Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضلیکم جنوری 2027 سے بجلی کا نیا ٹیرف 27.31 روپے فی یونٹ ہونے کا امکانبڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفتوزیراعظم بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچکوئٹہ میں زور دار دھماکہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 3 زخمینئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: طارق فضلیکم جنوری 2027 سے بجلی کا نیا ٹیرف 27.31 روپے فی یونٹ ہونے کا امکانبڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفتوزیراعظم بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچکوئٹہ میں زور دار دھماکہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 3 زخمینئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاری

بڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیں

احمدخان اچکزئی

بڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیں

محترم قارئین، اس فانی دنیا میں بڑھاپے کا پیغام بہت گہرا ہے کہ انسان ساری زندگی جن چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے بڑھاپے میں پتہ چلتا ہے کہ اصل خوشی تو بالکل سادہ چیزوں میں تھی۔ ہم جوانی میں سمجھتے ہیں کہ خوشی پیسے میں ہے بڑے گھر میں ہے عہدے میں ہے لوگوں کی واہ واہ میں ہے۔ ہم دوڑتے رہتے ہیں تھکتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جب یہ سب مل جائے گا تو سکون ملے گا۔ پھر ایک عمر آتی ہے جب انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ جن چیزوں کے پیچھے وہ ساری عمر بھاگا وہ تو خوشی تھی ہی نہیں اصل خوشی تو پانچ بہت سادہ چیزوں میں چھپی ہوئی تھی جو ہر وقت اس کے پاس تھیں مگر اس نے انہیں دیکھا ہی نہیں۔ پہلی چیز صحت کا سکون ہے۔ جب تک جسم ساتھ دیتا ہے ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ ہم راتوں کو جاگ کر پیسہ کماتے ہیں ناقص کھانا کھاتے ہیں غصہ پالتے ہیں اور اپنے جسم کو ایک مشین سمجھتے ہیں۔ بڑھاپے میں سب سے بڑی دولت یہی ہے کہ آپ بغیر سہارے کے چل سکیں اپنی نماز خود پڑھ سکیں اپنا وضو خود کر سکیں اپنا کھانا خود کھا سکیں۔ یہی اصل آزادی ہے۔ ایک بوڑھا شخص جو چھڑی کے بغیر مسجد تک چلا جاتا ہے وہ اس جوان ارب پتی سے زیادہ خوش نصیب ہے جو بستر پر لیٹا ہے اور اس کے پاس سب کچھ ہے مگر صحت نہیں۔ اسلام نے اسی لیے صحت کو تندرستی کو ہزار نعمت کہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں صحت اور فراغت۔ دوسری چیز دل کا اطمینان ہے۔ پیسہ کتنا بھی ہو اگر دل میں حسد غصہ اور پچھتاوا ہے تو نیند نہیں آتی۔ ہم جوانی میں دوسروں سے موازنہ کرتے رہتے ہیں فلاں کا گھر مجھ سے بڑا کیوں ہے فلاں کی تنخواہ زیادہ کیوں ہے۔ اسی حسد میں ہم اپنا سکون جلا دیتے ہیں۔ بڑھاپے میں آ کر سمجھ آتا ہے کہ سکون بینک بیلنس میں نہیں دل کی صفائی میں ہے۔ خوشی اس میں ہے کہ آپ کا دل صاف ہو آپ نے کسی کا حق نہ مارا ہو کسی کا دل نہ دکھایا ہو اور رات کو سر رکھتے ہی سکون کی نیند آ جائے۔ قرآن کہتا ہے خبردار دلوں کا اطمینان صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔ جس دل میں اللہ کی یاد ہے وہ محل میں بھی خوش ہے اور جس میں نہیں وہ محل میں بھی بے چین ہے۔ تیسری چیز ایک مخلص رشتہ ہے۔ جوانی میں ہم ہجوم کے پیچھے بھاگتے ہیں ہمارے فیس بک پر پانچ ہزار دوست ہوں ہر محفل میں ہمارا ذکر ہو۔ مگر بڑھاپے میں انسان کو ہجوم نہیں چاہیے ہوتا اسے صرف ایک یا دو ایسے لوگ چاہیے ہوتے ہیں جو اسے واقعی سنتے ہوں۔ بیوی بیٹا بیٹی یا کوئی پرانا دوست۔ بڑھاپے میں انسان کو بڑی محفلیں نہیں ایک مخلص کندھا چاہیے ہوتا ہے جس پر سر رکھ کر وہ کہہ سکے کہ میں تھک گیا ہوں۔ تحقیق کہتی ہے کہ جو بوڑھے لوگ تنہا ہوتے ہیں وہ جلد بیمار ہوتے ہیں اور جو ایک مخلص رشتے میں جڑے ہوتے ہیں وہ زیادہ جیتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے صلہ رحمی کو اتنی اہمیت دی ہے۔ آپ کی ساری کامیابی اس وقت بیکار ہے جب شام کو آپ کے پاس چائے پینے والا کوئی اپنا نہ ہو۔ چوتھی چیز مقصد کا احساس ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سب سے بڑا خلا کام کا نہیں مقصد کا ہوتا ہے۔ ساری عمر ہم دفتر جاتے ہیں لوگ ہمیں سر کہتے ہیں مصروف رہتے ہیں پھر اچانک سب ختم ہو جاتا ہے۔ کرسی چلی جاتی ہے عہدہ چلا جاتا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ اب میری ضرورت کسے ہے۔ یہیں سے ڈپریشن شروع ہوتا ہے۔ خوشی اس میں ہے کہ آپ اب بھی کسی کے کام آ رہے ہیں چاہے پودوں کو پانی دے رہے ہوں نواسوں کو کہانی سنا رہے ہوں محلے کے بچوں کو قرآن پڑھا رہے ہوں یا کسی کو اچھا مشورہ دے رہے ہوں۔ جس انسان کا مقصد ہے وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ ایک مالی جو روز پودے لگاتا ہے وہ نوے سال میں بھی جوان ہے کیونکہ اسے کل کے پھول کا انتظار ہے۔ پانچویں اور آخری چیز اللہ سے قربت اور شکر گزاری ہے۔ آخر میں انسان کو سمجھ آتا ہے کہ جو ملا وہ بھی بہت تھا جو نہیں ملا اس میں بھی حکمت تھی۔ جوانی میں ہم شکوہ کرتے ہیں یہ نہیں ملا وہ نہیں ملا۔ بڑھاپے میں جب ہم پیچھے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سی چیزیں جو ہمیں نہیں ملیں اگر مل جاتیں تو ہمارے لیے نقصان دہ ہوتیں۔ جب انسان شکر کرنا سیکھ لیتا ہے تو شکوہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور یہی شکر گزاری بڑھاپے کی سب سے بڑی خوشی بن جاتی ہے۔ جو شخص ہر نماز کے بعد الحمدللہ کہتا ہے اس کے چہرے پر جو نور ہوتا ہے وہ کسی کروڑ پتی کے چہرے پر نہیں ہوتا۔ آخر میں زندگی کا خلاصہ یہی ہے کہ خوشی کہیں باہر نہیں ہمارے اندر ہمارے پاس موجود چیزوں میں ہی ہے۔ ہم نے ساری زندگی اسے دور تلاش کیا حالانکہ وہ ہمیشہ سے ہمارے قریب تھی۔ صحت دل کا سکون ایک مخلص رشتہ ایک مقصد اور اللہ کا شکر یہی پانچ چیزیں اگر جوانی میں سمجھ آ جائیں تو انسان بڑھاپے سے پہلے ہی خوش ہو جاتا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *