Banner

وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا

Share

Share This Post

or copy the link

وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا

وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق پر بڑا فیصلہ جاری کردیا جس میں قرار دیا گیا کہ قبائلی سردار شناختی کارڈ، ڈومیسائل کی تصدیق کے اہل نہیں۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے شناختی کارڈ، ڈومیسائل کا اجراء باقاعدہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔

شناختی دستاویزات کی تصدیق کیلئے قانون میں مجاز حکام کو ہی اختیار دیا گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت کے مطابق کسی قبائلی سردار کو قانون سے ہٹ کر دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

قانون کے مطابق سرداری نظام 1976 میں ختم ہوچکا ہے، قبائل کے سرداری نظام علاقائی روایت ہے اسکی قانونی حیثیت نہیں، علاقائی روایت کی عدالتی توثیق نہیں کی جا سکتی۔

درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لئے اپیل قابل سماعت نہیں ہے،درخواست گزار غلام علی کے مطابق وہ خروٹی قبیلے کا سردار ہے، درخواست گزار کے مطابق اس کے قبیلے کے افراد کیلئے دستاویزات کی تصدیق کروانا ناممکن عمل ہے، شناختی دستاویزات سے محروم کیا گیا۔

متاثرہ شخص ہی عدالت سے رجوع کرنے کا اہل ہے،بلوچستان کے خروٹی قبیلے کے سردار غلام علی نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی۔

وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us