Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوریبلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ غیر قانونی اقدام ہوگا، مولانا عبدالواسعآٹے کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینیترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ،سلیم کھوسہبلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر غور، رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت اجلاسنوجوانوں کی آواز چودھری نعیم کریممیر نادر علی ابڑو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر لیگل مقررامامیہ اسکاؤٹس اوپن گروپ پاکستانچمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوریبلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ غیر قانونی اقدام ہوگا، مولانا عبدالواسعآٹے کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینیترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ،سلیم کھوسہبلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر غور، رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت اجلاسنوجوانوں کی آواز چودھری نعیم کریممیر نادر علی ابڑو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر لیگل مقررامامیہ اسکاؤٹس اوپن گروپ پاکستان

ہمارا معاشرہ اور اخلاقی زوال

تحریر: ابوبکر دانش میروانی بلوچ

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، کشادہ سڑکیں، جدید ٹیکنالوجی یا دولت کی فراوانی نہیں، بلکہ اس کے افراد کے اخلاق، کردار، تہذیب اور باہمی احترام سے ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں سچائی، دیانت داری، ہمدردی، برداشت اور انسانیت کو اہمیت دی جائے، وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ لیکن جب ان اقدار کو فراموش کر دیا جائے تو ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ بھی اخلاقی زوال کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آج ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لے رہے ہیں جہاں سچ بولنے والے کو سادہ لوح، دیانت داری اختیار کرنے والے کو بے وقوف اور دوسروں کا حق ادا کرنے والے کو کمزور سمجھا جانے لگا ہے۔ ذاتی مفادات نے اجتماعی سوچ کو کمزور کر دیا ہے۔ رشتوں میں خلوص کی جگہ مفاد، گفتگو میں شائستگی کی جگہ تلخی اور اختلافِ رائے میں برداشت کی جگہ نفرت نے لے لی ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیوں پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
اخلاقی زوال کی ایک بڑی وجہ تربیت کا فقدان بھی ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ اور والدین اس کے اولین استاد ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں سچائی، احترام، برداشت اور ذمہ داری کا درس نہ دیا جائے تو بچے کی شخصیت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف کتابی علم فراہم کرنا نہیں، بلکہ طلبہ میں کردار سازی، نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری اور انسانیت سے محبت پیدا کرنا بھی ہے۔ تعلیم اگر انسان کو اچھے اخلاق سے آراستہ نہ کر سکے تو اس کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی ہمارے رویّوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بعض لوگ شہرت اور مقبولیت کی خاطر دوسروں کی عزتِ نفس مجروح کرنے، جھوٹی خبریں پھیلانے اور غیر مصدقہ الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو ذاتی حملہ سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آزادیِ اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے، اور کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا بہادری نہیں، بلکہ اخلاقی کمزوری ہے۔
تاہم، معاشرے کی اصلاح ناممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذات سے تبدیلی کا آغاز کرے۔ والدین بچوں کی عملی تربیت کریں، اساتذہ کردار سازی کو ترجیح دیں، علمائے کرام اور دانش ور مثبت سوچ کو فروغ دیں، جبکہ ذرائع ابلاغ سچائی، برداشت اور سماجی ذمہ داری کا پیغام عام کریں۔ ہمیں دوسروں کے حقوق کا احترام، بزرگوں کی عزت، چھوٹوں سے شفقت، خواتین کے احترام اور ضرورت مندوں کی مدد کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
یاد رکھیے! معاشرے اخلاقی نعروں سے نہیں، بلکہ عملی کردار سے بدلتے ہیں۔ اگر ہم ایک مہذب، پُرامن اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویّوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ معاشرہ ہمارے لیے کیا کر رہا ہے، بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہم معاشرے کی بہتری کے لیے کیا کر رہے ہیں۔
اخلاقی زوال کا علاج دوسروں پر الزام تراشی نہیں، بلکہ اپنی اصلاح، اپنے کردار کی تعمیر اور انسانیت سے محبت میں پوشیدہ ہے۔ جس دن ہم نے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا، اسی دن سے ایک بہتر معاشرے کی بنیاد پڑ جائے گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *