Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں نئے صوبوں اور چھوٹے اضلاع کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے امن کو سبوتاڑ کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہو گا، دشمنوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے، شاہد رندسرکاری نرخوں سے زائد آٹا بیچنے والے 8 بڑے ڈیلرز گرفتار، جیل منتقلوزیراعظم نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی ہدایت کردیہم کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں آئے، علاقے کیلئے کام کرینگے: گورنر کے پیپی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہلسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے درمیان خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمیگوادر: سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاکپنجاب میں ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں 145 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشافتبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذبلوچستان میں نئے صوبوں اور چھوٹے اضلاع کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے امن کو سبوتاڑ کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہو گا، دشمنوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے، شاہد رندسرکاری نرخوں سے زائد آٹا بیچنے والے 8 بڑے ڈیلرز گرفتار، جیل منتقلوزیراعظم نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی ہدایت کردیہم کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں آئے، علاقے کیلئے کام کرینگے: گورنر کے پیپی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہلسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے درمیان خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمیگوادر: سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاکپنجاب میں ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں 145 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشافتبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذ

مٹی کی خوشبو اور رشتوں کی دھوپ

تحریر: محمد صدیق مدنی ۔۔۔ چمن
انسان جب دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں مگر اس کے گرد محبت کے بے شمار ہاتھ پھیلے ہوتے ہیں۔ ماں کی آغوش، باپ کی انگلی، گھر کی دہلیز، صحن میں پھیلا ہوا سایہ اور بزرگوں کی دعائیں یہی وہ پہلی دولت ہے جس سے انسان اپنی زندگی کا سفر شروع کرتا ہے۔ اس وقت اسے معلوم نہیں ہوتا کہ زندگی کے سب سے قیمتی خزانے وہ ہیں جن کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جاسکتی۔ وقت گزرتا ہے تو انسان کے قدم گھر کی دہلیز سے نکل کر دنیا کی وسعتوں میں پھیلنے لگتے ہیں۔ اس کی آنکھوں میں خواب اترتے ہیں، خواہشیں انگڑائیاں لیتی ہیں اور کامیابی کی منزلیں اسے اپنی طرف بلانے لگتی ہیں۔ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلتا ہے جو یقیناً اس کا حق ہے لیکن کبھی کبھی منزلوں کی تلاش میں وہ ان راستوں کو بھول جاتا ہے جن پر چل کر اس نے سفر کرنا سیکھا تھا۔ یہی انسانی زندگی کا ایک عجیب المیہ ہے کہ انسان جس سایے میں پروان چڑھتا ہے اور جوان ہوکر کبھی اسی سایے کو اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے۔ گاؤں کی مٹی میں ایک عجیب خوشبو ہوتی ہے۔ یہ خوشبو صرف بارش کے بعد زمین سے نہیں اٹھتی بلکہ اس میں بچپن کی شرارتیں، ماں کی صدائیں، باپ کی محنت، دوستوں کی ہنسی اور شام کے وقت گھر لوٹتے ہوئے قدموں کی آہٹ بھی شامل ہوتی ہے۔ وہاں وقت شاید گھڑی کی سوئیوں سے کم اور لوگوں کی پہچان سے زیادہ ناپا جاتا ہے۔ کسی کے گھر میں خوشی ہو تو پورا محلہ شریک ہوتا ہے اور کسی کے آنگن میں غم اترے تو دروازے پر دستک دینے والوں کی کمی نہیں رہتی۔ پھر شہروں کی وسعتیں انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ بلند عمارتیں، روشن بازار، مصروف سڑکیں اور کامیابی کے نئے امکانات اس کے خوابوں کو وسعت دیتے ہیں مگر ان وسعتوں کے درمیان ایک ایسی تنہائی بھی جنم لیتی ہے جسے اکثر کوئی نام نہیں دیا جاتا۔ ایک ہی عمارت میں رہنے والے لوگ برسوں ایک دوسرے کے پڑوسی رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کے دکھ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ دروازے محفوظ ہوجاتے ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ کیا ترقی کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے مکان بلند ہوجائیں اور ہمارے تعلقات چھوٹے؟ کیا کامیابی اسی کا نام ہے کہ ہمارے پاس سہولتیں تو بہت ہوں مگر کسی کی خاموشی سننے کے لیے وقت نہ ہو؟ یہ سوال کسی ایک شخص سے نہیں ہمارے پورے معاشرے سے ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں رابطے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں لیکن رابطے کی روح کہیں کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ انگلیوں کی ایک جنبش سے ہزاروں میل دور بیٹھے انسان تک پیغام پہنچ جاتا ہے مگر ساتھ والے کمرے میں بیٹھے کسی اپنے سے دو محبت بھرے جملے کہنا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ چہروں کی تصویریں محفوظ کرنے کا اہتمام بڑھ گیا ہے مگر ان چہروں پر گزرتے ہوئے دکھ کو پڑھنے کی فرصت کم ہوگئی ہے۔ ہم دوسروں کی خوشیوں کی تصویریں دیکھتے ہیں، ان کی کامیابیوں پر تبصرے کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے بہترین لمحے دنیا کو دکھانے میں مصروف رہتے ہیں لیکن زندگی کے وہ سادہ لمحے، جن میں کسی کے سر پر ہاتھ رکھنا اور کسی کی بات خاموشی سے سن لینا یا کسی تھکے ہوئے انسان کے لیے پانی کا گلاس رکھ دینا شامل ہے اکثر ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ حالانکہ زندگی کی اصل خوب صورتی انہی معمولی دکھائی دینے والے اعمال میں پوشیدہ ہے۔ رشتے کسی معاہدے کے محتاج نہیں ہوتے انہیں کاغذ پر لکھی ہوئی شرائط نہیں بلکہ دل میں موجود احساس زندہ رکھتا ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی کامیابی سے خوش ہوتی ہے مگر اس کی خوشی کا سب سے بڑا لمحہ شاید وہ ہوتا ہے جب برسوں بعد وہی بیٹا اس کے پاس بیٹھ کر اپنے بچپن کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ ایک باپ اپنی اولاد کے لیے عمر بھر محنت کرتا ہے لیکن اس کی تھکی ہوئی آنکھوں کو کبھی کبھی صرف اتنا سننا ہوتا ہے کہ آپ نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ بزرگوں کی زندگی بھی ایک کھلی کتاب کی مانند ہوتی ہے۔ ان کے چہروں کی جھریوں میں وقت کے نقش اور ان کی خاموشیوں میں کئی زمانوں کی داستانیں چھپی ہوتی ہیں۔ ہم اکثر ان کی باتوں کو پرانے زمانے کی حکایت سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں حالاں کہ ان کے تجربات وہ راستے ہیں جن پر چل کر ہم بہت سی ٹھوکروں سے بچ سکتے ہیں۔ افسوس یہ نہیں کہ زمانہ بدل رہا ہے زمانے کا بدلنا تو فطرت کا اصول ہے۔ افسوس یہ ہے کہ کہیں ہم تبدیلی کے نام پر اپنی انسانی قدروں سے دست بردار تو نہیں ہورہے۔ روایت کا مطلب ماضی میں قید ہوجانا نہیں اور جدیدیت کا مطلب اپنے وجود کی جڑیں کاٹ دینا بھی نہیں۔ درخت جتنا بھی بلند ہوجائے اس کی زندگی کا انحصار ان جڑوں پر رہتا ہے جو زمین کی تاریکی میں خاموشی سے اپنا کام کرتی ہیں۔ اگر جڑیں خشک ہوجائیں تو شاخوں کی سرسبزی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ انسان بھی اپنی تہذیب، زبان، خاندان اور اجتماعی یادداشت سے وابستہ رہ کر ہی اپنی شناخت مکمل کرتا ہے۔ جو معاشرہ اپنے بزرگوں کے تجربے، اپنی زبان کی لطافت اور اپنے رشتوں کی حرمت کو بھلا دیتا ہے وہ بظاہر ترقی کے بہت سے سنگ میل عبور کرلیتا ہے مگر اندر سے ایک ایسی کمی کا شکار ہوجاتا ہے جسے دولت اور آسائش بھی پورا نہیں کرسکتیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں سکھانا بلکہ اچھا انسان بننا بھی سکھانا ہے۔ انہیں یہ بتانا ہے کہ تعلیم کا مقصد محض روزگار حاصل کرنا نہیں، شعور پیدا کرنا بھی ہے، طاقت کا مقصد دوسروں کو دبانا نہیں، کمزور کا سہارا بننا بھی ہے اور محبت کا مقصد صرف اپنے لیے محبت حاصل کرنا نہیں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی ہے۔ زندگی کا حسن اس وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان اپنی ذات سے آگے بڑھ کر کسی دوسرے کے وجود کی اہمیت محسوس کرنے لگتا ہے۔ کبھی کسی پرانے گھر کی دہلیز پر بیٹھ کر دیکھیے۔ وہاں وقت کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ کسی کونے میں رکھی ہوئی پرانی چارپائی، دیوار پر لٹکی ہوئی دھندلی تصویر اور صحن میں کھڑا بوڑھا درخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف آگے بڑھنے کا نام نہیں کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ ہم ماضی میں واپس چلے جائیں بلکہ اس لیے کہ ہمیں معلوم رہے کہ ہم کہاں سے چلے تھے اور ہمارے سفر کی معنویت کیا تھی۔ ایک دن ہم سب کو اپنی اپنی منزلوں سے آگے کسی ایسی جگہ پہنچنا ہے جہاں عہدے، شہرت اور کامیابی کے عنوان پیچھے رہ جائیں گے وہاں شاید کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ ہم نے کتنی بڑی عمارت بنائی تھی مگر یہ ضرور یاد رکھا جائے گا کہ ہم نے کتنے دلوں کو جگہ دی تھی۔ اسی لیے اپنے رشتوں کو وقت دیجیے، بزرگوں کی بات سنیے، بچوں کے سوالوں کا جواب دیجیے اور ان لوگوں کی قدر کیجیے جن کی موجودگی آپ کی زندگی کو معمول کے مطابق چلنے میں مدد دیتی ہے۔ محبت کا اظہار کسی خاص دن کا محتاج نہیں۔ کبھی ایک فون، کبھی ایک ملاقات، کبھی ایک معذرت اور کبھی ایک خاموش دعا بھی برسوں کی دوری کو کم کرسکتی ہے۔ مٹی کی خوشبو آخرکار ہمیں اپنی طرف بلاتی ہے یہ خوشبو ہماری اصل، ہماری یادوں اور ان رشتوں کی علامت ہے جو زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں بھی ہمارا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ انسان جتنا چاہے بلند ہوجائے اسے اپنی زمین سے تعلق نہیں توڑنا چاہیے۔ کیونکہ بلندی کا حسن اسی وقت ہے جب انسان اپنی جڑوں سے وابستہ رہے اور زندگی کی کامیابی اسی وقت مکمل ہے جب اس کے دامن میں محبت، احساس اور انسانیت بھی محفوظ رہیں۔ شاید زندگی ہم سے صرف ایک ہی سوال کرے گی کہ تم نے اپنے لیے کیا حاصل کیا؟ اور اس سوال سے بھی زیادہ اہم ایک دوسرا سوال ہوگا کہ تمہاری وجہ سے کسی دوسرے کی زندگی میں کیا آسانی، کیا خوشی اور کیا روشنی پیدا ہوئی؟ جو شخص اس دوسرے سوال کا جواب محبت سے دے سکے شاید وہی زندگی کی اصل دولت کا وارث ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *