Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سونا عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت مستحکمکراچی میں گرمی کی شدت برقرار؛ پارہ 40 ڈگری چھونے کا امکانایف بی آر نے اسٹیل یونٹس کی بجلی پر 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس کا اطلاق کر دیاسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضلیکم جنوری 2027 سے بجلی کا نیا ٹیرف 27.31 روپے فی یونٹ ہونے کا امکانبڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفتسونا عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت مستحکمکراچی میں گرمی کی شدت برقرار؛ پارہ 40 ڈگری چھونے کا امکانایف بی آر نے اسٹیل یونٹس کی بجلی پر 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس کا اطلاق کر دیاسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضلیکم جنوری 2027 سے بجلی کا نیا ٹیرف 27.31 روپے فی یونٹ ہونے کا امکانبڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفت

جب ظالم ہنستا ہے، انسانیت روتی ہے

محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام، ظلم کی بھی ایک عجیب دنیا ہے، جہاں ایک طرف ظالم کے ہونٹوں پر قہقہے رقص کرتے ہیں اور دوسری طرف مظلوم کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کی پوری کائنات کو ڈبو دیتے ہیں۔ کیسا عجیب انصاف ہے اس دنیا کا کہ کسی کے ہاتھ میں بارود ہے، کسی کے ہاتھ میں معصوم بچے کا بے جان وجود؛ کوئی اپنی فتح کے جشن مناتا ہے، کوئی اپنے اجڑے ہوئے گھر کی راکھ میں اپنے پیاروں کی خوشبو تلاش کرتا ہے۔ کوئی ظلم کرکے سینہ تان کر چلتا ہے اور کوئی بے گناہ ہوکر بھی سر جھکائے اپنی بربادی کا ماتم کرتا ہے۔ اے دنیا کے منصفو! کیا تمہارے ضمیر مرچکے ہیں؟ کیا تمہارے دلوں میں دھڑکن تو باقی ہے مگر احساس کا جنازہ نکل چکا ہے؟ کیا مظلوم کا خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ ظالم کے ہاتھ رنگین ہوتے رہیں اور انصاف کی زبان گنگ رہے؟ کبھی اس باپ کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو جس نے اپنی ننھی بیٹی کو سینے سے لگایا ہوا ہے۔ باہر دھماکوں کی گونج ہے، فضا میں بارود کی بو ہے، دیواریں لرز رہی ہیں اور موت دروازے پر دستک نہیں دے رہی بلکہ اسے توڑ کر اندر گھس رہی ہے۔ بچی خوف سے باپ کی گردن میں بانہیں ڈال کر پوچھتی ہے، ’’ابو! ہم نے کیا کیا ہے؟‘‘ باپ کے پاس جواب نہیں، صرف کانپتے ہونٹ، بھیگی پلکیں اور ایک ایسی دعا ہے جو حلق میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کے ماتھے کو چومتا ہے، جیسے اس ایک بوسے میں پوری زندگی سمیٹ دینا چاہتا ہو۔ پھر ایک دھماکا ہوتا ہے، چیخیں بلند ہوتی ہیں، دھواں چھا جاتا ہے اور وہ ننھی آواز خاموش ہوجاتی ہے۔ باپ کی گود میں اس کی دنیا اجڑ چکی ہوتی ہے۔ وہ اپنی بچی کو پکارتا ہے، اس کے چہرے سے گرد صاف کرتا ہے، اس کے ننھے ہاتھوں کو چومتا ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اس لمحے باپ نہیں روتا، اس کے اندر ایک پوری کائنات چیخ چیخ کر مر جاتی ہے۔ غزہ! اے لہولہان غزہ! تیری گلیوں میں اب بچوں کی ہنسی سے زیادہ ملبے کے نیچے دبے خوابوں کی خاموشی سنائی دیتی ہے۔ تیرے آسمان پر اڑتے جہازوں کے سائے ننھی آنکھوں کے خواب نگل جاتے ہیں۔ وہاں ایک ماں اپنے بچے کو مٹی سے نکالنے کے لیے ننگے ہاتھوں سے پتھر ہٹاتی ہے، اس کی انگلیاں زخمی ہوجاتی ہیں، ناخن ٹوٹ جاتے ہیں، مگر وہ ہار نہیں مانتی؛ کیونکہ ماں کے لیے اس کا بچہ صرف جسم نہیں، اس کی سانس، اس کی دعا، اس کی زندگی ہوتا ہے۔ پھر جب ملبہ ہٹتا ہے اور وہ اپنے لختِ جگر کا چہرہ دیکھتی ہے تو اس کی چیخ آسمان سے سوال کرتی ہے: ’’اے خدا! میرا قصور کیا تھا؟‘‘ غزہ کے ہسپتالوں میں درد صرف جسموں میں نہیں، ان آنکھوں میں بھی ہے جنہوں نے اپنے پورے خاندان کو کھو دیا۔ وہاں یتیم بچوں کے لیے عید کے کپڑوں سے زیادہ ایک زندہ باپ کی واپسی قیمتی ہے، اور بھوک سے بلکتے بچے کے لیے دنیا کی ساری تقریریں ایک روٹی کا نعم البدل نہیں۔ وہاں ہر منہدم گھر صرف اینٹوں کا ڈھیر نہیں، کسی کی یادوں، کسی کی محبت اور کسی کے مستقبل کا مزار ہے۔ فلسطین کا المیہ صرف ایک سرزمین کا دکھ نہیں، انسانیت کے ضمیر پر لکھا ہوا وہ سوال ہے جس کا جواب طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ دینے سے گھبراتے ہیں۔ جب بے گناہ شہری جان سے جاتے ہیں، جب بچے خوف اور بھوک کے درمیان پلتے ہیں، جب خاندان ایک لمحے میں بکھر جاتے ہیں، تو دنیا کے بڑے بڑے دعوے اپنی چمک کھو دیتے ہیں۔ امن کی باتیں کرنے والی زبانیں اگر معصوموں کی چیخوں پر خاموش رہیں تو ان کے الفاظ محض کھوکھلے نعرے ہیں۔ کسی قوم کے دکھ کو اس کے مذہب، نسل یا سرحد کی بنیاد پر کم نہیں کیا جاسکتا۔ فلسطینی بچہ بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا کسی طاقتور ملک کے حکمران کا بچہ؛ اس کی آنکھوں کے خواب بھی اتنے ہی روشن ہیں، اس کی زندگی بھی اتنی ہی مقدس ہے۔ پھر آخر کس قانون، کس اخلاق اور کس ضمیر نے یہ اجازت دی کہ کسی کے بچے کا خون خبر بن کر گزر جائے اور کسی دوسرے کے بچے کی موت پر پوری دنیا سوگ منائے؟ افغانستان کی وادیوں نے بھی جنگ کے طویل سائے دیکھے ہیں۔ کتنی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو رخصت کیا اور کتنی واپس آنے والی راہوں پر عمر بھر آنکھیں بچھائے رکھیں۔ کتنے بچے ایسے تھے جن کے کھلونوں سے پہلے ان کے ہاتھوں میں خوف آگیا، جن کے بچپن کو دھماکوں، غربت اور بے گھری نے نگل لیا۔ عراق کی سرزمین، جس نے تہذیبوں کے عروج دیکھے تھے، جنگوں اور تباہی کے زخم بھی سہتی رہی۔ وہاں بھی کسی ماں نے اپنے بیٹے کی تصویر سینے سے لگا کر رات گزاری، کسی باپ نے اپنے بچے کے لیے دوا ڈھونڈی، کسی بہن نے اپنے بھائی کی واپسی کے انتظار میں دروازے کی طرف دیکھا۔ جنگ کے نقشے بنانے والوں کے لیے یہ سب شاید اعداد و شمار ہوں، مگر ان اعداد کے پیچھے دھڑکتے دل تھے، ادھورے خواب تھے، محبتیں تھیں اور ایسے گھر تھے جن میں کبھی قہقہے گونجا کرتے تھے۔ اور پاکستان! اے میرے وطن کے مظلوم لوگو! تمہاری کہانی بھی دکھ کے کئی باب اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ کہیں دہشت گردی نے گھروں کے چراغ بجھائے، کہیں سیلاب نے بستیاں اجاڑ دیں، کہیں غربت نے باپ کو بچوں کے سامنے بے بس کردیا، کہیں ناانصافی نے غریب کی فریاد کو دروازوں سے واپس لوٹا دیا۔ کہیں ایک مزدور دن بھر کی مشقت کے بعد خالی ہاتھ گھر پہنچتا ہے اور بچوں کی بھوکی نگاہوں سے نظریں چرا لیتا ہے۔ کہیں کسی بیوہ کی برسوں کی جمع پونجی ایک حادثے کے ساتھ مٹی ہوجاتی ہے، کہیں کوئی بے سہارا شخص انصاف کی دہلیز پر اپنی عمر گزار دیتا ہے۔ ظلم صرف بندوق کی گولی نہیں؛ ظلم وہ بھی ہے جب طاقت ور کمزور کا حق کھا جائے، جب کسی کی مجبوری کو تماشا بنایا جائے، جب کسی غریب کی آہ کو اس کی کمزوری سمجھ کر روند دیا جائے۔ مظلوم کی خاموشی رضامندی نہیں ہوتی؛ اکثر وہ اس کی آخری پناہ ہوتی ہے، کیونکہ اس کے پاس فریاد کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ سب سے زیادہ درد اس وقت ہوتا ہے جب ظالم ظلم کرکے ہنستا ہے۔ اس کا قہقہہ مظلوم کے سینے میں خنجر بن کر اترتا ہے۔ اسے شاید معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کسی کے آنسو صرف پانی کے قطرے نہیں، وہ ٹوٹے ہوئے اعتماد، بکھرے ہوئے خواب اور چھینی ہوئی زندگی کے گواہ ہوتے ہیں۔ ظالم سمجھتا ہے کہ اس نے کسی کمزور کو جھکا دیا، مگر حقیقت میں اس نے اپنے اندر کے انسان کو قتل کردیا۔ وہ دوسروں کے گھروں کو راکھ کرکے اپنی فتح سمجھتا ہے، حالانکہ راکھ میں بھی مظلوم کی آہ باقی رہتی ہے۔ طاقت کا نشہ عارضی ہے، اقتدار کی کرسی عارضی ہے، دولت اور جاہ و حشم بھی عارضی ہیں؛ مگر کسی یتیم کی سسکی، کسی ماں کی بددعا اور کسی بے گناہ کے خون کا سوال تاریخ کے صفحات پر دیر تک زندہ رہتا ہے۔ اے انسان! ذرا ٹھہر، اپنے ہاتھوں کو دیکھ، اپنے ضمیر سے پوچھ کہ کہیں ان پر کسی بے بس کی آہوں کا بوجھ تو نہیں۔ اگر تیرے قہقہے کسی کی چیخوں کو دبا رہے ہیں تو یہ خوشی نہیں، تیری انسانیت کی شکست ہے۔ اگر تیرے سکون کی بنیاد کسی مظلوم کی بربادی پر رکھی ہے تو تیرا محل بھی اندر سے ویران ہے۔ یاد رکھ، مظلوم کا آنسو کمزوری کی علامت نہیں؛ یہ اس دنیا کے خلاف گواہی ہے جو انصاف کا دعویٰ کرتی ہے مگر ہر دکھ کو برابر اہمیت نہیں دیتی۔ ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، بے گناہوں کی حفاظت، انسانی امداد، منصفانہ احتساب اور پائیدار امن کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ کیونکہ خاموشی کبھی کبھی ظالم کے لیے سب سے مضبوط دیوار بن جاتی ہے۔ اور آخر میں، اگر کبھی رات کے سناٹے میں تمہیں کسی بچے کی سسکی سنائی دے، کسی ماں کی آہ تمہارے دل کے دروازے پر دستک دے، تو اسے دنیا کے شور میں گم نہ ہونے دینا۔ شاید وہ غزہ کے ملبے سے اٹھتی آواز ہو، شاید افغانستان کے کسی اجڑے گھر کی پکار، عراق کے کسی یتیم کی خاموش فریاد، یا پاکستان کے کسی غریب باپ کی ٹوٹی ہوئی دعا۔ یاد رکھو، ظالم کا قہقہہ چند لمحوں کا ہوتا ہے، مگر مظلوم کے آنسو زمانوں کی گواہی بن جاتے ہیں۔ ایک دن انسانیت کو یہ جواب دینا ہوگا کہ جب معصوم خون میں نہا رہے تھے، جب باپ اپنی گود میں دم توڑتی بیٹی کو سینے سے لگائے رو رہا تھا، جب مائیں ملبے میں اپنے بچوں کو تلاش کررہی تھیں، تب ہم کہاں تھے؟ اس دن شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ ظالم کون تھا؛ بلکہ یہ ہوگا کہ ہم نے مظلوم کی آواز سن کر بھی خاموش رہنے کا انتخاب کیوں؟

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *