Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسرائیل میں سخت انتخابی مقابلہ، نیتن یاہو معمولی برتری کے باوجود حکومت سازی کے لیے کوشاںبچوں پر تشدد ناقابلِ برداشت، 10 سالہ طالب علم کا بازو توڑنے والے استاد سمیت 2 ملزمان گرفتارراولپنڈی: بدبخت شخص کی گھر میں گھس کر پیدائشی طور پر ایب نارمل 15 سالہ بچی سے جنیس زیادتی کی کوششجسٹس منیب اختر نے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیاعسکری قیادت کی ملٹری ڈپلومیسی کی کاوشوں پر عوام کا خراجِ تحسیناگر دہشتگرد سرنڈرکرکےقومی دھارے میں شامل ہو جائیں تو حکومت سے بات کی جاسکتی ہے، چیئرمین اے آرڈی سی خیبرپختونخوانااہل پی ٹی آئی کے طویل دور اقتدار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محرومپاک افغان سرحد پر اشتعال انگیزی، سیکیورٹی فورسز کے بھرپور جواب میں طالبان کی کئی چیک پوسٹیں تباہسعودی شہر طائف کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت اختیارات حاصلاسرائیل میں سخت انتخابی مقابلہ، نیتن یاہو معمولی برتری کے باوجود حکومت سازی کے لیے کوشاںبچوں پر تشدد ناقابلِ برداشت، 10 سالہ طالب علم کا بازو توڑنے والے استاد سمیت 2 ملزمان گرفتارراولپنڈی: بدبخت شخص کی گھر میں گھس کر پیدائشی طور پر ایب نارمل 15 سالہ بچی سے جنیس زیادتی کی کوششجسٹس منیب اختر نے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیاعسکری قیادت کی ملٹری ڈپلومیسی کی کاوشوں پر عوام کا خراجِ تحسیناگر دہشتگرد سرنڈرکرکےقومی دھارے میں شامل ہو جائیں تو حکومت سے بات کی جاسکتی ہے، چیئرمین اے آرڈی سی خیبرپختونخوانااہل پی ٹی آئی کے طویل دور اقتدار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محرومپاک افغان سرحد پر اشتعال انگیزی، سیکیورٹی فورسز کے بھرپور جواب میں طالبان کی کئی چیک پوسٹیں تباہسعودی شہر طائف کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت اختیارات حاصل

ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت اختیارات حاصل

اسلام آباد: قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے بحری قزاقی کو منی لانڈرنگ کے بنیادی جرم کے طور پر شامل کرنے کی منظوری دیدی جس کے تحت 7سال تک قید، ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور جائیداد ضبط کیے جانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
کمیٹی نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو منی لانڈرنگ کے خلاف قانونی اختیارات دینے کی بھی منظوری دے دی جبکہ انسدادِ بدعنوانی کے صوبائی اداروں کو انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات دینے کا معاملہ بھی اصولی طور پر منظور کر لیا گیا تاہم اس پر حتمی عمل درآمد نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کومبیٹنگ آف فنانسنگ آف ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے ایس او پیزکو حتمی شکل دینے سے مشروط ہوگا تاکہ اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

مذکورہ بالا دونوں اقدامات آئی ایم ایف کے دیئے گئے ایکشن پلان کے تحت اٹھائے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کیلئے قائم قومی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا، یہ اجلاس جنرل کمیٹی کی جانب سے انسدادِ منی لانڈرنگ کے نظام کو مزید سخت بنانے کے لیے معاملات پر مزید غور کرنے کی ہدایت کے ایک روز بعد ہوا۔

کمیٹی نے کیش ٹرانزیکشن رپورٹنگ کی حد میں اضافے کی بھی منظوری دی جس کے تحت اس حد کو 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے روزانہ کر دیا گیا ہے۔ اب بینک 30 لاکھ روپے سے زیادہ کے کیش ٹرانزیکشن کی اطلاع فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کو دیں گے تاہم کمیٹی نے سہ ماہی بنیادوں پر کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔

اس صورتِ حال میں لوگ اپنے روزانہ کے نقد لین دین کو 30 لاکھ روپے سے معمولی کم رکھ کر کیش ٹرانزیکشن جاری رکھ سکتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق کمیٹی نے مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹس اور کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس کے تجزیے کے نظام کے تحت کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس کی حد میں مجوزہ تبدیلیوں پر غور کیا اور ان کی منظوری دے دی۔

کمیٹی نے پاکستان میری ٹائم زونز ایکٹ 2023 کی دفعہ 28 کو انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول اوّل میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ اس دفعہ کا تعلق بحری قزاقی سے ہے، جسے اب منی لانڈرنگ کا بنیادی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

قانون کے تحت بحری قزاقی پر سات سال تک قید، ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانہ اور جائیداد کی ضبطی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول چہارم میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی۔

اب اتھارٹی کو انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے تعاون سے یہ اتھارٹی ایسا نظام وضع کرے گی جس کے تحت ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے مشتبہ لین دین کی رپورٹنگ کے پابند ہوں گے۔

فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، اتھارٹی کے تعاون سے، ایسے ورچوئل اثاثہ جات خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو رپورٹنگ اداروں کے طور پر رجسٹر کرنے کا طریقہ کار وضع کرے گا جن کے پاس این او سی موجود ہوگا۔

کمیٹی نے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے اختیارات صوبائی حکام کو منتقل کرنے کے ایجنڈے پر بھی غور کیا تاہم اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے کہ ان اختیارات کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔امکان ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایس او پیز کا جائزہ لیا جائے گا۔

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کی اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بہتری کے لیے تجاویز دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ایس او پیز میں بدعنوانی اور منی لانڈرنگ سے متعلق قانونی دفعات، حقیقی مالکان کی شناخت، متوازی مالیاتی تحقیقات اور اثاثوں کا سراغ لگانے سے متعلق امور شامل ہوں۔

کمیٹی نے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی، ادارہ جاتی صلاحیت، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر خزانہ نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے نظام پر مؤثر عمل درآمد کے لیے باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *