Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریبقومی امن، ملکی سلامتی اور دفاعِ پاکستان کے لیے نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں گے، محمد اصغر خان کھوسوبحریہ ٹاؤن لاہور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ غنڈہ گردی، اوورسیز پاکستانی چوہدری کاشف عنایت آرائیں کے بچوں پر تشددسندھ میں پیدا ہوا، بلوچستان میں روشنی پھیلا رہا ہے – فرید بگٹی تحریر: محمد حنیف جمالیمیرپورخاص کے بجلی صارفین کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم پاکستان متحرک، حیسکو حکام سے اہم ملاقاتگزشتہ روز گنداواہ کے علاقے کھاری سے اغواء شدہ شخص کی لاش برآمدکراچی: کرائسٹ دی کنگ سیمنری کی باؤنڈری وال چار دہائیوں بعد ازسرنو تعمیر، قائم مقام اسپیکر سندھ اسمبلی انتھنی نوید کا ترقیاتی کاموں کا جائزہلیفٹیننٹ جنرل(ر) نگار جوہر پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک روشن اور قابلِ فخر باب ہے،اکرام الدینشازیہ نورین لاہور میں آئی اور چھا گئیبلوچستان میں محنت کش طبقہ شدید مسائل کا شکار ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں ، سکینہ عبداللہ خان سے چوہدری سالک حسین کی ملاقاتورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریبقومی امن، ملکی سلامتی اور دفاعِ پاکستان کے لیے نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں گے، محمد اصغر خان کھوسوبحریہ ٹاؤن لاہور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ غنڈہ گردی، اوورسیز پاکستانی چوہدری کاشف عنایت آرائیں کے بچوں پر تشددسندھ میں پیدا ہوا، بلوچستان میں روشنی پھیلا رہا ہے – فرید بگٹی تحریر: محمد حنیف جمالیمیرپورخاص کے بجلی صارفین کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم پاکستان متحرک، حیسکو حکام سے اہم ملاقاتگزشتہ روز گنداواہ کے علاقے کھاری سے اغواء شدہ شخص کی لاش برآمدکراچی: کرائسٹ دی کنگ سیمنری کی باؤنڈری وال چار دہائیوں بعد ازسرنو تعمیر، قائم مقام اسپیکر سندھ اسمبلی انتھنی نوید کا ترقیاتی کاموں کا جائزہلیفٹیننٹ جنرل(ر) نگار جوہر پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک روشن اور قابلِ فخر باب ہے،اکرام الدینشازیہ نورین لاہور میں آئی اور چھا گئیبلوچستان میں محنت کش طبقہ شدید مسائل کا شکار ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں ، سکینہ عبداللہ خان سے چوہدری سالک حسین کی ملاقات

بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا مستقل حل Account-IV سے کیا جائے، مزدور رہنما

پشاور: آل میونسپل ورکرز یونین اور مزدور اتحاد کے زیر اہتمام بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، مالی مشکلات اور بلدیاتی اداروں کے محدود ہوتے ہوئے مالی وسائل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلدیاتی ملازمین کو درپیش مسائل اور ان کے مستقل حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے پاکستان ملی لیبر فیڈریشن خیبرپختونخواہ و آل میونسپل ورکرز یونین کے چیئرمین ریاض خان، جنرل سیکرٹری عابد سہیل، اکبر خان، اول سید، صدیق اللہ مشوانی، نسیم اکبر، نصیر خان، شکیل ہاشم خیل، پریس سیکرٹری شہزاد گل جبکہ مزدور اتحاد کے چیئرمین قیصر باچا، جنرل سیکرٹری فضل محمود اور شاہد مغل نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا مستقل حل Account-IV ہے۔ صوبائی حکومت اس معاملے کو مزید تاخیر کا شکار بنانے کے بجائے فوری طور پر قانون سازی کرے اور بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، بقایاجات، اوور ٹائم اور دیگر قانونی واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے مستقل مالی نظام قائم کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے نزدیک Account-IV کے نفاذ میں کوئی قانونی یا آئینی رکاوٹ موجود ہے تو اس کی واضح نشاندہی کی جائے اور اسمبلی کے ذریعے ضروری قانون سازی کرکے اس رکاوٹ کو دور کیا جائے۔ ملازمین کو ہر ماہ ریونیو کی کمی، فنڈز کی عدم دستیابی اور مالی بحران کا سامنا کروانا کسی صورت مستقل حل نہیں ہوسکتا۔حکومت نے پہلے بلدیات کے وسائل اور اختیارات کم کیے، اب ریونیو بڑھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے مقررین نے کہا کہ اصل مسئلہ بلدیاتی ملازمین نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کی مالی ساخت ہے۔ ایک طرف حکومت TMA سے اپنی Own Source Revenue بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب بلدیاتی اداروں کے کئی اہم شعبے اور آمدن کے ذرائع مختلف اداروں یا کمپنیوں کو منتقل کیے جاچکے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بلدیاتی اداروں کے مالی وسائل محدود کیے جائیں گے تو وہ ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کیسے ادا کریں گے؟صفائی اور پانی کا شعبہ کمپنیوں کے حوالے، پنشن کی ذمہ داری TMA پر کیوں؟ مقررین نے کہا کہ صفائی، سینیٹیشن اور پانی کی فراہمی کے شعبے TMA سے الگ کرکے کمپنیوں کے حوالے کیے گئے، لیکن ان شعبوں سے وابستہ سابقہ ملازمین کی پنشن اور دیگر مالی ذمہ داریوں کا بوجھ بدستور TMA پر موجود ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس شعبے کی ذمہ داری کسی دوسرے ادارے یا کمپنی کو منتقل کی گئی ہے، اس کے ساتھ وابستہ ملازمین کے پنشن اور دیگر سروس فوائد کی ذمہ داری بھی واضح اور منصفانہ طریقے سے طے کی جائے۔بس اڈے اور نقشہ جات کے شعبے بھی مالی وسائل کا حصہ تھےمقررین نے کہا کہ بس اڈوں کے انتظام اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کو بھی بلدیاتی اداروں کے مالی وسائل کے تناظر میں دیکھا جائے۔ اگر بس اڈوں کا انتظام یا آمدن کسی دوسرے ادارے کو منتقل کی گئی ہے تو TMA کو اس کا متبادل مالی ذریعہ فراہم کیا جائے۔اسی طرح نقشہ جات اور بلڈنگ کنٹرول کے اختیارات یا ان سے حاصل ہونے والی فیسوں میں کمی سے بھی بلدیاتی اداروں کی آمدن متاثر ہوئی ہے۔ ایک طرف آمدن کے ذرائع محدود کیے جائیں اور دوسری طرف TMA سے کہا جائے کہ اپنی ریونیو میں اضافہ کرے، یہ پالیسی تضاد ختم ہونا چاہیے۔چونگی اور دیگر مقامی محصولات کے خاتمے کا بھی جائزہ لیا جائےمقررین نے کہا کہ ماضی میں بلدیاتی اداروں کے پاس مختلف مقامی محصولات اور فیسوں کے ذریعے آمدن کے ذرائع موجود تھے۔ اگر چونگی سمیت کسی مقامی محصول کو ختم یا محدود کیا گیا ہے تو حکومت کو اس کے مالی اثرات کا جائزہ لے کر بلدیاتی اداروں کے لیے متبادل مستقل ریونیو فراہم کرنا چاہیے۔اسی طرح پراپرٹی ٹیکس میں بلدیاتی اداروں کے حصے یا شرح میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ TMA کو اس کی ذمہ داریوں کے مطابق مالی وسائل دستیاب ہوسکیں۔پہلے ریونیو کم کرنے کی وجوہات بتائی جائیں، پھر ریونیو بڑھانے کا مطالبہ کیا جائےمقررین نے کہا کہ حکومت پہلے یہ واضح کرے کہ گزشتہ برسوں میں TMA کے کتنے ریونیو ذرائع ختم یا محدود ہوئے، کتنے شعبے دوسرے اداروں کو منتقل کیے گئے اور ان فیصلوں سے بلدیاتی اداروں کی سالانہ آمدن میں کتنا فرق پڑا۔انہوں نے کہا کہ جس ادارے کے وسائل کم کیے جائیں، اسی ادارے سے مالی خودکفالت کا مطالبہ کرنا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔بلدیاتی ملازمین پر مالی بحران کا بوجھ نہ ڈالا جائےمقررین نے کہا کہ بلدیاتی ملازمین نے نہ سروسز کو کمپنیوں کے حوالے کیا، نہ بس اڈے منتقل کیے، نہ نقشہ جات کے اختیارات ختم کیے اور نہ ہی ریونیو پالیسی بنائی۔ اس لیے ان فیصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی بحران کا بوجھ ملازمین پر نہیں ڈالا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ملازمین خیرات نہیں بلکہ اپنا قانونی حق مانگ رہے ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں بروقت تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنائے۔حکومت فوری قانون سازی کرےاجلاس کے شرکاء نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کو Account-IV سے مستقل بنیادوں پر جاری کرنے کے لیے فوری قانون سازی کی جائے۔
اگر Account-IV کے حوالے سے کوئی قانونی یا انتظامی رکاوٹ ہے تو اسے دور کرنے کے لیے اسمبلی میں قانون لایا جائے اور ایسا مستقل مالی نظام بنایا جائے جس کے تحت بلدیاتی ملازمین کو ہر ماہ تنخواہ اور پنشن کے لیے ریونیو بحران کا انتظار نہ کرنا پڑے۔مقررین نے کہا کہ:”بلدیات کو صرف ذمہ داریاں نہیں، وسائل بھی دیے جائیں؛ ریونیو کے ذرائع واپس کیے جائیں، اختیارات بحال کیے جائیں اور بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں و پنشن کا مستقل قانونی حل نکالا جائے۔”اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلدیاتی ملازمین کے جائز حقوق، بروقت تنخواہوں، پنشن اور مستقل مالی تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *