Banner
Daily Sahafat Quetta
September 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بجلی صارفین کیلئے بڑی خبر، 2 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ پر پابندیخواتین کی بڑی مشکل آسان! نادرا کی خصوصی نرمی، بغیر برتھ سرٹیفکیٹ شناختی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقعملک میر وائس خان کاسی کے انتقال پر سردار منظور احمد کاکڑ کا گہرے رنج و غم کا اظہارپاکستان کے مستقبل میں نئے صوبوں کا کردارمصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہیدشہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ جوانی سے قربانی تکشہید اسلام کا آخری سفر اور ایک نڈر ترجمان کی خاموش داستانواشک میں سڑک کنارے سے لاش برآمد، شناخت ہوگئینصیرآباد میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، ایک زخمیسربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا حسین مقدسی کا ڈیرہ اسماعیل خان درازندہ دہشتگرد حملے کی پُرزور مذمتبجلی صارفین کیلئے بڑی خبر، 2 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ پر پابندیخواتین کی بڑی مشکل آسان! نادرا کی خصوصی نرمی، بغیر برتھ سرٹیفکیٹ شناختی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقعملک میر وائس خان کاسی کے انتقال پر سردار منظور احمد کاکڑ کا گہرے رنج و غم کا اظہارپاکستان کے مستقبل میں نئے صوبوں کا کردارمصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہیدشہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ جوانی سے قربانی تکشہید اسلام کا آخری سفر اور ایک نڈر ترجمان کی خاموش داستانواشک میں سڑک کنارے سے لاش برآمد، شناخت ہوگئینصیرآباد میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، ایک زخمیسربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا حسین مقدسی کا ڈیرہ اسماعیل خان درازندہ دہشتگرد حملے کی پُرزور مذمت

مصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہید

 

مصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہید

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی
تاریخ کے صفحات پر کچھ نام وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں پڑتے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی منصب، عہدے یا وقتی شہرت کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی اصل پہچان ان کا کردار، ان کا علم، ان کی جدوجہد اور لوگوں کے دلوں میں ان کی جگہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے زمانے میں زندہ رہتے ہوئے بھی آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بناتے ہیں اور دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی ان کی فکر، ان کا مشن اور ان کے کردار کی خوشبو باقی رہتی ہے۔ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن کی دینی، علمی اور سیاسی تاریخ میں شہیدِ اسلام، مصلحِ امت و مبلغِ اسلام حضرت مولانا محمد حنیفؒ کا نام بھی اسی روشن سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ وہ ایک عالمِ دین تھے، مدرس تھے، خطیب تھے، مبلغ تھے، مصلح تھے، سیاسی و اجتماعی رہنما تھے اور سب سے بڑھ کر عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھنے والے انسان تھے۔ ان کی زندگی کو صرف ایک سیاسی رہنما یا ایک عالم کی زندگی کہہ کر بیان کرنا ان کی شخصیت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ان کی شخصیت میں علم بھی تھا اور عمل بھی، خطابت بھی تھی اور اخلاص بھی، سیاست بھی تھی اور خدمت بھی، شجاعت بھی تھی اور عاجزی بھی۔ یہی اوصاف کسی شخصیت کو عام انسانوں سے ممتاز کرکے تاریخ کا حصہ بناتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید 1957ء میں بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک دینی و علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا نصیر الدین صاحب اپنے وقت کے ایک بڑے عالمِ دین تھے۔ گھر کا دینی ماحول اور والد محترم کی علمی صحبت نے مولانا محمد حنیفؒ کی شخصیت کی ابتدائی بنیادیں مضبوط کیں۔ انہوں نے قرآن کریم، صرف و نحو اور ابتدائی دینی علوم اپنے والد محترم سے حاصل کیے۔ علم کی پیاس نے انہیں مزید آگے بڑھنے پر آمادہ کیا اور اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے خیبر پختونخوا تشریف لے گئے جہاں ہنگو اور دیگر علاقوں کے معروف مدارس میں جید اساتذۂ کرام سے استفادہ کیا اور فقہ، اصولِ فقہ، جغرافیہ، فلکیات، حکمت اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ ان کے لیے علم محض ایک سند یا منصب حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ علم ایک امانت تھا اور اس امانت کو معاشرے تک پہنچانا ایک ذمہ داری۔ یہی سوچ بعد میں ان کی تدریسی، دعوتی، اصلاحی اور سیاسی زندگی کی بنیاد بنی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے وہ مدارس کی انجمنِ طلبہ اور مختلف تنظیمی سرگرمیوں میں غیر معمولی طور پر فعال رہے اور مختلف تنظیموں میں صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔ یہی ابتدائی تنظیمی تجربہ آگے چل کر ان کی سیاسی و اجتماعی قیادت میں نمایاں نظر آیا۔ ایک عالم کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے علم کو دوسروں تک منتقل کرتا ہے۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید نے یہی کام کیا۔ جب تدریس سے وابستہ ہوئے تو ان کی مجلسِ درس علم کے متلاشیوں کے لیے مرکز بن گئی۔ خصوصاً فنِ حدیث میں ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ چمن، کوئٹہ اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے طلبہ ان کے مدرسہ دارالعلوم الاسلامیہ ملت آباد آتے اور ان سے استفادہ کرتے تھے۔ یہ کسی استاد کی معمولی کامیابی نہیں کہ اس کے پاس طلبہ پڑھنے آئیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے شاگرد آگے چل کر علم کی شمع دوسروں تک پہنچائیں۔ مولانا محمد حنیفؒ کے متعدد شاگرد مختلف علاقوں میں دینی خدمات انجام دیتے رہے اور یوں ان کی علمی محنت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔ ان کے درس کا انداز بھی ان کی شخصیت کی طرح منفرد تھا۔ وہ محض کتاب کی عبارت پڑھ کر آگے نہیں بڑھتے تھے بلکہ مسئلے کی حقیقت، اس کے دلائل اور اس کے عملی تقاضوں کو واضح کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی مجلسِ درس میں علمی استفادے کے ساتھ فکری تربیت بھی ہوتی تھی۔ ان کے نزدیک علم انسان کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ تھا، اسی لیے وہ علم کو عملی زندگی سے جوڑنے پر زور دیتے تھے۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی خطابت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فصاحت و بلاغت اور مؤثر اندازِ بیان سے نوازا تھا۔ اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں ان کی گفتگو میں ایسی روانی تھی کہ سامع خود کو ان کے ساتھ مربوط محسوس کرتا۔ ان کے الفاظ میں علمی وزن بھی تھا اور عوامی زبان کی سادگی بھی۔ وہ محض مجمع کو گرم کرنے والے خطیب نہیں تھے بلکہ ان کی تقریر کا مقصد اصلاح، دعوت اور فکری بیداری تھا۔ ان کی گفتگو میں دردِ دل، اخلاص اور امت کی خیر خواہی نمایاں رہتی تھی۔ ان کے بیانات میں صرف مذہبی مسائل نہیں ہوتے تھے بلکہ معاشرتی زندگی، امت کے مسائل، نوجوانوں کی تربیت، اخلاقی اصلاح اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس بھی موجود ہوتا تھا۔ وہ دین کو زندگی سے جدا کرکے نہیں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات تھا جو انسان کے عقیدے سے لے کر اس کے کردار، معاشرت اور اجتماعی رویے تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ صرف مدرسے کے طلبہ کے عالم نہیں تھے بلکہ عام آدمی بھی ان کی گفتگو سے متاثر ہوتا تھا۔ ان کی بات میں علمی وقار کے ساتھ عوامی درد شامل ہوتا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی آواز عام لوگوں کے دلوں تک پہنچتی تھی۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے اصلاحی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں عوام کو مختلف سماجی، معاشی اور امن و امان کے مسائل کا سامنا تھا۔ بلوچستان کے مسائل ان کے سامنے تھے اور وہ انہیں محض ایک تماشائی کی حیثیت سے نہیں دیکھتے تھے۔ وہ مظلوم کے لیے آواز اٹھاتے، بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتے۔ ان کے نزدیک عالمِ دین کی ذمہ داری مسجد اور مدرسے تک محدود نہیں تھی۔ اگر معاشرے میں ناانصافی ہو تو عالم کو بولنا چاہیے، اگر کوئی کمزور ظلم کا شکار ہو تو اس کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے اور اگر نوجوان فکری بھٹکاؤ کا شکار ہوں تو ان کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ ان کی طبیعت میں نرمی، عاجزی، بردباری اور تحمل نمایاں تھا۔ مسکراتا ہوا چہرہ، شفیق اندازِ گفتگو اور لوگوں کی بات سننے کا حوصلہ ان کے مزاج کا حصہ تھا تاہم جہاں حق اور باطل کا مسئلہ آتا وہاں ان کے اندر جلال بھی نمایاں ہوجاتا۔ یہ جلال ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اصول اور حق کے لیے ہوتا تھا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نرم مزاجی کمزوری نہیں اور اصول پسندی بدتمیزی نہیں انسان محبت اور شرافت کے ساتھ بھی حق بات کہہ سکتا ہے۔ عملی سیاست میں حضرت مولانا محمد حنیفؒ نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے پلیٹ فارم سے مخلصانہ اور انتھک جدوجہد کی۔ وہ جماعتی و تنظیمی معاملات میں فعال کردار ادا کرتے رہے اور جے یو آئی پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے اہم منصب پر بھی فائز رہے۔ بلوچستان میں امن، دین کی سربلندی، عوامی حقوق اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہی۔ ان کی سیاست کا محور ذاتی مفاد یا اقتدار نہیں بلکہ دین، عوامی خدمت اور اجتماعی اصلاح تھا۔ ان کی سیاسی زندگی میں کارکنوں سے قربت خاص اہمیت رکھتی تھی۔ 1988ء میں جمعیت طلبہ اسلام چمن کے کارکنان کو وی سی آر اور دیگر فحاشی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات قائم ہوئے تو حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید نے ان کارکنوں کے لیے قانونی چارہ جوئی میں کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو محض سیاسی قوت نہیں بلکہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے تھے۔ قیادت صرف تقریر کرنے یا ہجوم اکٹھا کرنے کا نام نہیں قیادت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ساتھیوں کی مشکلات میں ان کے ساتھ کھڑا ہو۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ کے سیاسی کردار میں یہ وصف نمایاں تھا۔ ان کی فکر کا ایک اہم پہلو اتحادِ امت بھی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مسلمان معاشرہ پہلے ہی مختلف چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں باہمی نفرتیں اور گروہی اختلافات اجتماعی کمزوری کا سبب بنتے ہیں۔ وہ اختلافِ رائے کے حق کو تسلیم کرتے تھے لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے قائل نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اجتماعیت محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک دینی اور اجتماعی ضرورت تھی۔ آج جب ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو ان کی اس سوچ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ معمولی اختلافات بڑے تنازعات میں بدل جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اختلاف کو مزید تیز کردیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو سننے کے بجائے جواب دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید کا طرزِ فکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود تعلق، احترام اور مکالمہ قائم رکھا جاسکتا ہے۔ معاشرے کو نفرت سے نہیں بلکہ علم، برداشت، دلیل اور حسنِ اخلاق سے مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ کی شخصیت میں علم کے ساتھ حلم بھی تھا۔ علم انسان کو عاجزی کی طرف لے جائے تو وہ علمِ نافع بنتا ہے، لیکن اگر علم تکبر پیدا کردے تو اس کی تاثیر کم ہوجاتی ہے۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید کے کردار میں علمی وقار کے ساتھ عاجزی نمایاں تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا شخص خود کو کسی غیر ضروری تکلف میں مبتلا محسوس نہیں کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف طبقات کے لوگ ان سے قربت محسوس کرتے تھے۔ پھر وہ دن آیا جس نے چمن کی تاریخ میں ایک ناقابلِ فراموش سانحہ رقم کردیا۔ 28 ستمبر 2019ء کو چمن کے تاج روڈ پر ایک بزدلانہ موٹر سائیکل بم دھماکے میں حضرت مولانا محمد حنیفؒ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور کوئٹہ منتقل کرتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔ ایک آواز خاموش کردی گئی لیکن ایک فکر کو خاموش نہ کیا جاسکا۔ ایک شخصیت دنیا سے چلی گئی لیکن اس کی یاد، اس کے شاگرد، اس کے خیالات اور اس کا مشن باقی رہ گیا۔ ان کی شہادت پر ملک بھر کی دینی و سیاسی قیادت، جماعتی کارکنوں، علماء، طلبہ اور عوام میں شدید رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ العالیہ نے بھی ان کی شہادت پر انہیں ایک مخلص اور سچے رہنما قرار دیتے ہوئے اس سانحے کو بلوچستان کے امن کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔ ان کا جنازہ چمن کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں شمار ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یہ جنازہ صرف ایک عالمِ دین کا جنازہ نہیں تھا بلکہ عوام کی طرف سے اپنے محسن، رہنما اور خیر خواہ کو آخری سلام بھی تھا۔ اس اجتماع نے یہ واضح کردیا کہ مولانا محمد حنیفؒ نے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ کسی عہدے یا منصب کے ذریعے نہیں بلکہ علم، اخلاص، خدمت اور کردار کے ذریعے بنائی تھی۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ انسان کے دنیا سے چلے جانے کے ساتھ اس کی جدوجہد بھی ختم ہوجاتی ہے لیکن تاریخ اس کے برعکس گواہی دیتی ہے۔ ایک استاد دنیا سے چلا جاتا ہے مگر اس کے شاگرد زندہ رہتے ہیں، ایک مصلح رخصت ہوجاتا ہے مگر اس کی اصلاحی فکر باقی رہتی ہے، ایک خطیب خاموش ہوجاتا ہے مگر اس کے الفاظ لوگوں کے دلوں میں گونجتے رہتے ہیں اور ایک قائد دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے مگر اس کا نظریہ آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتا ہے۔ مولانا محمد حنیفؒ شہید کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ آج ان کے شاگرد موجود ہیں، ان سے محبت کرنے والے موجود ہیں، ان کی علمی میراث موجود ہے، ان کی دینی و اصلاحی خدمات موجود ہیں اور ان کی یاد آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ یہی ان کی زندگی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ مولانا محمد حنیفؒ شہید کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ صرف یہ نہیں کہ ان کی برسی پر تقریریں کی جائیں اور چند لمحوں کے لیے جذباتی کلمات کہہ دیے جائیں۔ اصل خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ان کے مشن کو آگے بڑھایا جائے۔ اگر وہ علم کے داعی تھے تو ہمیں علم پھیلانا ہوگا۔ اگر وہ مبلغِ اسلام تھے تو ہمیں دعوت و اصلاح کا کام کرنا ہوگا۔ اگر وہ مصلحِ امت تھے تو ہمیں معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر وہ اتحاد کے داعی تھے تو ہمیں نفرتوں کے بجائے اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر وہ کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے تو ہمیں اپنے ساتھیوں کی مشکلات میں ان کا ساتھ دینا ہوگا۔ اگر وہ عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے تھے تو ہمیں بھی عوام کے دکھ درد سے بے نیاز نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر وہ حق گوئی کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو ہمیں بھی مصلحتوں کے بجائے اصولوں کو ترجیح دینا ہوگی۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید کے ذکر پر یہ شعر بے اختیار یاد آتا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

دیدہ ور شخصیات کسی معاشرے کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی موجودگی نسلوں کی تربیت کرتی ہے اور ان کی جدائی ایک ایسا خلا چھوڑ جاتی ہے جسے پر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ نے علم کو اپنا سرمایہ، تدریس کو اپنا مشن، دعوت کو اپنی ذمہ داری، اصلاح کو اپنا مقصد، عوامی خدمت کو اپنا فرض اور اتحاد کو اپنی اجتماعی ترجیح بنایا۔ ان کی زندگی ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہے کہ انسان کو صرف اپنے لیے نہیں جینا چاہیے۔ جو شخص صرف اپنی ذات کے لیے جیتا ہے، اس کی زندگی اس کی ذات تک محدود رہتی ہے لیکن جو شخص دوسروں کے لیے جیتا ہے وہ اپنی زندگی کو تاریخ کا حصہ بنا دیتا ہے۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید نے اپنی زندگی کو اسی اجتماعی مقصد کے لیے وقف کیا تھا۔ ان کی شخصیت بلوچستان کے دینی و علمی منظرنامے میں ایک روشن باب ہے اور ان کی خدمات ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو علم، دین، اصلاح اور خدمت کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے والد محترم اور بلوچستان کی قدیم دینی درسگاہ مدرسہ عربیہ بحرالعلوم گھوڑا ہسپتال روڈ چمن کے بانی شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی نور اللہ مرقدہ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ چمن شہر میں خادمِ چمن حضرت مولانا محمد حنیف شہید جیسی شخصیات لاکھوں میں بھی نہیں ملتیں۔ یہ جملہ محض عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے اجتماعی کردار کی ایک گہری گواہی ہے۔ واقعی ایسے کردار روز روز پیدا نہیں ہوتے جو علم کے ساتھ کردار، سیاست کے ساتھ خدمت، قیادت کے ساتھ عاجزی، اختلاف کے ساتھ برداشت اور حق گوئی کے ساتھ اخلاص کو جمع کرسکیں۔ حضرت مولانا محمد حنیفؒ شہید چمن کی مٹی سے اٹھنے والے ایک ایسے فرزند تھے جنہوں نے اپنے علم و کردار سے نہ صرف اپنے شہر بلکہ بلوچستان اور پاک افغان خطے میں اپنی شناخت قائم کی۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کا مشن موجود ہے، ان کی علمی میراث موجود ہے، ان کے شاگرد موجود ہیں، ان کے چاہنے والے موجود ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی یاد موجود ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جسے محفوظ کرنا اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ان شاء اللہ مولانا محمد حنیفؒ شہید کا خون بھی رنگ لائے گا۔ ان کی قربانی بلوچستان میں علم، امن، دین، اتحاد اور عوامی حقوق کی جدوجہد کے لیے نئی نسلوں کو حوصلہ دیتی رہے گی۔ ان کا نام صرف ایک شہید کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے عالم، مبلغ، مصلح، استاد اور سیاسی و اجتماعی رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنی زندگی کو دین، علم، انسانیت اور عوامی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ اللہ تعالیٰ شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد حنیفؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی، دینی، اصلاحی، سیاسی اور اجتماعی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، متعلقین اور تمام محبین کو صبر و استقامت عطاء فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دین، علم، انسانیت اور وطن کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *