Banner
Daily Sahafat Quetta
October 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریبقومی امن، ملکی سلامتی اور دفاعِ پاکستان کے لیے نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں گے، محمد اصغر خان کھوسوبحریہ ٹاؤن لاہور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ غنڈہ گردی، اوورسیز پاکستانی چوہدری کاشف عنایت آرائیں کے بچوں پر تشددسندھ میں پیدا ہوا، بلوچستان میں روشنی پھیلا رہا ہے – فرید بگٹی تحریر: محمد حنیف جمالیمیرپورخاص کے بجلی صارفین کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم پاکستان متحرک، حیسکو حکام سے اہم ملاقاتگزشتہ روز گنداواہ کے علاقے کھاری سے اغواء شدہ شخص کی لاش برآمدکراچی: کرائسٹ دی کنگ سیمنری کی باؤنڈری وال چار دہائیوں بعد ازسرنو تعمیر، قائم مقام اسپیکر سندھ اسمبلی انتھنی نوید کا ترقیاتی کاموں کا جائزہلیفٹیننٹ جنرل(ر) نگار جوہر پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک روشن اور قابلِ فخر باب ہے،اکرام الدینشازیہ نورین لاہور میں آئی اور چھا گئیبلوچستان میں محنت کش طبقہ شدید مسائل کا شکار ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں ، سکینہ عبداللہ خان سے چوہدری سالک حسین کی ملاقاتورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریبقومی امن، ملکی سلامتی اور دفاعِ پاکستان کے لیے نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں گے، محمد اصغر خان کھوسوبحریہ ٹاؤن لاہور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ غنڈہ گردی، اوورسیز پاکستانی چوہدری کاشف عنایت آرائیں کے بچوں پر تشددسندھ میں پیدا ہوا، بلوچستان میں روشنی پھیلا رہا ہے – فرید بگٹی تحریر: محمد حنیف جمالیمیرپورخاص کے بجلی صارفین کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم پاکستان متحرک، حیسکو حکام سے اہم ملاقاتگزشتہ روز گنداواہ کے علاقے کھاری سے اغواء شدہ شخص کی لاش برآمدکراچی: کرائسٹ دی کنگ سیمنری کی باؤنڈری وال چار دہائیوں بعد ازسرنو تعمیر، قائم مقام اسپیکر سندھ اسمبلی انتھنی نوید کا ترقیاتی کاموں کا جائزہلیفٹیننٹ جنرل(ر) نگار جوہر پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک روشن اور قابلِ فخر باب ہے،اکرام الدینشازیہ نورین لاہور میں آئی اور چھا گئیبلوچستان میں محنت کش طبقہ شدید مسائل کا شکار ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں ، سکینہ عبداللہ خان سے چوہدری سالک حسین کی ملاقات

شازیہ نورین لاہور میں آئی اور چھا گئی

کچھ لوگ آتے نہیں، دلوں میں اتر جاتے ہیں!
کچھ شخصیات موسمِ بہار کے اس خوشگوار جھونکے کی مانند ہوتی ہیں جو چند لمحوں کے لیے فضا کو چھوتا ہے، مگر اپنے لمس کی مہک دیر تک دل و جاں میں بسائے رکھتا ہے۔ شازیہ نورین بھی لاہور آئیں تو یوں محسوس ہوا جیسے برسوں کی بچھڑی ہوئی کوئی اپنی، دیارِ غیر سے لوٹ کر آ گئی ہو؛ کوئی ایسا عزیز وجود جس سے مل کر دل کی ویران بستی میں یکایک چراغاں ہو جائے اور بیتے ہوئے لمحے بھی اپنائیت کے رنگ میں ڈھل جائیں۔
شازیہ نورین نے لاہور کی ادبی فضا میں قدم رکھا تو گویا محفلوں کو رونق، لفظوں کو تازگی اور دلوں کو ایک نئی خوشی عطا کر گئی۔ پی ٹی وی کے براہِ راست پروگرام سے قائداعظم لائبریری کی علمی و ادبی فضا تک، اور پھر افحوس کلب کی محفلوں میں ان کی موجودگی نے کئی یادگار نقش ثبت کیے۔ ان کی آمد محض ایک شاعرہ کی آمد نہ تھی، یہ محبت، خلوص، شائستگی اور فن کی ایک دل آویز خوشبو تھی جو ہر ملنے والے کے دل تک پہنچی۔
مجھے بھی ان کے ساتھ چند لمحے گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔ سچ پوچھیے تو ان مختصر ساعتوں میں برسوں کی دوری سمٹ کر رہ گئی۔ دل نے بارہا یہی گواہی دی کہ بعض رشتے خون کے محتاج نہیں ہوتے؛ خلوص کی ایک نظر، اپنائیت کا ایک بول اور محبت بھری چند ساعتیں انہیں عمر بھر کے تعلق میں بدل دیتی ہیں۔ یوں لگا جیسے یورپ کی طویل مسافت نے کسی دیرینہ تعلق کو پھر سے قربت کی آغوش میں لا بٹھایا ہو۔ وقت اپنی رفتار سے گزر رہا تھا، مگر دل چاہتا تھا کہ یہ چند لمحے یہیں ٹھہر جائیں اور ملاقات کی یہ ساعتیں یادوں کے دریچے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں۔
شازیہ نورین محض ایک خوب صورت چہرے کا نام نہیں، وہ خوب سیرت بھی ہیں؛ ان کی شخصیت میں متانت، گفتگو میں مٹھاس، طبیعت میں انکسار اور شاعری میں احساس کی وہ گہرائی ہے جو کسی بھی صاحبِ ذوق کو اپنا اسیر بنا لیتی ہے۔ وہ ان خوش نصیب اہلِ قلم میں سے ہیں جن کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بنتے، بلکہ دل کی دھڑکنوں کا ترجمہ بن کر صفحۂ قرطاس پر اترتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جذبے کی حرارت بھی ہے اور فکر کی روشنی بھی؛ ان کی شخصیت میں فن کی بلندی بھی ہے اور انسانیت کی خوشبو بھی۔
اس خوب صورت ملاقات اور محبتوں بھرے سفر کا ایک روشن حوالہ ڈاکٹر صغریٰ صدف بھی ہیں، جن کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ انہی کی میزبانی اور محبت کے وسیلے سے شازیہ نورین کی لاہور آمد ممکن ہوئی اور شہرِ ادب کو ان سے ملنے، انہیں سننے اور ان کی شخصیت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے گویا دوستی، ادب اور محبت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر دل ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔
شازیہ نورین لاہور آئیں، محفلوں میں رنگ بکھیرے، دوستوں سے ملیں، محبتیں سمیٹیں اور پھر یوں دلوں میں اتر گئیں جیسے کسی اداس شام میں اچانک نسیمِ سحر چل پڑے۔ ان کی آمد نے احساس دلایا کہ زندگی کی اصل کمائی عہدے، شہرت اور دولت نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جن کی موجودگی سے دل کو قرار، روح کو آسودگی اور یادوں کو دوام ملتا ہے۔
شازیہ نورین! آپ لاہور آئیں تو شہر نے آپ کو دیکھا، محفلوں نے آپ کو سنا، مگر ہم نے آپ کی شخصیت میں خلوص، اپنائیت اور محبت کی وہ خوشبو محسوس کی جو مدتوں دلوں میں بسی رہتی ہے۔ آپ چند روز کے لیے آئیں، مگر دلوں میں ایک طویل قیام کی یاد چھوڑ گئیں۔
کچھ ملاقاتیں وقت کے دامن میں نہیں، دل کی لوح پر لکھی جاتی ہیں؛ اور پھر زمانے کی گرد بھی ان کے حروف کو دھندلا نہیں کر سکتی۔
شازیہ نورین کی آمد ہمارے لیے ایسی ہی ایک یادگار ملاقات ہے—ایک خوشبو، ایک احساس، ایک خوب صورت تعلق، جس کا نام محبت ہے!
خوش رہیے، آباد رہیے، اپنے لفظوں سے دلوں کو منور کرتی رہیے؛ کہ کچھ لوگ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں اپنا نام نہیں، اپنی خوشبو چھوڑ آتے ہیں۔
ت

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *