Banner
Daily Sahafat Quetta
October 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جن ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے، انہیں ہتھیار تھما دیے گئے بلوچ خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کا مکروہ دھندہطلبہ سیاست پشتون قومی تحریک کا اہم حصہ ہے ، خوشحال خان کاکڑحکمران غیروں کے ڈالرز کی خاطر عوام کو آپریشنز کی بھینٹ چڑھانا بند کریں،مولانا محمود الحسن قاسمیمدارس کی خودمختاری اور نصاب پر حملے کی صورت میں بھرپور مزاحمت کی جائے گی،مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ:سردار اور نواب کو ختم کرنے کے حوالے سے قرارداد لائی گئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ترہے،نواب محمد خان شاہوانیجمہوریت کے تسلسل سے ہی تمام چیلنجز کا پائیدار حل ممکن ہے ،حافظ حمد اللہعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے ،بخت محمد کاکڑغیر قانونی مقیم افراد کی واپسی سے بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، حمزہ شفقاتدہشت گرد کمانڈر کی ہلاکت موثر حکمت عملی کا ثبوت ہے، ضیاءاللہ لانگورفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام یَس 2026 ایکسپو اور ایوارڈز، نوجوان کاروباری شخصیات اور Innovators کے اعزاز میں تقریبجن ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے، انہیں ہتھیار تھما دیے گئے بلوچ خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کا مکروہ دھندہطلبہ سیاست پشتون قومی تحریک کا اہم حصہ ہے ، خوشحال خان کاکڑحکمران غیروں کے ڈالرز کی خاطر عوام کو آپریشنز کی بھینٹ چڑھانا بند کریں،مولانا محمود الحسن قاسمیمدارس کی خودمختاری اور نصاب پر حملے کی صورت میں بھرپور مزاحمت کی جائے گی،مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ:سردار اور نواب کو ختم کرنے کے حوالے سے قرارداد لائی گئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ترہے،نواب محمد خان شاہوانیجمہوریت کے تسلسل سے ہی تمام چیلنجز کا پائیدار حل ممکن ہے ،حافظ حمد اللہعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے ،بخت محمد کاکڑغیر قانونی مقیم افراد کی واپسی سے بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، حمزہ شفقاتدہشت گرد کمانڈر کی ہلاکت موثر حکمت عملی کا ثبوت ہے، ضیاءاللہ لانگورفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام یَس 2026 ایکسپو اور ایوارڈز، نوجوان کاروباری شخصیات اور Innovators کے اعزاز میں تقریب

جمہوریت کے تسلسل سے ہی تمام چیلنجز کا پائیدار حل ممکن ہے ،حافظ حمد اللہ

جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماءحافظ حمداللہ نے کہا کہ مفاہمت اور جمہوریت کے تسلسل سے ہی تمام چیلنجز کا پائیدار حل ممکن ہے۔انتقامی کارروائیوں اور پارلیمنٹ کی تحقیر سے جمہوری نظام کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ ریاست کے بنیادی ستونوں کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بڑھ رہی ہے انہوں نے کہاکہ ملک اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے مسلط خردہ حکومت نے ملک میں جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی کو شدید زک پہنچائی ہے۔ غیر آئینی اقدامات سے ریاست کے مختلف ستونوں کے درمیان ٹکراو¿ کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے جو ملک کو مزید سنگین آئینی و سیاسی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔سیاسی انتقام اور اداروں کے ٹکراو¿ ملک و قوم کے لیے ہرلحاظ سےتباہ کن ثابت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی دھاروں کے مابین ایک جامع اور سنجیدہ مذاکراتی عمل ناگزیر ہوچکاہے۔ ذاتی و سیاسی انا کو بالائے طاق رکھ کر ایک “میثاقِ جمہوریت” اور “میثاقِ معیشت” پر اتفاقِ رائے قائم کیا جائے تاکہ پالیسیوں میں تسلسل قائم رہ سکے۔ آئین کی بالادستی میں پارلیمنٹ کی وقار اور جمہوریت کی مضبوطی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن بار بار کے تلخ تجربات کو نہ دہرایا جائے انہوں نے کہا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ ملک میں مضبوط آئین اور جمہوریت دیکھنا نہیں چاہتے ہیں آئے دن ملک میں نئی تماشوں سے ملک کو تماشہ گاہ بنایا غیر آئینی اقدامات سے ملک کی اساس کو کمزور کیاجارہا ہے جو قوم وملک کی مفاد میں نہیں باہمی انتشار نے غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل سے ملک مزید دلدل میں پھنس جائینگی۔ چالیس سال سے ملکی سیاست پر آئین کی بالادستی کے بجائے عالمی قوتوں کی راج ہے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو امریت سے زیادہ نقصان سیاسی جماعتوں کے انتقامی سیاست اور انتشار نے پہنچایا ہے اور ان ہی سیاسی جماعتوں نے ہر بار غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل کو سیاست میں مداخلت کے لئے راستہ فراہم کیا ہے۔ غیر جمہوری رویوں نے ملک کو دو لخت کر دیا۔ جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اس نظام نے عملی طور پر ملک کو آئینی بحران سےجمہوری اداروں کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے عوام کا جمہوری عمل اور اس سے جڑے نظام سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ ملک اس وقت جن سنگین معاشی، سیاسی اور آئینی بحرانوں کی زد میں ہے، اس کی بنیادی وجہ حکومت کا غیر جمہوری رویہ ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *