانی کے اعلیٰ ترین معیار پیش کرتے ہیں۔ اس کا جواب اس بنیادی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ جو شخص کامیابی سے بکریاں چرائے گا، وہ کل کو ایک عظیم لیڈر اور مدبر حکمران بنے گا۔ ایک چرواہا جب اپنے ریوڑ کی نگرانی کرتا ہے، تو وہ صرف جانور نہیں پال رہا ہوتا بلکہ وہ صبر، تحمل، دور اندیشی اور انتظامِ وانصرام کی عملی تربیت حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ چرواہے کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی بکریوں کو آپس میں لڑنے نہیں دیتا، جیسے ہی کوئی دو بکریاں الجھتی ہیں، وہ فوراً انہیں چھڑوا دیتا ہے۔ اگر یہی چرواہا صفت انسان حکمران بنے گا، تو وہ معاشرے میں انتشار کی آگ نہیں لگنے دے گا۔ وہ کالے کو گورے سے، اور شیعہ کو سنی سے لڑنے نہیں دے گا بلکہ عدل و انصاف کے ذریعے طبقاتی اور فرقہ وارانہ خلیج کو پاٹ دے گا۔چرواہے کی دوسری بڑی حکمت یہ ہے کہ وہ بکریوں کو ادھر اُدھر بھٹکنے نہیں دیتا بلکہ انہیں ہمیشہ ایک جگہ جمع کر کے رکھتا ہے۔ ایک اچھا چرواہا جانتا ہے کہ اگر ریوڑ بکھر گیا تو اسے سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔ یہی فلسفہ جب حکمرانی میں منتقل ہوتا ہے تو ایسا لیڈر ملک کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیتا۔ وہ اپنی قوم کو لسانیت، صوبائیت اور گروہ بندی کے نام پر تقسیم ہونے سے بچاتا ہے اور سب کو ایک مرکز پر جمع رکھتا ہے۔ چرواہا بکریوں کا دودھ نکال کر، اسے بیچ کر حاصل ہونے والی رقم بکریوں کی خوراک اور دیکھ بھال پر ہی خرچ کرتا ہے۔ جب یہ شخص حکمران بنتا ہے، تو وہ عوام پر جو ٹیکس نافذ کرتا ہے، اسے اپنے محلات یا ذاتی بینک بیلنس کے بجائے دوبارہ عوام کی فلاح و بہبود، ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ڈھانچے پر ہی خرچ کرتا ہے۔ اس کی حکمرانی میں عوامی مال عوام کی امانت ہوتا ہے۔ایک چرواہا اپنی کسی بکری کو گم ہونے نہیں دیتا اور نہ ہی اسے کسی دوسرے کے باڑے میں جانے دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ لیڈر بنے گا تو وہ اپنے ملک کے نوجوانوں اور ٹیلنٹ کو ضائع ہونے یا بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور نہیں ہونے دے گا۔ وہ اپنے ملک میں ہی روزگار کے ایسے مواقع پیدا کرے گا کہ کسی کو دیارِ غیر میں دھکے نہ کھانے پڑیں، تاکہ ملک کا قیمتی انسانی سرمایہ اپنے وطن کی ترقی میں کام آئے۔ چرواہا اپنی ہر بکری سے یکساں محبت کرتا ہے، وہ ان کے رنگ و نسل یا جسامت کی بنیاد پر فرق نہیں کرتا۔ جب وہ حکمران بنتا ہے، تو اس کے لیے تمام شہری برابر ہوتے ہیں۔ اس کے نزدیک کسی بااثر شخص اور عام شہری میں کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ چرواہا رات بھر جاگ کر بکریوں کی حفاظت کرتا ہے تاکہ کوئی بھیڑیا ان پر حملہ نہ کر دے۔ ایک حقیقی حکمران بھی وہی ہے جو اپنی نیندیں قربان کر کے اپنی عوام کو بیرونی دشمنوں اور اندرونی شرپسندوں سے محفوظ رکھے۔موجودہ دور کے حکمرانوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ قدیم فلسفہ ایک تلخ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔ آج کے اکثر حکمران اس بنیادی نبوی اصول کو یکسر بھول چکے ہیں۔ وہ عوام کو ایک متحد اکائی کے طور پر جوڑنے کے بجائے رنگ، نسل، زبان اور فرقوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں اپنی بقاء سمجھتے ہیں۔ ملک کو ٹوٹنے سے بچانے اور استحکام لانے کے دعوے تو بہت ہوتے ہیں، لیکن عملی طور پر ملک کو معاشی اور سماجی طور پر کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ آج کے نوجوان کا ٹیلنٹ اور روزگار کی تلاش میں بیرون ملک ہجرت کرنا ایک معمول بن چکا ہے، جس سے ملک کا مستقبل تاریک تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ دماغی صلاحیتیں باہر منتقل ہو رہی ہیں۔ آج کا حکمران طبقہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس تو بے دردی سے وصول کرتا ہے، لیکن وہ رقم عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے بجائے اشرافیہ کے عیش و عشرت اور شاہانہ اخراجات کی نذر ہو جاتی ہے۔حفاظت کے نام پر عوام کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا گیا ہے۔ ملک میں اندرونی انتشار ہو یا بیرونی خطرات، کوئی ایسی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آتی جو عوام کو سکون فراہم کر سکے۔ آج کے لیڈر میں وہ چرواہے والا خلوص اور دردمندی مفقود ہے جو اسے اپنے ریوڑ کے لیے بے چین رکھتی تھی۔ اگر آج کے حکمران اس قدیم حکمت اور چرواہے کی سادہ مگر پر اثر فطرت سے سبق سیکھ لیں، تو ہر مشکل دور کا خاتمہ اور ترقی کا سفر ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک بہترین لیڈر وہی ہے جو اپنے ذاتی مفادات، اپنی انا اور اپنی کرسی کی فکر چھوڑ کر عوام کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔ جس دن ہمارے مقتدر حلقوں میں وہی جذبہ پیدا ہو گیا جو ایک چرواہے کے دل میں اپنی بکریوں کے لیے ہوتا ہے، تبھی ایک خوشحال، متحد اور مستحکم معاشرے کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے گا۔ قیادت محض پروٹوکول کا نام نہیں بلکہ یہ اس بھاری ذمہ داری کا نام ہے جس کا حساب روزِ محشر ایک چرواہے کی طرح اپنے ریوڑ کے بارے میں دینا ہوگا۔ ہمیں ایسے ہی مخلص چرواہے صفت لیڈروں کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دے سکیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *