Banner
Daily Sahafat Quetta
September 18, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1443/17-9-2026پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1443/17-9-2026پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدم

کابل جان کے مالک کا قتل کیس حل، 16 کروڑ کے تنازع پر قریبی دوست ہی قاتل نکلا، 5 گرفتار

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کوئٹہ عمران شوکت نے ہاشم نورزئی قتل کیس کو چند گھنٹوں میں ہی حل کرکے پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سانحے میں ملوث پانچوں مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ دو ایسے عناصر بھی پکڑے گئے جنہوں نے قتل کے بعد ملزمان کی مدد کی تھی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے بتائے ہوئے مقامات سے واردات میں استعمال ہونے والا کلاشنکوف بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ قتل کے فوری بعد فراری ملزم سعداللہ نورزئی نے نہ صرف مقتول کے گھر والوں کے ساتھ دھرنا دیا، بلکہ فاتحہ خوانی کی محفلوں میں بھی شریک رہا تاکہ اس کی شناخت مشکوک نہ ہو۔

ڈی آئی جی نے اس قتل کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ مرکزی ملزم حکمت اللہ نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ مقتول کی گاڑی کو روزِ حادثہ روکا، اور بغیر کسی مہلت کے فائرنگ کرنا شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ “سفاکیت کا یہ عالم تھا کہ حکمت اللہ نے گاڑی سے اتر کر گرے ہوئے ہاشم پر مزید گولیاں برسائیں” – گویا اسے ایک لمحے کا بھی دھیان نہیں تھا کہ یہ اس کا اپنا ہم نشیں دوست تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس خونی ڈرامے کی جڑ 16 کروڑ روپے کا مالی تنازعہ ہے، جو دو دوستوں کے درمیان تلخیاں پیدا کرنے کا باعث بنا اور آخرکار جان لیوا ثابت ہوا۔ ڈی آئی جی نے تصدیق کی کہ اب تک حکمت اللہ سمیت پانچ ملزمان ہتھیار ڈال چکے ہیں، تاہم مفرور ملزم سعداللہ کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں اس کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں۔

عمران شوکت نے کوئٹہ پولیس کی اس تیز رفتار کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ “جدید سائنسی خطوط پر کی گئی تفتیش نے ہی اس معما کو حل کیا، ورنہ قاتل شاید آج تک بے نقاب نہ ہوتے۔” انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ مفرور کو جلد گرفتار کرکے انصاف کا سلسلہ مکمل کیا جائے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *