Banner
Daily Sahafat Quetta
October 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ریڈیو پاکستان گلگت اور ہمخیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن کیلئے مذاکرات اور سیاسی عمل کو ترجیح دی جائے،مولانا عبدالقادر لونیانٹرا پارٹی الیکشن کی شفافیت اور تنظیمی نظام مثال بن چکا ہے، قاری مہراللہملاوٹی دودھ اور دہی کے خلاف کارروائی، 8 افراد گرفتارکارکن ہی پارٹی کی اصل طاقت ہیں،اب تنظیم باتوں میں نہیں عملی طور پر میدان میں نظر أئے گی ،جمال شاہ کاکڑنوڈیرو کی معروف شخصیت سیف الدین ہاشمی کراچی میں انتقال کرگئےTENDER NOTICE: DAB/AB NO.380/30-9-2026ایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانیریڈیو پاکستان گلگت اور ہمخیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن کیلئے مذاکرات اور سیاسی عمل کو ترجیح دی جائے،مولانا عبدالقادر لونیانٹرا پارٹی الیکشن کی شفافیت اور تنظیمی نظام مثال بن چکا ہے، قاری مہراللہملاوٹی دودھ اور دہی کے خلاف کارروائی، 8 افراد گرفتارکارکن ہی پارٹی کی اصل طاقت ہیں،اب تنظیم باتوں میں نہیں عملی طور پر میدان میں نظر أئے گی ،جمال شاہ کاکڑنوڈیرو کی معروف شخصیت سیف الدین ہاشمی کراچی میں انتقال کرگئےTENDER NOTICE: DAB/AB NO.380/30-9-2026ایڈوانسڈ لیپروسکوپی سے درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے، ڈاکٹر محمد نور خان وزیرپاکستان نیوی میں پی این کیڈٹ کی بھرتی، رجسٹریشن شروعماحولیاتی تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سیکرٹری ماحولیات نور محمد پرکانی

ریڈیو پاکستان گلگت اور ہم

تحریر: یاسر دانیال صابری

گزشتہ دنوں مجھے ریڈیو پاکستان گلگت جانے کا موقع ملا، جہاں ریڈیو پاکستان گلگت کے ڈائریکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی اور ریڈیو کی موجودہ صورتِ حال، درپیش مسائل، نشریاتی نظام، مقامی زبانوں کے فروغ اور ادارے کی مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد میرے ذہن میں بار بار یہ سوال گردش کرتا رہا کہ جس ادارے نے کئی دہائیوں تک گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں لوگوں تک خبر، معلومات، تعلیم، تفریح اور اپنی زبان کی آواز پہنچائی، آج اس ادارے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟ ریڈیو پاکستان گلگت محض ایک سرکاری نشریاتی ادارہ نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی اجتماعی یادداشت، زبان، ثقافت اور شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق گلگت میں ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا سفر 1970ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا اور بعد ازاں یہ ادارہ باقاعدہ طور پر اپنی نشریاتی خدمات انجام دیتا رہا، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں گلگت اسٹیشن کے آغاز کی تاریخ کے حوالے سے مختلف اندراجات بھی ملتے ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کئی دہائیوں سے ریڈیو پاکستان گلگت اس خطے کے عوام کی خدمت کر رہا ہے۔ ماضی میں جب نہ موبائل فون عام تھا، نہ انٹرنیٹ کی سہولت تھی اور نہ ہی آج کی طرح سوشل میڈیا موجود تھا، اس وقت ریڈیو ہی لوگوں تک خبر اور معلومات پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ تھا۔ آج اگرچہ زمانہ بدل چکا ہے، موبائل فون اور انٹرنیٹ نے معلومات کی دنیا بدل دی ہے، لیکن گلگت بلتستان جیسے پہاڑی اور جغرافیائی طور پر مشکل خطے میں ریڈیو کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ ہمارے بہت سے دور دراز علاقوں میں بجلی کی سہولت مستقل نہیں، بعض مقامات پر موبائل نیٹ ورک کمزور ہے اور انٹرنیٹ ہر شخص کی دسترس میں نہیں، ایسے حالات میں ریڈیو ایک ایسا ذریعہ ہے جو نسبتاً کم وسائل میں لوگوں تک معلومات پہنچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈیو پاکستان گلگت کے ٹرانسمیٹرز، نشریاتی آلات اور کمیونیکیشن کے نظام کو جدید بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر کئی دہائیاں پہلے نصب کیے گئے نظام پر آج بھی بڑی حد تک انحصار کیا جائے تو پھر یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ نشریات گلگت بلتستان کی تمام دور دراز وادیوں اور بستیوں تک واضح اور مؤثر انداز میں پہنچیں گی؟ حکومت اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو چاہیے کہ ریڈیو پاکستان گلگت کے تکنیکی نظام کا جامع جائزہ لے، پرانے ٹرانسمیٹرز اور دیگر آلات کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرے اور FM کے ساتھ ساتھ ایسے مضبوط نشریاتی نظام کو فروغ دے جو دور دراز علاقوں کے سامعین کو بھی بہتر کوریج فراہم کرسکے۔ ریڈیو پاکستان گلگت میں جدید اسٹوڈیو اور ڈیجیٹل آڈیو سسٹم کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے۔ آج دنیا میں ریڈیو صرف ایک مائیک کے سامنے بیٹھ کر پروگرام کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں ایک شہر سے دوسرے شہر براہِ راست آڈیو رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے، ماہرین، طلبہ، اساتذہ، سیاست دانوں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں کو پروگراموں میں شامل کیا جاسکتا ہے، پوڈکاسٹ تیار کیے جاسکتے ہیں اور ریڈیو کی نشریات کو سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا بھر تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ ریڈیو پاکستان گلگت کو بھی اسی جدید نظام کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں تیار ہونے والا مواد صرف گلگت بلتستان تک محدود نہ رہے بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں اور بیرون ملک مقیم گلگت بلتستان کے لوگوں تک بھی پہنچ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان گلگت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہماری مقامی زبانوں اور ثقافت کا تحفظ ہے۔ شینا، بلتی، بروشسکی، وخی اور دیگر علاقائی زبانیں ہماری شناخت ہیں۔ قومیں صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ اپنی زبان، ثقافت، روایات اور تاریخ سے پہچانی جاتی ہیں۔ دنیا میں بہت سی زبانیں وقت کے ساتھ معدوم ہوچکی ہیں اور کئی زبانیں آج بھی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اگر ہم اپنی مادری زبانوں کو نئی نسل تک منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ریڈیو ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ مقامی زبانوں میں خبریں، کرنٹ افیئرز، ادبی پروگرام، بچوں کے پروگرام، لوک داستانیں، موسیقی، ثقافتی پروگرام اور مقامی تاریخ پر مبنی نشریات ہماری نئی نسل کو اپنی زبان اور تہذیب سے جوڑ سکتی ہیں۔ ریڈیو پاکستان گلگت کو چاہیے کہ مقامی زبانوں کے پروگراموں کو مزید وسعت دے اور نوجوان لکھاریوں، شاعروں، ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ اور فنکاروں کو بھی ریڈیو کے پروگراموں میں جگہ دے۔ ہماری زبانیں صرف گھروں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ انہیں جدید میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے ریڈیو پاکستان گلگت ایک مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے۔ میرے دورے کے دوران ریڈیو کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بجٹ کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ادارہ مناسب مالی وسائل کے بغیر جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتا۔ اگر ریڈیو پاکستان گلگت سے معیاری اور جدید نشریات کی توقع ہے تو اسے مناسب بجٹ، جدید آلات اور ضروری انسانی وسائل بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ ریڈیو کے ملازمین بھی اسی نظام کا بنیادی حصہ ہیں، اس لیے ان کی محنت، صلاحیت اور خدمات کے مطابق مناسب معاوضہ اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ میری وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری، سیکریٹری اطلاعات، محکمہ اطلاعات اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ ریڈیو پاکستان گلگت کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس ادارے کی جدید کاری کے لیے باقاعدہ منصوبہ بنایا جائے۔ اگر ہم گلگت بلتستان کی ثقافت، زبان اور شناخت کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان اداروں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا جو اس شناخت کو عوام تک پہنچانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان گلگت نے ماضی میں مشکل حالات میں اپنی ذمہ داری نبھائی ہے اور آج بھی اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک بار پھر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ مضبوط کرے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ اسے پرانے انداز میں چلانے کے بجائے نئے دور کی ضرورت کے مطابق ڈھالا جائے۔ ریڈیو پاکستان گلگت کے لیے جدید ٹرانسمیٹرز، بہتر اسٹوڈیوز، ڈیجیٹل آڈیو سسٹم، مضبوط FM کوریج، آن لائن نشریات، ڈیجیٹل آرکائیو اور مقامی زبانوں کے خصوصی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اس ادارے کو گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی آواز بنانے کے لیے مقامی مسائل، تعلیم، صحت، سیاحت، ماحولیات، زراعت، نوجوانوں، خواتین، ادب اور ثقافت پر زیادہ پروگرام کرنے چاہئیں۔ آج بھی بہت سے لوگ ریڈیو کو سنتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں اور جدید مواصلاتی سہولیات سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہوپاتے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ریڈیو کی آواز صرف آواز نہیں ہوتی، اس کے ساتھ ایک تاریخ، ایک ثقافت اور ایک شناخت جڑی ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان کی پہچان اس کے بلند پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اور قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ اس کی زبانوں، روایات، موسیقی، لوک داستانوں اور ثقافتی ورثے سے بھی ہے۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ ورثہ منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ریڈیو پاکستان گلگت جیسے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کئی دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے اس ادارے کی خدمات کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مستقبل کے لیے ایک نیا راستہ بنایا جائے۔ حکومت پاکستان، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن اور گلگت بلتستان کی حکومت اگر باہمی تعاون سے ریڈیو پاکستان گلگت کی جدید کاری پر توجہ دیں تو یہ ادارہ نہ صرف آج کے سامعین کی ضروریات پوری کرسکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مضبوط ثقافتی اور معلوماتی پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ میری نظر میں ریڈیو پاکستان گلگت کی اصل طاقت اس کی عمارت یا مشینری نہیں بلکہ وہ آواز ہے جو پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان بسنے والے لوگوں تک پہنچتی ہے؛ یہ ہماری زبان کی آواز ہے، ہماری ثقافت کی آواز ہے، ہماری تاریخ کی آواز ہے اور ہماری شناخت کی آواز ہے۔ اس آواز کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب زبان زندہ رہتی ہے تو ثقافت زندہ رہتی ہے، اور جب ثقافت زندہ رہتی ہے تو قوم کی شناخت بھی زندہ رہتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *