Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسیسردار نثار علی خان ہزارہ کا انتقال بلوچستان کے لیے بڑا نقصان ہے، کاشف حیدریخواتین کی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیبلوچستان پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 ہفتوں میں 50 اشتہاری اور 279 مفرور گرفتارچشمہ پل دسمبر تک ہر صورت مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں ہوگا، میر سلیم احمد کھوسہقلعہ عبداللہ میں منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دوبندی میں تین روز سے چھاپے جاریکوئٹہ میں کھلی کچہری، شہریوں نے مسائل پیش کردیے، ڈپٹی کمشنر کے فوری احکاماتبلوچستان فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 35 مراکز پر جرمانے، 47 کو اصلاحی نوٹس، دودھ میں پانی اور پاؤڈر کی ملاوٹ بھی پکڑی گئیدکی انسانیت کی خدمت اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی بحالی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا، ولی محمد نورزئیذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسیسردار نثار علی خان ہزارہ کا انتقال بلوچستان کے لیے بڑا نقصان ہے، کاشف حیدریخواتین کی فلاح کے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیبلوچستان پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 ہفتوں میں 50 اشتہاری اور 279 مفرور گرفتارچشمہ پل دسمبر تک ہر صورت مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں ہوگا، میر سلیم احمد کھوسہقلعہ عبداللہ میں منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دوبندی میں تین روز سے چھاپے جاریکوئٹہ میں کھلی کچہری، شہریوں نے مسائل پیش کردیے، ڈپٹی کمشنر کے فوری احکاماتبلوچستان فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 35 مراکز پر جرمانے، 47 کو اصلاحی نوٹس، دودھ میں پانی اور پاؤڈر کی ملاوٹ بھی پکڑی گئیدکی انسانیت کی خدمت اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی بحالی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا، ولی محمد نورزئی

گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی اقدام نہیں آئین پاکستان کا حصہ ہے،بخت محمد کاکڑ

صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کا حصہ ہے، اسے غیر آئینی اقدام قرار دینا درست نہیں، جہاں صوبائی حکومت اپنے فرائض موثر انداز میں انجام دینے میں ناکام ہو، وہاں آئینی تقاضوں کے مطابق گورنر راج کے نفاذ پر غور کیا جا سکتا ہے،موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی اور حکومتی امور چلانے کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، دہشت گردی جیسے ناسور سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہے، لیکن جب ایسے سنگین حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کا مظاہرہ کیا جائے تو گورنر راج جیسے آئینی اقدام پر غور ناگزیر ہو جاتا ہے، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو آئینی اور قانونی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، اسے محض سیاسی تنقید کا موضوع نہ بنایا جائے،بلوچستان میں بھی 2013 میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، اس لیے گورنر راج کی بات کرنا کوئی انہونی یا غیر معمولی بات نہیں، گورنر راج آئین میں موجود ایک انتظامی و آئینی طریقہ کار ہے، اس پر سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اسے تنقید کی بنیاد بنا کر غیر معمولی معاملہ قرار دینا مناسب نہیں،صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری عوام کو انتظامی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے آئینی معاملات پر بحث سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حقائق اور آئین کی روشنی میں ہونی چاہیے، کسی بھی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ آئین میں درج طریقہ کار اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *