Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوریبلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ غیر قانونی اقدام ہوگا، مولانا عبدالواسعآٹے کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینیترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ،سلیم کھوسہبلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر غور، رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت اجلاسنوجوانوں کی آواز چودھری نعیم کریممیر نادر علی ابڑو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر لیگل مقررامامیہ اسکاؤٹس اوپن گروپ پاکستانچمن میں صرف 5 گھنٹوں کے دوران ہارٹ اٹیک سے 3 افراد جاں بحقسردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، شہری شدید مشکلات کا شکارگنداخہ میں بڑی چوری کی واردات پیٹرول پمپ سے 5 لاکھ روپے چوریبلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ غیر قانونی اقدام ہوگا، مولانا عبدالواسعآٹے کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینیترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ،سلیم کھوسہبلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر غور، رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت اجلاسنوجوانوں کی آواز چودھری نعیم کریممیر نادر علی ابڑو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر لیگل مقررامامیہ اسکاؤٹس اوپن گروپ پاکستان

دیرینہ مطالبہ پورا، ملک امان اللہ خان کاکڑ نے راغہ سلطانزئی روڈ کا افتتاح کردیا

مسلم باغ (خصوصی رپورٹ): مسلم باغ کے دور دراز پہاڑی علاقے کی تاریخ بدل گئی، محرومیوں کے بادل چھٹ گئے۔ 6 اکتوبر کو عوامی نیشنل پارٹی کے قبائلی امور کے سیکرٹری اور چیف آف قبائل ملک امان اللہ خان کاکڑ نے دیرینہ عوامی مطالبے پر تاریخی راغہ سلطانزائی روڈ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
روڈ کے افتتاح کے فوراً بعد چیف آف قبائل ملک امان اللہ خان کاکڑ نے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول گوھر کاریز (راغہ سلطانزائی) کا ایک یادگار دورہ کیا۔ اسکول پہنچنے پر طالبات اور اساتذہ نے معزز مہمان کا انتہائی والہانہ اور پرجوش استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز اور جذباتی تقاریر

تقریب کا آغاز اللہ رب العزت کے بابرکت نام سے ہوا، جس کی سعادت مولوی غلام جان صاحب نے حاصل کی۔ حسبِ روایت، تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد سرورِ دو جہاں ﷺ کی فضیلت اور سیرتِ طیبہ پر جماعت ششم کے ہونہار طالب علم توصیف سعد نے ایک انتہائی جذباتی اور پُرجوش تقریر پیش کی، جس نے سامعین کو مسحور کر دیا۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض اسکول کی اسٹار طالبہ ثمینہ وہاب (جماعت ہشتم) نے انتہائی خوش اسلوبی اور باوقار انداز میں سرانجام دیے۔
پروگرام کے دوران اسکول کی طالبات فریدہ مناف، توصیفہ سعد، اور گل نساء کاکڑ نے اپنی پُراثر تقاریر میں اپنے عظیم محسن، فخرِ پشتون اور باچا خان کے فلسفے کے سچے پیروکار، اور ملک باز محمد خان کاکڑ کے بہادر فرزند مشر ملک امان اللہ خان کاکڑ کو ان کی اس تاریخی کاوش پر زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

خصوصی پشتو ترانہ اور میڈم سعدیہ شاہ کی محنت

اسکول کی ہیڈ مسٹریس محترمہ نے ملک صاحب کی غیرت، فکرِ باچا خان، فکرِ افغانیت، پشتون ولی اور عدم تشدد کے موضوعات پر خصوصی اشعار اور ترانے تیار کروائے تھے۔ طالبات کی ایک ٹیم نے ہیڈ مسٹریس صاحبہ کا لکھا ہوا ایک انتہائی پرجوش پشتو ترانہ پیش کیا، جس کا عنوان تھا:
“ملک صاب خدائی درکڑئ لوئ مقام دئ ملک صاب ستا مقام تہ زموژ پہ زر وارہ سلام دئ”
اس ترانے کو پنڈال میں موجود تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر بے حد سراہا اور معصوم طالبات کو بے پناہ داد و تحسین سے نوازا گیا۔

وقت کی کمی اور ملک امان اللہ خان کاکڑ کا بڑا اعلان

اسکول انتظامیہ نے تقریب کے لیے مجموعی طور پر 28 شاندار آئٹمز تیار کیے تھے، جن میں فخرِ افغان باچا خان، ستر شہید خان عبدالصمد خان شہید، ملی شہید عثمان خان شہید کی قربانیوں، فلسفۂ عدم تشدد، “قلم ہماری بندوق اور کتاب ہمارا سب سے بڑا ہتھیار”، ثقافتی ڈے کے اصل روپ اور “زما وجود وومنہ پاکستان تر قیامتہ درسرہ چلوم” جیسے حب الوطنی سے بھرپور موضوعات پر تقاریر اور ترانے شامل تھے۔ تاہم، بدقسمتی سے وقت کی شدید کمی کے باعث کئی طلبہ و طالبات اپنے دل کی آواز اور تقاریر پیش نہ کر سکے۔ اس موقع پر چیف آف قبائل ملک امان اللہ خان کاکڑ نے بچوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ سے وعدہ کیا کہ وہ بہت جلد ان بچوں کے احساسات اور جذبات سننے کے لیے ایک پورا دن مختص کریں گے اور دوبارہ اسکول تشریف لائیں گے۔

تقریب سے چیف آف قبائل ملک امان اللہ خان کاکڑ، پشتو زبان کے عظیم مصنف پروفیسر صادق ژڑک صاحب، فخرِ سلطانزائی ڈاکٹر غلام صدیق صاحب، مشر حاجی عثمان غنی صاحب،حاجی عبد الغفار درانی صاحب ،حاجی عبدالمالک کاکڑ صاحب، اور اے این پی کے ضلعی صدر رفیع اللہ خان کاکڑصاحب اے این پی جنرل سیکرٹری بسم اللہ کاکڑ، عبدالجبار موریزئی، سالار داؤد خان سلطانزئی سمیت دیگر معززین اور پارٹی کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ راغہ سلطانزئی روڈ کی تعمیر علاقے کے عوام کے لیے ایک اہم ترقیاتی اقدام ہے، جس سے آمد و رفت میں آسانی پیدا ہوگی اور مقامی لوگوں کو سفری سہولیات میسر آئیں گی۔

شرکاء نے روڈ کی تعمیر کو علاقے کی ترقی اور عوامی سہولت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔ تمام مقررین نے روڈ جو اس دور میں کسی بھی معاشرے کے ترقی کے بنیادی لوازمات میں سے ایک ہے پر جب بات کی تو اس کے ساتھ ساتھ اسکول کے بچوں کی تقاریر اور دیگر ایکٹیویٹیز پر اور جس انداز میں طلباء وطالبات نے ملک صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اس کو خراج تحسین پیش کی ان تمام امور پرسکول کی ہیڈ مسٹریس محترمہ سعدیہ شاہ صاحبہ اور ان کے بھائی ماسٹر حاجی سعداللہ خان کاکڑ صاحب کی انتھک محنت کو دل کھول کر سراہا۔ مقررین نے کہا کہ یہ دونوں بہن بھائی، سلطانزائی قوم کے انتہائی شفیق، مخلص اور بزرگ رہنما ماسٹر حاجی محمد شاہ صاحب کے لائق فرزند اور بیٹی ہیں، جن کی قوم کے لیے خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ شہر سے دور، بنیادی سہولیات سے محروم اس پہاڑی علاقے میں بچوں کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں ایسی شاندار دلچسپی دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا ہے۔

طالبات کے لیے نقد انعامات کا اعلان

آخر میں، دور دراز پہاڑی علاقے کے بچوں کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کے لیے معزز مہمانوں نے نقد انعامات کی برسات کر دی۔ چیف آف قبائل ملک امان اللہ خان کاکڑ صاحب نے 20,000 (بیس ہزار) روپے، ممتاز ٹھیکیدار سراج کاکڑ صاحب نے 10,000 (دس ہزار) روپے اور ٹھیکیدار محیب کاکڑ صاحب نے 5,000 (پانچ ہزار) روپے اسکول کے بچوں کے لیے نقد انعام کا اعلان کیا۔ یہ تقریب علاقے کی تاریخ میں علم، امن اور ترقی کا ایک نیا سنگِ میل ثابت ہو گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *