Banner
Daily Sahafat Quetta
October 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعظم کی پشاورآمد؛ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سمیت سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظاماتڈیجیٹل سراب اور ڈوبتی خاندانی اقدارخیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او اختیارات تفویضسعودی عرب کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ، ایک شخص جاں بحق، 8 زخمیگروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل؛ ملزم سعد عباسی پر فرد جرم عائدTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1995/21-10-2026منزلِ عقاب: خود کو بدلیں، نفرتوں کو مٹائیں، عوام کو جگائیںکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے ، مولانا عبدالرحمن رفیقرائس ملز ایسوسی ایشن اوستہ محمد کی سابقہ کابینہ تحلیل، نئے انتخابات کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائمسکھر: کیمرا مین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکبادوزیراعظم کی پشاورآمد؛ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سمیت سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظاماتڈیجیٹل سراب اور ڈوبتی خاندانی اقدارخیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او اختیارات تفویضسعودی عرب کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ، ایک شخص جاں بحق، 8 زخمیگروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل؛ ملزم سعد عباسی پر فرد جرم عائدTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1995/21-10-2026منزلِ عقاب: خود کو بدلیں، نفرتوں کو مٹائیں، عوام کو جگائیںکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے ، مولانا عبدالرحمن رفیقرائس ملز ایسوسی ایشن اوستہ محمد کی سابقہ کابینہ تحلیل، نئے انتخابات کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائمسکھر: کیمرا مین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد

ڈیجیٹل سراب اور ڈوبتی خاندانی اقدار

گزشتہ دنوں سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کے نواحی علاقے ملوک شاہ سے ایک ایسی لرزہ خیز خبر سامنے آئی جس نے سسکتے ہوئے معاشرے کی نبض پر ایک گہرا سوالیہ نشان ثبت کر دیا۔ محض ایک اسمارٹ فون نہ ملنے پر بارہ سالہ معصوم بچے کا اپنے ہی شفیق باپ پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دینا کوئی عام جرم نہیں۔ یہ کسی ایک فرد کی سرکشی نہیں، بلکہ اس فکری، نفسیاتی اور سماجی دیوالیہ پن کا نقطۂ عروج ہے جس کی طرف ہماری نئی نسل تیزی سے دھکیلی جا رہی ہے۔ وہ ہاتھ جنہیں قلم تھامنا تھا، جنہیں بزرگوں کے احترام میں مؤدب ہونا تھا، وہی ہاتھ ایک مصنوعی دنیا کی ہوس میں اپنوں ہی کے خون سے رنگے جا رہے ہیں۔
ٹھٹھہ کا یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ جزیرہ نہیں، بلکہ یہ اس عالمی وبا کا تسلسل ہے جسے ماہرینِ نفسیات “ڈیجیٹل لت”
(Digital Addiction)
کا نام دیتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، اسمارٹ فون کی اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی اور سوشل میڈیا کا بے ہنگم استعمال بچوں کے دماغ میں ‘ڈوپامین’ نامی کیمیکل کو اسی طرح متاثر کرتا ہے جیسے کوئی نشہ آور چیز کرتی ہے۔ جب کسی بچے کو اس ورچوئل دنیا سے اچانک الگ کیا جاتا ہے تو وہ شدید نفسیاتی خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے، جس کا اظہار بے پناہ غصے، چڑچڑے پن اور بعض اوقات خونی جارحیت کی صورت میں ہوتا ہے۔ مغرب سے لے کر مشرق تک، اسمارٹ فون اب محض ایک آلہ نہیں رہا، بلکہ ایک خاموش قاتل بن چکا ہے جو خاندانی مکالمے کو نگل رہا ہے۔
کلاسیکی فلسفہ اور ہماری ادبی روایات ہمیں قناعت، صبر اور رشتوں کی تقدیس سکھاتی تھیں۔ مگر آج کا ڈیجیٹل دور ہمارے بچوں کو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ “اگر آپ کے پاس برانڈڈ اسمارٹ فون یا جدید ترین گیجٹ نہیں ہے تو آپ کا کوئی وجود ہی نہیں”۔ یہ مصنوعی احساسِ کمتری اور احساسِ محرومی نوجوان ذہنوں میں ایک ایسا لاوا بن کر جمع ہوتا ہے جو آخرکار اپنوں ہی کے خلاف پھٹ پڑتا ہے۔ ٹھٹھہ کے اس غریب باپ کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اس مادی دوڑ میں اپنے بچے کی “ڈیجیٹل ہوس” پوری کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ اور شاید وہ یہ بھول گیا تھا کہ جس اسکرین کو وہ بچے کا دل بہلانے کا ذریعہ سمجھ رہا ہے، وہی اسکرین دراصل اس کے جذبات کا قتل کر رہی ہے۔
اس کا ایک بہترین حل یہ ہے کہ ہم صرف نوحہ کناں رہ کر اس دلدل سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اگر ہمیں اپنی اگلی نسل کو بچانا ہے تو ہمیں ہنگامی بنیادوں پر چند تعمیری اقدامات اٹھانا ہوں گے:
والدین اور بچوں کے درمیان اسکرین کے بجائے آنکھوں کا اور دل کا رابطہ بحال کرنا ہوگا۔ دن میں کم از کم ایک وقت کا کھانا بغیر موبائل فون کے، پورے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی روایت کو زندہ کرنا لازم ہے۔
تعلیمی اداروں اور گھروں میں بچوں کے لیے اسکرین کا وقت محدود کرنا ہوگا اور انہیں کتاب، کھیل کے میدان اور فطرت کے قریب لانا ہوگا۔
ہمارے ہاں ذہنی صحت اور بچوں کی کاؤنسلنگ کو عیب سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر اسکول اور محلے کی سطح پر تربیتِ اطفال اور بچوں کے بدلتے رویوں پر رہنمائی کے مراکز قائم کیے جائیں۔
ٹھٹھہ کا یہ روح فرسا واقعہ ایک انتباہی گھنٹی ہے — ایک ایسا سائرن جو ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ اگر ہم نے اب بھی اپنے بچوں کے ہاتھوں سے موبائل چھین کر انہیں کتاب، اخلاقیات اور رشتوں کی گرمجوشی نہ دی تو اگلا شکار کوئی بھی باپ ہو سکتا ہے۔ چاقو بچے کے ہاتھ میں ضرور تھا، مگر اس پر دھار اس ڈیجیٹل تنہائی اور مادہ پرستانہ معاشرے نے لگائی تھی، جس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *